نیجر میں امداد کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں آنی چاہیے: ڈبلیو ایف پی
اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے نیجر میں فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے بعد ملک میں انتہائی بدحال لوگوں کے لیے امدادی اور استحکامی کوششیں جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ملک کے صدر محمد بازوم بدستور زیرحراست ہیں اور اطلاعات کے مطابق حکمران فوجی ٹولے نے ملک کے منتخب رہنما کے خلاف مبینہ سنگین غداری کے الزام میں قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صدر کو 26 جولائی کو ان کے اپنے محافظوں نے حراست میں لے لیا تھا۔
ضروری امدادی اقدامات
مغربی افریقہ کے لیے ڈبلیو ایف پی کی قائم مقام علاقائی ڈائریکٹر مارگوٹ وان ڈر ویلڈین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیجر کے انتہائی بدحال لوگوں کے لیے ادارے کا کام بہت اہم ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاسی صورتحال جیسی بھی ہو بحران کے اس دور میں امدادی اور استحکامی کوششیں جاری رکھنا بہت ضروری ہے۔
اگست کے پہلے ہی ہفتے میں ڈبلیو ایف پی نے ملک بھر میں 14,000 لوگوں کو تحفظ زندگی میں مددگار خوراک پہنچائی اور 74,000 بچوں کو غذائی قلت کے خلاف نگہداشت فراہم کی۔
انہوں نے تمام فریقین سے کہا ہے کہ وہ انتہائی ضرورت مند لوگوں کی مدد کے اپنے وعدوں پر مضبوطی سے قائم رہیں۔
بھوک کا عرصہ
ان مشکل حالات میں دو فصلوں کی کٹائی کے درمیان عرصہ میں بدحال لوگوں کو متواتر مدد کی فراہمی کو ترجیح بنایا جانا چاہیے۔
ملک میں فوجی بغاوت سے پہلے بھی بھوک کے اس دور میں تین ملین لوگ شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار تھے جو کہ جون سے اگست تک جاری رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ بڑھتی ہوئی ضروریات کی مطابقت سے اپنے اقدامات میں اضافے کے لیے تیار ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق کم از کم 3.3 ملین لوگوں کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے جبکہ 698,000 لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جن میں 358,000 کو اندرون ملک دوسرے مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔
ادارے کا عملہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر عملی اقدمات کر رہا ہے اور ڈبلیو ایف پی کو صرف اگست میں ہی ایک ملین سے زیادہ لوگوں کو ہنگامی غذائی امداد پہنچانے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کا سامنا کرنے والے تقریباً 180,000 لوگ بھی ڈبلیو ایف پی کی سالانہ معاونت کے سلسلے میں نقد امداد وصول کریں گے۔
تاہم ادارے نے تمام فریقین سے امدادی عملے اور امداد کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دینے پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی بحران کے باعث پابندیاں اور سرحدوں کی بندش سے نیجر میں ضروری خوراک اور طبی سازوسامان کی ترسیل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ڈبلیو ایف پی کی ریجنل ڈائریکٹر کے مطابق نیجر میں معاشی بحران ایسے وقت میں آیا ہے جب مالی وسائل کی قلت کے باعث عالمی سطح پر غذائی امدادی میں کٹوتیوں سے وہ لاکھوں لوگ خوراک سے محروم ہو رہے ہیں جنہیں ادارے سے ناصرف خوراک کے حصول بلکہ اپنے روزگار کے تحفظ میں بھی مدد ملتی ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے ابتدائی اندازے کے مطابق بڑھتے ہوئے بحران کے باعث درمیانے درجے کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے تقریباً 7.3 ملین لوگوں کی حالت مزید بگڑ جائے گی۔ غذائی تحفظ اور غذائی قلت کی صورتحال میں تیزتر بگاڑ کو روکنے کے لیے انسانی امداد کو پابندیوں سے استثنا دینا اور سرحدیں کھولنا ضروری ہے۔
اس کے علاوہ امدادی اداروں کو بروقت اور خاطرخواہ امدادی اقدامات کے لیے نئے وسائل کی فراہمی سے متعلق فوری تصدیق بھی درکار ہے۔
وسائل کی قلت
جنوری تک مدد کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے تقریباً 71 ملین ڈالر درکار ہیں جبکہ موجودہ مالی وسائل پہلے ہی ختم ہونے کو ہیں۔
نیجر کے لیے امدادی منصوبے کے تحت 584 ملین ڈالر کی ضرورت ہے لیکن اب تک اس میں سے 39 فیصد مالی وسائل ہی مہیا ہو پائے ہیں۔ ہر طرح کی انسانی امداد کا ایک تہائی سے زیادہ غذائی تحفظ ممکن بنانے اور غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے درکار ہے تاہم اس حوالے سے تاحال 27 فیصد سے کم وسائل ہی جمع ہو سکے ہیں۔
وان ڈر ویلڈین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب مقدار میں مالی وسائل موصول نہ ہوئے تو اس کے نتائج صرف نیجر کے لیے تباہ کن نہیں ہوں گے کیونکہ ساحل خطے میں ایسے بحران سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق نیجر ہمسایہ ممالک کو تجارتی ترسیلات کا اہم راستہ بھی ہے اور ان ملکوں کو بھی بے مثال انسانی بحران کا سامنا ہے۔