جبری طور پر گمشدہ افراد کو انصاف تک فوری رسائی دینے کا مطالبہ
انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے مقرر کردہ اور علاقائی ماہرین نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں کے متاثرین کو انصاف تک موثر رسائی فراہم کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان متاثرین میں وہ تمام افراد بھی شامل ہیں جنہیں جبری گمشدگی کے کسی واقعے کے نتیجے میں براہ راست نقصان پہنچا ہو۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کے گئے اپنے بیان میں کہا ہے رکن ممالک سے جبری گمشدگیوں کے گھناؤنے جرم کے خاتمے اور ان میں ملوث افراد و اداروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن تیس اگست کے حوالے سے جاری کیے گئے بیان میں انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا ہے کہ متاثرین کی انصاف تک رسائی یقینی بنانے کی غرض سے سچائی کو سامنے لانے کے تمام ضروری اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
ذمہ داروں کا احتساب
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مضبوط پیغام دینے کے لیے ہر انتظامی سطح پر انصاف تک خاطرخواہ رسائی یقینی بنانے اور جبری گمشدگیوں کے ذمہ داروں کا احتساب ضروری ہے کہ جبری گمشدگی انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے تحت جرم ہے اور اس کی نہ تو اجازت دی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ متاثرین انصاف کے لیے اپنی روزانہ جدوجہد میں عام طور پر خطرات، دھمکیوں، انتقامی کارروائیوں اور بدنامی کا سامنا کرتے ہیں۔ ’اس صورتحال کا خاتمہ ہونا چاہیے اور متاثرین کو بلامعاوضہ قانونی مدد مہیا کی جانی چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے مالی حالات انصاف کےحصول کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔‘
معاہدوں کی توثیق
انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر قائم کردہ کمیٹی، جبری اور بلاارادہ گمشدگی پر ورکنگ گروپ، انسانی حقوق پر بین الاقوامی کنونشن، انسانی اور عوامی حقوق پر افریقی کمیشن میں سزائے موت، ماورائے عدالت اور ناجائز ہلاکتوں پر ورکنگ گروپ کے چیئرپرسن اور آسیان کے بین الحکومتی کمیشن برائے انسانی حقوق میں انڈونیشیا اور ملائشیا کے نمائندوں نے تمام ممالک سے کہا ہےکہ وہ کسی تاخیر کے بغیر جبری گمشدگیوں کے تمام متاثرین کے لیے انصاف کے فروغ کے وعدے کریں اور جبری گمشدگیوں کے معاملے پر بین الاقوامی اور علاقائی معاہدوں کی توثیق کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انصاف تک رسائی کی محض زبانی یقین دہانی کافی نہیں بلکہ ایسے ٹھوس اقدامات کے ذریعے اس کی عملی ضمانت دی جانی چاہیے جن سے متاثرین اور ان کے نمائندوں کی انصاف کے حصول کے پورے عمل میں حقیقی اور بامعنی شرکت ممکن ہو سکے۔