انسانی کہانیاں عالمی تناظر

صاف اور صحتمند ماحول بچوں کا حق ہے، اقوام متحدہ

پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے جیکب آباد میں بچے سیلاب کے آلودہ پانی سے گزر کر گھر جارہے ہیں۔
© UNICEF/Saiyna Bashir
پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے جیکب آباد میں بچے سیلاب کے آلودہ پانی سے گزر کر گھر جارہے ہیں۔

صاف اور صحتمند ماحول بچوں کا حق ہے، اقوام متحدہ

موسم اور ماحول

بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں جن میں حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ شدت اختیار کرتے موسمیاتی بحران میں لڑکوں اور لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کریں۔

اس حوالے سے جاری کردہ 'عمومی تبصرہ 26' میں پہلی مرتبہ کمیٹی نے صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول میں رہنے سے متعلق بچوں کے حق کی توثیق کی ہے۔

اس سے بچے کے حقوق پر اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت ریاستی ذمہ داریوں کی جامع تشریح سامنے آتی ہے۔ 196 ممالک اس کنونشن کی توثیق کر چکے ہیں۔ 

1989 میں طے پانے والا یہ معاہدہ بچوں کے حقوق کا خاکہ پیش کرتا ہے جس میں ان کے زندگی، صحت، پینے کے صاف پانی، بقا اور ترقی کے حقوق شامل ہیں۔ 

عمومی تبصرہ کسی مخصوص مسئلے یا کسی معاملے پر قانون سازی سے بچوں کے حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات سے متعلق قانونی رہنمائی مہیا کرتا ہے اور ایسا تازہ ترین تبصرہ بچوں کے ماحولیاتی حقوق کے بارے میں ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی پر خاص توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ 

بچوں کی زندگی اور مستقبل کا تحفظ

کمیٹی کے رکن فلپ جیف نے حکومتوں اور کاروباری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی زندگیوں اور مستقبل کو تحفظ دینے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں بچے اہم رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق سے متعلق کمیٹی نے عمومی تبصرہ 26 کے ذریعے ناصرف بچوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے بلکہ اس سے ماحول کے حوالے سے بچوں کے ایسے حقوق کی بھی وضاحت ہوتی ہے جن کا ریاستی فریقین کو احترام کرنا چاہیے اور انہیں تحفظ دینے کے علاوہ ان کی فوری تکمیل کرنی چاہیے۔ 

احتساب، آج اور کل

عمومی کمیٹی موسمیاتی ہنگامی صورتحال، حیاتیاتی تنوع کے خاتمے اور بڑھتی ہوئی آلودگی سے نمٹنے کے بارے میں صراحت سے بات کرتی ہے۔ 

اس نے واضح کیا ہے کہ ممالک ناصرف بچوں کے حقوق کو فوری نقصان سے تحفظ دینے کے ذمہ دار ہیں بلکہ آج اٹھائے گئے عملی اقدامات یا کسی بے عملی کے باعث مستقبل میں ان کے حقوق کی قابل قیاس پامالیوں کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔

مزید برآں یہ کمیٹی واضح کرتی ہے کہ ممالک کا اپنی سرحدوں کے علاوہ بیرون ملک ماحولیاتی نقصان کا باعث بننے پر محاسبہ کیا جا سکتا ہے۔ 

بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کی توثیق کرنے والے ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری اقدامات کریں جن میں معدنی ایندھن کا بتدریج خاتمہ، توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی جانب منتقلی، فضائی معیار کو بہتر بنانا، صاف پانی تک رسائی کو یقینی بنانا اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ شامل ہیں۔

دوہزار اکیس میں سکاٹ لینڈ میں موسمیاتی بحران پر ہونے والی کانفرنس کاپ 26 کے دوران بچے بہتر ماحول اور مستبقل کے لیے ایک مظاہرے میں شریک ہیں۔
© UNICEF/Howard Elwyn-Jones
دوہزار اکیس میں سکاٹ لینڈ میں موسمیاتی بحران پر ہونے والی کانفرنس کاپ 26 کے دوران بچے بہتر ماحول اور مستبقل کے لیے ایک مظاہرے میں شریک ہیں۔

مستقبل کی جانب اہم قدم

رہنما ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی فیصلہ سازی میں بچوں کے خیالات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ان میں بچوں کے لیے ماحولیاتی تعلیم کے اہم کردار پر بھی زور دیا گیا ہے۔ 

انسانی حقوق اور ماحولیات پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار ڈیوڈ بوئڈ نے عمومی تبصرہ 26 کو اس امر کے اعتراف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے کہ ہر بچے کا صاف، صحند مند اور پائیدار دنیا میں جینے کا حق ہے۔ 

ان کا کہنا ہےکہ اب حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ان متاثر کن الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے عالمگیر ماحولیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ 

عمومی تبصرہ 26 عالمگیر اور بین النسل بات چیت کا نتیجہ ہے جس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک، بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں، انسانی حقوق کے قومی اداروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور خود بچوں سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔ 

بچوں کے حقوق کا بحران

اقوام متحدہ کی کمیٹی کی شراکت دار اور سوئزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی تنظیم Terre des Hommes نے کثیر سطحی فریقین کے ساتھ ایک عمل کی قیادت کی جس میں تبصرے کے متن کی تیاری کے لیے آگاہی کی غرض سے ہونے والی آن لائن مشاورتوں میں بچوں کی آرا بھی لی گئیں۔ 

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بھی اس کام میں تکنیکی مہارت فراہم کی اور مشاورتی عمل کے لیے بچوں کی آرا کے حصول میں مدد دی۔  

عمومی تبصرہ 26 موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے کے تحت موسمیاتی اقدام کے وقت اپنے بچوں کے حقوق کے احترام، فروغ اور انہیں مدنظر رکھنے سے متعلق ممالک کے وعدوں کی تشریح میں مدد دیتا ہے۔ 

بچوں کے حقوق اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کے لیے وکالتی امور سے متعلق یونیسف کی مشیر خصوصی پالوما ایسکوڈیرو کا کہنا ہے کہ موسمیاتی بحران دراصل بچوں کے حقوق کا بحران ہے۔ 

دنیا کے ہر کونے میں ہر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بچے کے حقوق کو تحفظ دے جن میں خاص طور پر ایسے ممالک میں رہنے والے لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں جن کا یہ مسئلہ پیدا کرنے میں بہت کم کردار ہے لیکن وہ خطرناک سیلابوں، خشک سالی، طوفانوں اور گرمی کی لہروں کی صورت میں اس کے بدترین اثرات جھیل رہے ہیں۔