انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مصنوعی ذہانت ملازمتوں کے خاتمے کی بجائے بہتری لائے گی: آئی ایل او

آئی ایل او کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی سے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی دو گنا زیادہ ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
© Unsplash/Steve Johnson
آئی ایل او کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی سے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی دو گنا زیادہ ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت ملازمتوں کے خاتمے کی بجائے بہتری لائے گی: آئی ایل او

پائیدار ترقی کے اہداف

عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے ماہرین نے اس ہفتے شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نوکریوں کے لیے خطرہ نہیں ہے، اس کے بجائے یہ انہیں مزید بہتر بھی بنا سکتی ہے۔

یہ جائزہ پیشوں اور کاموں پر تخلیقی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے اثرات اور اس کے نوکریوں کی تعداد اور معیار پر مضمرات کے حوالے سے ایک عالمگیر تجزیہ مہیا کرتا ہے۔

Tweet URL

اسے 'آئی ایل او' کے تین سماجی ماہرین نے لکھا ہے جو پیش گوئی کرتے ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی ممکنہ طور پر کام کو مزید بہتر بنائے گی۔ اس کی بدولت بعض کاموں کی خودکار انداز میں انجام دہی نوکریوں کے لیے خطرہ نہیں ہو گی اور نہ ہی یہ انسان کا پورا کردار سنبھالے گی۔ 

ٹیکنالوجی کی ترقی 

'چیٹ جنریٹڈ پری ٹرینڈ ٹرانسفارمر' یا چیٹ جی پی ٹی کے گزشتہ نومبر میں آغاز کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت کے فوائد اور خامیوں کے بارے میں دنیا بھر میں بحث چھڑ چکی ہے۔

یہ چیٹ بوٹ کسی سوال کا فوری جواب حاصل کرنے اور متن کی تیاری میں مدد دیتا ہے۔ کمپنیاں اور عام لوگ اسے کئی طرح سے استعمال کر رہے ہیں جن میں کام کو منظم کرنا، سوالات کے فوری جواب دینا، کوڈ تحریر کرنا، مضامین لکھنا، چھٹیوں کی منصوبہ بندی اور سوشل میڈیا کے لیے مواد کو فرد کی ضرورت کے مطابق بنانا شامل ہیں۔ 

آئی ایل او کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ دفتری کام کا ٹیکنالوجی کے ساتھ سب سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے۔ دوسری جانب منظمین، پیشہ ور افراد اور تکنیکی شعبے کے لوگوں کو مصنوعی ذہانت کے باعث بے روزگار ہونے کا بہت کم خطرہ ہے۔ 

اثرات کا جائزہ 

اس جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ترقی کے مختلف درجوں پر موجود ممالک پر اس کے اثرات میں نمایاں فرق ہے جس کا تعلق موجودہ معاشی ڈھانچوں اور ٹیکنالوجی میں اِس وقت پائی جانے والی کمی سے ہے۔

امیر ممالک میں مجموعی باروزگار لوگوں کی 5.5 فیصد تعداد کو تخلیقی مصنوعی ذہانت کے خودکار اثرات سے واسطہ پڑ سکتا ہے جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ خدشہ محض 0.4 فیصد کے قریب ہے۔ 

رپورٹ کے مصںفین نے بتایا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا امکان تمام ممالک میں برابر ہے اور درست پالیسیوں کی بدولت تخلیقی مصںوعی ذہانت تمام ترقی پذیر ممالک کو اہم فوائد پہنچا سکتی ہے۔ 

صنفی پہلو

تاہم اس کے ممکنہ اثرات مرد و خواتین کے حوالے سے نمایاں طور پر مختلف ہو سکتے ہیں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی سے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی دو گنا زیادہ ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کی وجہ دفتری کام میں خواتین کی حد سے زیادہ نمائندگی ہے اور خاص طور پر بلند اور متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک میں خواتین کی بڑی تعداد دفتری کام کرتی ہے۔ 

علاوہ ازیں، معیشتوں کی ترقی کے دوران دفتری نوکریاں روایتی طور پر خواتین کے لیے روزگار کا ایک اہم ذریعہ رہی ہیں تاہم تخلیقی مصنوعی ذہانت کے بڑے پیمانے پر استعمال کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مخصوص دفتری نوکریاں شاید کم آمدنی والے ممالک میں کبھی پیدا نہ ہوں۔ 

انسان کی اہمیت برقرار

رپورٹ کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ تخلیقی مصنوعی ذۃانت کے سماجی معاشی اثرت کا بڑی حد تک دارومدار اس بات پر ہے کہ اسے کیسے اختیار کیا جاتا ہے اور اس کا نفاذ کیسے عمل میں آتا ہے۔ 

مصنفین کا کہنا ہے کہ ایسے جائزوں کی بنیادی قدر واضح اندازوں میں ںہیں بلکہ تبدیلی کی ممکنہ سمت کو سمجھنے میں ہوتی ہے۔

پیش اقدامی کے ذریعے ایسی پالیسیاں وضع کرنے میں ان باتوں کو دیکھنا ضروری ہے جن کی بدولت اس نئی تبدیلی کو سراسر نقصان دہ سمجھنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کی جانب منظم، شفاف اور  مشاورتی منتقلی میں مدد ملے۔ 

رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تجزیے میں مختلف پیشوں پر مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بتایا گیا ہے تاہم ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی کے نتائج پہلے سے طےشدہ نہیں ہیں۔ ایسی ٹیکنالوجی سے کام لینے کے فیصلے کے پیچھے انسانوں کا ہاتھ ہے اور یہ انسان ہی ہیں جنہیں ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی کے اس عمل کی رہنمائی کرنا ہے۔