یو این چیف کی قبرص میں امن سپاہیوں پر حملے کی مذمت
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ترک قبرص کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ادارے کے امن اہلکاروں 'بلیو ہیلمٹس' پر حملے کی مذمت کی ہے۔
بلیو ہیلمٹس بحیرہ روم کے اس منقسم جزیرے پر قیام امن کے لیے کام کرنے والی فورس کے ساتھ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ قبرص میں اقوام متحدہ کی امن فوج (یو این ایف آئی سی وائی پی) کے متعد ارکان اس حملے میں زخمی ہوئے جبکہ شمال میں ترک قبرص اور جنوب میں یونانی قبرص کے درمیان بفر زون میں اقوام متحدہ کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔
سلامتی کونسل کا مینڈیٹ
سٹیفن ڈوجیرک نے کہا کہ امن اہلکار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے سونپی جانے والی اپنی ذمہ داری کے تحت پائلا/پائل نامی علاقے میں بلا اجازت تعمیراتی کام کو روکتے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ترک قبرض سے بھیجے گئے بلڈوزروں کے ذریعے بفر زون میں اقوام متحدہ کی گاڑیوں، رکاوٹوں اور خاردار تاروں کو ہٹایا گیا اور حملے کے بعد مشن کے تین اہلکاروں کو ہسپتال لے جانا پڑا جن میں ایک کو ضرب لگا کر زمین پر گرا دیا گیا تھا۔
'یو این ایف آئی سی وائی پی' نے ایک بیان میں یہ کہتے ہوئے اس واقعے کی مذمت کی ہے کہ اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کے لیے خطرات اور ادارے کی املاک کو نقصان پہنچانے کی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرائم کی ذیل میں آتی ہیں جن پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
سیکرٹری جنرل نے ترک قبرص سے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی جانب سے دی جانے والی ذمہ داری کے تحت مصروف کار اس مشن کے اختیار کا احترام کیا جائے اور اقوام متحدہ کے بفر زون سے اپنے تمام اہلکاروں اور مشینری کو ہٹایا جائے۔
تعمیری بات چیت کی ہدایت
انہوں نے ترک قبرص سے یہ بھی کہا کہ وہ پائلا/پائل علاقے میں آئندہ متفقہ اقدامات کے لیے مشن کے ساتھ تعمیری طور سے دوبارہ بات چیت کرے۔
اس تناؤ نے ترک قبرص کے حکام کی جانب سے ایک نئی سڑک کی تعمیر کے منصوبے سے جنم لیا ہے جو اطلاعات کے مطابق ایک ایسے علاقے سے بھی گزرے گی جو اقوام متحدہ کے زیرانتظام ہے۔
اگست 1974 میں جزیرے کے دونوں فریقین کے مابین جنگ بندی کے بعد اقوام متحدہ کے اس مشن نے جنگ بندی کی نگرانی، انسانی امداد کی فراہمی اور ترک قبرص اور یونانی قبرص کی فوجوں کے مابین بفر زون قائم رکھنے کا کام کیا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے فریقین سے اپنے اس دیرینہ مطالبے کا اعادہ بھی کیا کہ وہ ایسے یکطرفہ اقدامات سے پرہیز کریں جن سے تناؤ میں اضافے کا اندیشہ ہو اور آگے بڑھنے کے لیے باہم قابل قبول راستے کی تلاش کے لیے سمجھوتہ کریں۔