انسانی کہانیاں عالمی تناظر
انیس اگست دو ہرار تین کو بغداد کے کینال ہوٹل میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کا ٹرک بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔

میری کہانی: کینال ہوٹل حملے میں ’میرے وجود کا ایک حصہ بھی کھو گیا‘

UN Photo/Timothy Sopp
انیس اگست دو ہرار تین کو بغداد کے کینال ہوٹل میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کا ٹرک بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔

میری کہانی: کینال ہوٹل حملے میں ’میرے وجود کا ایک حصہ بھی کھو گیا‘

امن اور سلامتی

عراق کے دارالحکومت بغداد میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والے عملے کے ایک رکن کی بیوہ اس سانحے کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس المناک روز گویا ان کے وجود کا ایک حصہ بھی ختم ہو گیا تھا۔

لورا ڈولچی کے شوہر جین سیلم کنعان کو اقوام متحدہ کے دفتر برائے خدماتِی منصوبہ بندی نے عراق کے لیے ادارے کے معاون مشن کے چیف آف سٹاف کے خصوصی نمائندے کے طور پر کام کی ذمہ داری سونپی تھی۔ 

اس حملے سے بیس سال کے بعد اور ہر سال 19 جولائی کو منائے جانے والے امدادی کارکنوں کے عالمی دن کی مناسبت سے وہ اپنی شوہر کو یاد کرتی ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ 19 اگست 2003 کو بغداد میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملے میں انہوں نے اپنے 33 سالہ شوہر اور نومولود بیٹے کے باپ جین سیلم کنعان کو کھو دیا۔

پہلی ملاقات

لورا ڈولچی بتاتی ہیں کہ ان کی اپنے شوہر سے پہلی ملاقات بوسنیا میں ہوئی تھی جس کے بعد وہ دونوں پہلے کوسوو اور پھر نیویارک میں منتقل ہو گئے۔ ان دونوں کو ایک دوسرے سے بے حد پیار تھا اور دونوں ایک جیسی اقدار اور اقوام متحدہ کے کام سے محبت کے یکساں جذبات رکھتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس افسوس ناک دن شوہر اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ گویا ان کے وجود کا ایک حصہ بھی چلا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ اقوام متحدہ کے لیے کام جاری رکھنا ان کے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن اسی نے انہیں اس وحشیانہ مجرمانہ عمل کے سامنے زندگی کا مقصد اور مفہوم مہیا کیا۔ اس وقت وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں 'عالمگیر معیادی جائزے' کی سیکرٹری کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ 19 اگست ان کے جسم کے ہر حصے میں کنندہ ہے۔ یہ ان کی ذات اور خاندان کی زندگی کا حصہ ہے۔ اس سے مراد ایک ایسا بچہ ہے جو اپنے والد کو دیکھے بغیر بڑا ہوا۔

لورا ڈولچی اپنے مرحوم شوہر جین سیلم کنعان کے ساتھ۔
© Laura Dolci

دو ٹن وزنی بم نے ان کے خاندان کو بری طرح زخم دیے مگر وہ جین سیلم کی قربانی سے تحرک پا کر اکٹھے رہے اور اپنے وجود کو مفہوم عطا کرتے ہوئے اور ذاتی و پیشہ وارانہ زندگی میں انسانیت اور انصاف کی اعلیٰ اقدار کو قائم رکھتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔

اس حملے اور اقوام متحدہ کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا پیچیدہ جگہ ہے جہاں نئے خطرات ابھر رہے ہیں۔

اعزاز کی بات

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے لیے کام کرنا بہت بڑی بات ہے اور آج انہیں اُس سانحے کے وقت عراق میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سرجیو وائرا ڈی میلو کی میراث کو دیکھ کر خوشی ہے جو خود بھی اس حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ وہ اور اس واقعے میں جان دینے والے ان کے ساتھی اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی نئی نسل کے لیے باعث تحریک ہیں۔ 

لورا ڈولچی کہتی ہیں کہ انہیں امید ہے کہ اس واقعے کی بیسویں برسی اقوام متحدہ کے لوگوں کے لیے اس بات پر غوروفکر کا موقع ہو گی کہ آج کے پیچیدہ حالات میں بہترین انداز میں کام کیسے کیا جا سکتا ہے۔ 

وہ امید ظاہر کرتی ہیں کہ اقوام متحدہ کے جھنڈے کی دمک واپس آئے گی۔ امن کے لیے بات چیت اور جنگ کی روک تھام اور خاتمے کے لیے ثالثی کی غرض سے مضبوط اقوام متحدہ کی ضرورت ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ بیس سال پہلے جان دینے والے ان کے ساتھی یہی کچھ چاہتے تھے۔