انسانی کہانیاں عالمی تناظر

تنازعات کے شکار علاقوں میں داعش اب بھی خطرہ ہے، ماہرین

عراقی شہر موصل کے جنوب میں نقل مکانی پر مجبور ایک خاندان محفوظ پناہ کی تلاش میں دربدر پھر رہا ہے۔
© UNICEF/Alessio Romenzi
عراقی شہر موصل کے جنوب میں نقل مکانی پر مجبور ایک خاندان محفوظ پناہ کی تلاش میں دربدر پھر رہا ہے۔

تنازعات کے شکار علاقوں میں داعش اب بھی خطرہ ہے، ماہرین

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی کے کامیاب اقدامات کے باوجود جنگ زدہ علاقوں اور ان کے ہمسایہ ممالک میں شدت پسند تنظیم داعش اور اس سے منسلک گروہ تاحال سنگین خطرہ ہیں۔

انسداد دہشت گردی سے متعلق اقوام متحدہ کے دو اعلیٰ سطحی عہدیداروں نے سلامتی کونسل کے ارکان کو داعش کے بارے میں سیکرٹری جنرل کی تازہ ترین رپورٹ پیش کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو علاقے مسلح تنازعات سے پاک ہیں وہاں یہ خطرہ زیادہ نہیں ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کے دفتر (یو این او سی ٹی) کے سربراہ ولاڈیمیر وورونکوو نے کونسل کو بتایا کہ یہ تجزیاتی فرق ان گروہوں کے کام کرنے اور خود کو تبدیل کرنے کی پیچیدہ، حالات سے مخصوص اور متحرک نوعیت اور عالمی امن و سلامتی پر ان کے اثرات کو مبہم بنا سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور اس کی روک تھام کے لیے طویل مدتی عزم اور متواتر و مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

افریقہ میں داعش کی توسیع اور حملے 

انہوں ںے کہا کہ افریقہ کے متعدد حصوں میں داعش کی متواتر توسیع اور اس کا بڑھتا ہوا تشدد اور اس سے لاحق خطرات سنگین تشویش کا باعث ہیں۔ 

ساحل خطے میں داعش سے منسلک گروہ تیزی سے خودمختار ہو رہے ہیں اور مالی، برکینا فاسو اور نیجر میں ان کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔  

انہوں نے مزید کہا کہ اس گروہ اور خطے میں القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں کے مابین تنازعات اور نیجر میں فوجی بغاوت کے بعد غیر یقینی حالات پیچیدہ اور کثیر رخی مسائل سامنے لائے ہیں۔ 

سوڈان میں جاری لڑائی اور عدم استحکام نے بھی وہاں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمی کی جانب ازسرنو توجہ دلائی ہے۔ 

جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں بھی حملوں میں اضافہ ہوا ہے جہاں ملک کے شورش زدہ مشرقی علاقے میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

افغانستان میں مسائل 

افغانستان کی صورتحال بھی تیزی سے پیچیدہ رخ اختیار کر رہی ہیں جہاں ہتھیار اور گولہ بارود دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کے خدشات حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔ 

اطلاعات کے مطابق ملک میں داعش کی کارروائی کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ گروہ طالبان اور بین الاقوامی اہداف کے خلاف اپنے حملوں میں مزید جدت لے آیا ہے۔ 

اس کے علاوہ ملک میں تقریباً 20 مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی و سرگرمی اور طالبان کی جانب سے اختیار کردہ جابرانہ اقدامات، پائیدار ترقی کی عدم موجودگی اور سنگین انسانی صورتحال نے خطے اور اس سے پرے نمایاں مسائل پیدا کیے ہیں۔ 

انسداد دہشت گردی میں کامیابیاں 

ولاڈیمیر وورونکوو نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے کامیاب اقدامات کا تذکرہ بھی کیا جن میں داعش کی مالی وسائل کے حصول کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے میں حاصل ہونے والی کامیابی بھی شامل ہے۔ 

ان کوششوں کے نتیجے میں داعش کا اپنا تنظیمی ڈھانچہ کمزور پڑ گیا ہے اور وہ القاعدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غیرمرتکز انداز میں دوسرے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر مجبور ہو گئی ہے جو عملی طور پر زیادہ خودمختار ہو گئے ہیں۔

سی ٹی ای ڈی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نتالیہ گیرمین ںے کہا کہ رکن ممالک کو دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور اس کوشش کے لیے بین الاقوامی تعاون کا مظاہرہ کرنے کی ذمہ داری بھی یاد دلانا ہو گی۔
UN Photo/Evan Schneider
سی ٹی ای ڈی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نتالیہ گیرمین ںے کہا کہ رکن ممالک کو دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور اس کوشش کے لیے بین الاقوامی تعاون کا مظاہرہ کرنے کی ذمہ داری بھی یاد دلانا ہو گی۔

نائجیریا میں آئندہ کانفرنس 

ولاڈیمیر وورونکو نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون انسداد دہشت گردی کی کامیاب کوششوں میں بدستور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ 

دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی بنیاد مضبوط طور سے ایسی سیاسی حکمت عملی پر رکھی جانی چاہیے جن سے ایسے تنازعات کو حل کرنے میں مدد ملے جو دہشت گردی کو سب سے زیادہ ہوا دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ سلامتی اور روک تھام کے اقدامات کے مابین مزید تضمین بھی درکار ہے۔ 

انہوں نے آئندہ برس نائجیریا میں ہونے والی انسداد دہشت گردی کانفرنس کا تذکرہ بھی کیا جو ان کے دفتر اور نائجیریا کی حکومت کے زیراہتمام منعقد کرائی جا رہی ہے۔ یہ کانفرنس اس مسئلے پر عالمی تعاون کو بڑھانے اور براعظم میں دہشت گردی سے نمٹنے کا موقع ہو گی۔ 

شام کے کیمپوں سے واپسی 

سلامتی کونسل کی انسداد دہشت گردی کمیٹی (سی ٹی سی) کے سیکرٹریٹ 'انسداد دہشت گردی کی کمیٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹوریٹ' (سی ٹی ای ڈی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نتالیہ گیرمین نے اس رپورٹ میں بتائے گئے چار اہم رحجانات پر بات کی ہے۔ 

ان میں حکومتوں کی جانب سے اپنے شہریوں کو شمال مشرقی شام میں قائم کیمپوں سے واپس لانے کے لیے جاری کوششیں بھی شامل ہیں۔ ان کیمپوں میں ہزاروں ایسے لوگ مقیم ہیں جن کے داعش کے ساتھ مبینہ تعلقات رہے ہیں اور ان میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے۔ 

انہوں ںے کہا کہ رکن ممالک کو دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور اس کوشش کے لیے بین الاقوامی تعاون کا مظاہرہ کرنے کی ذمہ داری بھی یاد دلانا ہو گی۔ 

احتساب اور انصاف 

آخری نکتے پر بات کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ اقوام متحدہ نے داعش کو اس کے جرائم پر جوابدہ ٹھہرانے کی کوششوں میں اضافہ کیا ہے۔ 

مثال کے طور پر 'سی ٹی ای ڈی' اقوام متحدہ کے ماہرین قانون کی شراکت سے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے ارتکاب پر انصاف ممکن بنانے کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے پیشہ ور ماہرین کے تجربات اور سول سوسائٹی کے نقطہ نظر سے یہ بات واضح ہے کہ صرف احتساب اور انصاف کے ذریعے ہی اس خوف اور تباہی سے نمٹنے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے جو دہشت گردی کے نتیجے میں افراد، معاشروں اور ممالک پر مسلط کی جاتی ہے۔