انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اسرائیل فلسطین تنازعہ میں 2005 کے بعد اموات کی ریکارڈ تعداد

United Nations سلامتی کونسل کے اجلاس کا ایک وسیع منظر پیش رفت میں ہے، جس میں ایک بڑی اسکرین سامنے ایک اسپیکر دکھا رہی ہے۔
UN Photo/Loey Felipe مشرقی وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے ٹور وینزلینڈ نے سلامتی کونسل کے ارکان سے خطاب کر رہے ہیں۔

اسرائیل فلسطین تنازعہ میں 2005 کے بعد اموات کی ریکارڈ تعداد

امن اور سلامتی

مشرقی وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے ٹور وینزلینڈ نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ اس برس احتجاج، جھڑپوں، عسکری کارروائیوں، حملوں اور دیگر واقعات میں اب تک 200 سے زیادہ فلسطینی اور تقریباً 30 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ خطے میں گزشتہ برس ہونے والی اموات سے زیادہ اور 2005 کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے جس سے حالیہ مہینوں میں پورے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں دکھائی دینے والے تشویش ناک رحجانات کی عکاسی ہوتی ہے۔

Tweet URL

یروشلم سے سلامتی کونسل میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینی اور اسرائیلی تقریباً روزانہ ہونے والے تشدد میں ہلاک و زخمی ہوئے ہیں جن میں اس بریفنگ سے چند ہی گھنٹے پہلے پیش آنے والا واقعہ بھی شامل ہے جب مغربی کنارے میں فائرنگ کے واقعے میں ایک اسرائیلی ہلاک ہو گیا۔

بڑھتی مایوسی تشدد کا سبب

ٹور وینزلینڈ مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار ہیں جن کے مطابق خطے میں مستقبل کے حوالے سے بڑھتے ہوئے احساسِ مایوسی نے تشدد کو بڑھاوا دیا ہے۔ 

انہوں ںے کونسل کو بتایا کہ تنازعے کا سبب بننے والے بنیادی مسائل کے سیاسی حل کی جانب پیش رفت کے فقدان نے خطرناک اور نازک خلا چھوڑا ہے جسے دونوں جانب سے انتہاپسندوں نے پُر کیا ہے۔ 

اب وہ جذبات دکھائی نہیں دیتے جو 30 برس قبل 19 اگست کو اوسلو معاہدے پر دستخط کے وقت تھے۔ 

اگرچہ فریقین نے صورتحال میں استحکام لانے کے لیے اقدامات اٹحائے ہیں تاہم مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی آبادیوں میں اضافے، گھروں کے انہدام، فلسطینیوں کی عسکری سرگرمی اور آبادکاروں کے تشدد سمیت "یکطرفہ اقدامات" جاری ہیں۔ 

ٹور وینزلینڈ نے زور دیا کہ ایسے واقعات کے تمام ذمہ داروں کا محاسبہ ہونا چاہیے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے شہریوں کے خلاف تشدد کی بھی مذمت کی جس میں دہشت گردی کے واقعات بھی شامل ہیں اور سکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مہلک طاقت استعمال کرنے سے باز رہیں۔ 

غزہ میں جنگ بندی 

دریں اثنا، مئی میں کشیدگی کے بعد غزہ میں ہونے والی جنگ بندی برقرار ہے تاہم وہاں انسانی حالات بدستور سنگین ہیں۔ 

غزہ میں رہنے والے لوگوں کو بجلی کی معمول سے کہیں زیادہ قلت کا سامنا ہے جو دن میں 12 گھنٹے تک رہتی ہے جبکہ موسم گرما میں بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ قطر کی جانب سے دی جانے والی مزید مالی مدد کی بدولت بجلی کی فراہمی میں روزانہ تقریباً دو گھنٹے کا اضافہ ہوا ہے۔ 

بجلی کی کمی کے باعث حماس کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے ہیں جو اس زیرمحاصرہ علاقے میں تقریباً 17 برس سے حکومت میں ہے۔ 30 جولائی کو ہونے والے ان مظاہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور بڑے پیمانے پر ایسی ویڈیو زیرگردش ہیں جن میں حماس کی سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کو مارتے پیٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس احتجاج کے جواب میں حماس نے اسرائیل کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔ 

حماس نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے پر غزہ میں سات شہریوں کو موت کی سزا بھی دی ہے۔ ٹور وینزلینڈ نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کسی بھی طرح کے حالات میں سزائے موت کی کڑی مخالفت کرتا ہے۔