جنگ کے یوکرینی متاثرین کو حصول انصاف میں مشکلات درپیش، ماہرین
یوکرین کے بارے میں اقوام متحدہ کے غیرجانبدار تحقیقاتی کمیشن نے ملک کے اپنے تازہ ترین دورے میں اس جنگ کے متاثرین کے لیے انصاف اور احتساب یقینی بنانے کو کہا ہے۔
دورے سے واپسی پر کمیشن کے سربراہ ایرک موز نے روس کی مسلح افواج کی جانب سے حقوق کی پامالیوں کے بارے میں بتایا جن میں عمداً قتل، غیرقانونی حراستیں، تشدد، جنسی زیادتی اور لوگوں کی ملک سے جبری بیدخلی جیسے واقعات شامل ہیں اور ان میں بہت سے افعال جنگی جرائم کے مترادف ہیں۔
کمیشن کے مطابق یوکرین کے قانونی نظام کو متاثرین کے لیے احتساب اور انصاف کی فراہمی اور ان کے نقصان کا جامع ازالہ یقینی بنانے میں بہت بڑے مسائل کا سامنا ہے۔
ازالے کا پروگرام
اس کمیشن کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے یوکرین پر روس کے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد وہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کی ذمہ داری دی ہے۔ کمیشن نے کہا ہےکہ اس نے لوگوں کے نقصان کے ازالے کے بارے میں ہونے والی بات چیت کا بغور جائزہ لیا ہے۔
کمیشن کے رکن پبلو ڈی گریف کا کہنا ہے کہ ازالے کے اقدامات متاثرین کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ہی وضع کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ازالے کے جامع پروگرام کی تشکیل ایک طویل مدتی عمل ہے جسے قومی تعمیرنو کے پروگراموں اور املاک کی بحالی اور مرمت کے پروگراموں کے ساتھ مربوط کرنے کے علاوہ علیحدہ حیثیت میں بھی چلایا جانا چاہیے۔
ایسے اقدامات کو متاثرین کے ساتھ قریبی مشاورت کے بعد وضع کیا جانا بھی ضروری ہے۔
حقوق کے ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ متاثرین کو ذہنی صحت اور نفسیاتی مدد کی فوری فراہمی بدستور ایک مسئلہ ہے۔
اس کمیشن نے 10 سے زیادہ مرتبہ یوکرین کا دورہ کیا ہے۔ اس کا حالیہ دورہ یوکرین کے علاقے چرکسے سے شروع ہوا اور کیئو میں جاری رہا جہاں ماہرین نے حکام اور جنگ سے متاثرہ شہریوں سے ملاقاتیں کیں۔
جنگی جرائم کی ثبوت
کمیشن نے اگست کے اواخر میں ایک دستاویز جاری کی جس میں بتایا گیا تھا کہ روس کے حکام نے تشدد سے عام اور منظم انداز میں کام لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات میں یہ اطلاع درست ثابت ہونے کی صورت میں ایسے اقدامات انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف قرار دیے جا سکتے ہیں۔
محاذ جنگ سے قریبی شہروں اور دیہات میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات عام دیکھے گئے ہیں جہاں روس کی مسلح افواج کا مقامی رہائشیوں کے ساتھ اکثروبیشتر آمنا سامنا رہتا ہے۔
کمیشن نے مارچ میں اپنی رپورٹ میں بتایا کہ روس کے حکام نے یوکرین اور روس کے بہت سے علاقوں میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور عالمی انسانی قانون کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق روس کی مسلح افواج نے گنجان آبادی والے علاقوں میں دھماکہ خیز ہتھیاروں کے ساتھ حملے کیے ہیں جو شہریوں کو دوران جنگ نقصان اور تکالیف نہ پہنچانے کے اصولوں کی بظاہر کھلیتوہین ہے۔
کمیشن نے روس کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قانون کو پامال کرتے ہوئے ایسے اندھا دھند اور غیرمتناسب حملوں کے ارتکاب اور اس دوران احتیاطی تدابیر اختیار کیے جانے میں ناکامی کی تفصیل قلمبند کی ہے۔