انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نیجر میں آئینی حکومت فوری طور پر بحال کی جائے: وولکر ترک

نیجر کی قومی اسمبلی کی عمارت۔
UN News/Daniel Dickinson
نیجر کی قومی اسمبلی کی عمارت۔

نیجر میں آئینی حکومت فوری طور پر بحال کی جائے: وولکر ترک

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے نیجر کے منتخب جمہوری حکام کو فوری رہا کرنے کے لیے کہا ہے جنہیں گزشتہ مہینے فوجی بغاوت کی کوشش میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ایک بیان میں ہائی کمشنر نے جرنیلوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں دستوری نظام کو فی الفور بحال کریں۔

Tweet URL

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ نے نیجر کے لوگوں کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملکی عوام نے گزشتہ برسوں میں بہت سی مشکلات جھیلی ہیں۔ اب انہی لوگوں کو بزور طاقت حکومت سے بے دخل کر دیا گیا ہے جنہیں عوام نے اپنی بدحالی دور کرنے کے لیے منتخب کیا تھا۔ 

شدید غذائی عدم تحفظ 

ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) کی ترجمان روینہ شمداسانی نے بتایا ہےکہ نیجر کا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے جہاں تقریباً نصف آبادی روزانہ 2.15 ڈالر سے کم آمدنی پاتی ہے اور لاکھوں لوگوں کا انحصار انسانی امداد پر ہے۔ 

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ فوجی بغاوت کی کوشش کے بعد ملک کے لوگوں کو پہلے سے بھی زیادہ مصائب جھیلنا پڑ رہے ہیں۔ بغاوت کے بعد ملک کی سرحدیں بند کر دی گئی ہیں، تجارت میں خلل آیا ہے اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 

اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق 26 جولائی کو اقتدار پر قبضے کی کوشش میں صدر محمد بازوم کی گرفتاری سے پہلے بھی ملک میں تین ملین سے زیادہ لوگوں کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا تھا اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تقریباً نصف تعداد شدید غذائی قلت کا شکار تھی۔ 

'او ایچ سی ایچ آر' کی ترجمان نے انسانی امداد تک مکمل اور آزادانہ رسائی کے لیے ہائی کمشنر کے مطالبے کو دہرایا تاکہ ملک میں ضروری غذائی، طبی اور دیگر طرح کی امداد پہنچائی جا سکے۔ 

شہری آزادیوں کو خطرہ 

روینہ شمداسانی نے کہا ہے کہ نیجر میں شہری آزادیوں پر تشویش ناک قدغن عائد کی جا رہی ہے جس سے اظہار اور عوامی اجتماع کی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔ اس میں صحافیوں کو دھمکائے جانے کے اقدامات اور ذرائع ابلاغ کے بین الاقوامی اداروں پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔ 

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ عرصہ کے دوران پورے مغربی افریقہ میں فوج کے ہاتھوں حکومتوں کی غیرآئینی تبدیلی کا انتہائی پریشان کن سلسلہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نیجر میں ہونے والی بغاوت اس خطے میں گزشتہ تین سال کے دوران اپنی نوعیت کا چھٹا واقعہ ہے۔ 

وولکر تُرک نے اپنے بیان میں نیجر کے فوجی رہنماؤں کی جانب سے صدر بازوم اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سنگین غداری کے الزام میں قانونی کارروائی کیے جانے کے اعلان پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ منتخب جمہوری صدر کے خلاف ناصرف سیاسی بنیادوں پر لیا گیا ہے بلکہ اس کی کوئی قانونی بنیاد بھی نہیں ہے کیونکہ جمہوری اداروں کے معمول کے کام کو روک دیا گیا ہے۔ 

ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ نیجر میں آزادیوں کے بنیادی تصور کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جرنیل ازخود عوام کی منشا کو مسترد کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ آج کی دنیا میں بندوق کے قانون کی کوئی جگہ نہیں۔