انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: بدامنی کے متاثرین کے لیے ایک ارب ڈالر امداد کی ہنگامی اپیل

چاڈ میں سوڈان سے آئے پناہ گزینوں میں ڈبلیو ایف پی کی طرف سے خوراک تقسیم کی جا رہی ہے۔
© WFP/Julian Civiero
چاڈ میں سوڈان سے آئے پناہ گزینوں میں ڈبلیو ایف پی کی طرف سے خوراک تقسیم کی جا رہی ہے۔

سوڈان: بدامنی کے متاثرین کے لیے ایک ارب ڈالر امداد کی ہنگامی اپیل

انسانی امداد

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت 'یو این ایچ سی آر' اور 64 امدادی اداروں اور سول سوسائٹی کی قومی تنظیموں نے سوڈان سے نقل مکانی کرنے والے 1.8 ملین سے زیادہ لوگوں کو ضروری امداد اور تحفظ کی فراہمی کے لیے ایک بلین ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

سوڈان میں جاری لڑائی سے جان بچا کر ملک چھوڑںے والے ان لوگوں کی 2023 کے آخر تک پانچ ہمسایہ ممالک میں آمد متوقع ہے۔

Tweet URL

اپریل کے وسط میں متحارب فوجی گروہوں کے مابین بحران شروع ہونے کے بعد ملک سے نکلنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق لگائے جانے والے تخمینوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔  

مشرقی افریقہ، شاخِ افریقہ اور گریٹ لیکس کے لیے 'یو این ایچ سی آر'کے علاقائی دفتر کے ڈائریکٹر اور سوڈان کی صورتحال پر پناہ گزینوں کے علاقائی رابطہ کار مامادو ڈیان بالڈے نے کہا ہے کہ اس بحران نے انسانی امداد کی فوری طلب پیدا کی ہے۔ دور دراز کے سرحدی علاقوں میں آنے والے لوگوں کو ناکافی خدمات، ناقص سہولیات اور محدود رسائی کے باعث مایوس کن حالات کا سامنا ہے۔ 

اس امدادی اقدام میں شامل شراکت دار نقل مکانی کر کے آنے والے لوگوں اور ان کے میزبانوں کی مدد کے لیے ہرممکن کوشش کر رہے ہیں تاہم عطیات کی صورت میں خاطرخواہ وسائل کی موجودگی کے بغیر ان کوششوں میں کڑی رکاوٹیں آئیں گی۔ 

امداد کی حالیہ اپیل کی بنیاد ضروریات سے متعلق مئی کے اندازوں کے مقابلے میں دو گنا اضافے کی توقعات پر رکھی گئی ہے۔ 

بے گھری اور بڑھتی ہوئی ضروریات 

ادارے نے بتایا ہے کہ ایک ملین سے زیادہ پناہ گزین، سوڈان سے اپنے ممالک میں واپس آنے والے افراد اور تیسرے ممالک کے شہری پہلے ہی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ 

نقل مکانی کرنے والوں کی اہم ضروریات میں پانی، خوراک، پناہ، طبی خدمات، نقد امداد، بنیادی ضرورت کی امدادی اشیا اور تحفظ کی خدمات شامل ہیں۔ نئے آنے والے لوگوں کی صحت کی سنگین صورتحال پر بھی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ پناہ گزینوں کو وصول کرنے والے متعدد ممالک میں غذائی قلت کی بلند شرح، ہیضے اور خسرے جیسی بیماریاں اور ان کے نتیجے میں اموات سامنے آ رہی ہیں۔ 

'تاخیر کی گنجائش نہیں' 

بالڈے نے کہا کہ بچوں کی ایسی بیماریوں سے اموات کی اطلاعات انتہائی پریشان کن ہیں جن پر شراکت داروں کے پاس خاطرخواہ وسائل کی موجودگی میں پوری طرح قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے امدادی اقدامات میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ 

سوڈان سے آنے والے لوگوں کو موصول کرنے والے ممالک، وسطی جمہوریہ افریقہ، چاڈ، مصر، ایتھوپیا اور جنوبی سوڈان موجودہ بحران شروع ہونے سے پہلے ہی نقل مکانی کرنے والے لاکھوں لوگوں کی میزبانی کر رہے تھے۔ 

انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنے ہاں بھی بہت بڑے مسائل کا سامنا ہے اور اس کے باوجود وہ غیرمعمولی فیاضی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کی میزبانی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ناکافی امداد

عالمی برادری کو میزبان حکومتوں اور لوگوں کے ساتھ یکجہتی کرنے اور امدادی کارروائیوں کے لیے مالی وسائل کی متواتر کمی پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ انتہائی ضروری طور سے درکار امن کے قیام تک ضرورت مند افراد اور معاشروں کی مدد کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔

سوڈان سے آنے والے پناہ گزینوں کی ہنگامی امداد کا منصوبہ 2023 (پی آر پی) مئی 2023 میں شروع ہوا تھا جس پر جون 2023 اور پھر اگست 2023 میں نظر ثانی کی گئی۔ س نظرثانی سے سوڈان سے بیرون ملک نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی تعداد اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران میں غیرمعمولی اور متواتر اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔ 

اگرچہ ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے تاہم عطیہ دہندگان کی جانب سے فراہم کردہ وسائل میں اتنی تیزی سے اضافہ نہیں ہو سکا۔ اس وقت بڑھتی ہوئی ضروریات پر قابو پانے کے لیے درکار وسائل کا صرف 19 فیصد ہی موصول ہو پایا ہے۔