انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کووڈ۔19 سے نمٹنے کے لیے نئے ذرائع و ٹیکنالوجی ضروری: ٹیڈروز

بنکاک کی ایک لیبارٹری کا عملہ نمونوں کا جائزہ لے رہا ہے۔
WHO/P. Phutpheng
بنکاک کی ایک لیبارٹری کا عملہ نمونوں کا جائزہ لے رہا ہے۔

کووڈ۔19 سے نمٹنے کے لیے نئے ذرائع و ٹیکنالوجی ضروری: ٹیڈروز

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کووڈ۔19 سے نمٹنے کی ٹیکنالوجی، متعقلہ علم اور طبی معلومات تک رسائی بہتر بنانے کی شراکت میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ اس وائرس کے خلاف جنگ جاری رہنی چاہیے۔

'کووڈ۔19 ٹیکنالوجی تک رسائی کے ذرائع کا مجموعہ' (سی۔ٹیپ) نامی یہ شراکت 2020 میں شروع کی گئی تھی جس کا مقصد صحت عامہ کے لیے شفاف اور عمومی اجازت ناموں کے معاہدوں کے ذریعے کووڈ۔19 پر قابو پانے کے طبی سازوسامان تک بروقت، مساوی اور سستی رسائی میں سہولت دینا تھا۔ 

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے اس حوالے سے کہا ہے کہ کووڈ۔19 بیماری موجود رہے گی اور دنیا کو اس کی روک تھام، اس کے تشخیصی معائنوں اور علاج معالجے کے لیے ذرائع بھی ہر وقت درکار ہوں گے۔ 

'سی۔ٹیپ' کے ذریعے 'ڈبلیو ایچ او' اور شراکت دار ان ذرائع کو ہر جگہ ہر فرد کے لیے قابل رسائی بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ انہون ںے کہا کہ وہ ان اجازت ناموں کے حامل ایسے اداروں کے قائدانہ کردار کے مشکور ہیں جنہوں نے اس ٹیکنالوجی کے فروغ میں کردار ادا کیا ہے۔ 

16 اگست 2023 تک دنیا بھر میں کووڈ۔19 سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 769,806,130 ہو چکی تھی جن میں 6,955,497 افراد کی موت واقع ہو گئی۔ اس بیماری سے بچاؤ کے لیے اب تک ویکسین کی 13.5 بلین خوراکیں تقسیم کی جا چکی ہیں۔ 

بیماری کے خلاف کوششوں کا فروغ

'سی۔ٹیپ' میں شمولیت اختیار کرنے والے تین اداروں میں نجی ویکسین ساز ادارہ میڈیجین ویکسین بائیولوجکس کارپوریشن، سپین کی نیشنل ریسرچ کونسل اور یونیورسٹی آف چلی شامل ہیں۔ 

میڈیجین ویکسین بائیولوجکس کارپوریشن کووڈ۔19 ویکسین کے حوالے سے اپنے ایجادی ملکیتی حقوق (پیٹنٹ) کی پیشکش کر رہا ہے جس نے سات ممالک میں اس ویکسین کی تین ملین سے زیادہ خوراکیں مہیا کی ہیں۔ 

اسی طرح سپین کی نیشنل ریسرچ کونسل کووڈ۔19 ویکسین کے بنیادی نمونے کا لائسنس فراہم کر رہی ہے اور یونیورسٹی آف چلی اینٹی باڈیز کو بے اثر بنانے کے تعین سے متعلق ٹیکنالوجی دے رہی ہے۔ 

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ان تین نئے اجازت ناموں کے اضافے سے کووڈ۔19 کے خلاف جنگ میں مجموعی کوششوں کو اہم فروغ ملے گا۔ نئے اجازت نامے عالمگیر، شفاف اور ادویات اور طبی سازوسامان بنانے والے تمام اداروں کے لیے عام ہیں۔ 

'سی۔ٹیپ' کی ویب سائٹ پر ان اجازت ناموں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔