سوڈان میں بدامنی عام لوگوں کی زندگیوں کی بربادی کا سبب: یو این
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے سوڈان میں چار ماہ سے جاری لڑائی کو ختم کرنے کے لیے کہا ہے جس سے لوگوں کی زندگیوں، صحت اور بہبود پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں حصول اقتدار کی بے قابو حرص سے جنم لینے والی تباہ کن نامعقول جنگ کا نتیجہ ہزاروں اموات، گھروں، سکولوں، ہسپتالوں اور دیگر ضروری خدمات کی تباہی، بڑے پیمانے پر بے گھری اور جنسی تشدد کی صورت میں نکلا ہے اور ایسے اقدامات جنگی جرائم کی ذیل میں آ سکتے ہیں۔
چالیس لاکھ افراد کی نقل مکانی
اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے امور سے متعلق ادارے 'یو این ایچ سی آر' کے ترجمان ولیم سپائنڈلر نے کہا ہے کہ 15 اپریل کو سوڈان کی فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد 4.3 ملین سے زیادہ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جاری کردہ تازہ ترین معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 900,000 سے زیادہ مہاجرین اور پناہ کے خواہش مند لوگ ہمسایہ ممالک کو نقل مکانی کر چکے ہیں اور جنوبی سوڈان سے تعلق رکھنے والے 195,000 افراد سوڈان چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ سوڈان میں 3.2 ملین سے زیادہ لوگ اندرون ملک بے گھر ہو چکے ہیں جن میں 187,000 سے زیادہ ایسے پناہ گزین بھی شامل ہیں جو اس بحران کے آغاز سے پہلے سے ہی ملک میں مقیم تھے۔
اسی پیغام کو دہراتے ہوئے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ترجمان ڈاکٹر مارگریٹ ہیرس نے خبردار کیا کہ متاثرہ علاقوں میں تقریباً 67 فیصد ہسپتالوں کو نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ طبی خدمات تک رسائی سے محروم ہو گئے ہیں۔
بچوں کے لیے 'سزائے موت'
انہوں نے مزید کہا کہ ادارے کو طبی مراکز پر 53 حملوں کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں 11 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوئے۔
عدم تحفظ، لوگوں کی نقل مکانی اور غیرفعال طبی لیبارٹریوں کے تناظر میں انہوں نے خسرے، ملیریا اور ڈینگی کی حالیہ وباؤ پر قابو پانے میں مشکلات کی بابت خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے لیے حالات مزید خطرناک ہیں اور ملک میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تقریباً ایک تہائی تعداد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔ خسرہ اور غذائی کمی پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سزائے موت کے مترادف ہے۔
خواتین اور لڑکیوں کے لیے خطرات
اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ (یو این ایف پی اے) کی ریجنل ڈائریکٹر لیلیٰ بکر نےکہا ہے کہ خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے لیے یہ حالات خاص طور پر خطرناک ہیں۔ تولیدی عمر کی 2.6 ملین خواتین اور لڑکیوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
انہوں ںے کہا کہ ملک میں حاملہ خواتین کی تعداد تقریباً 260,000 ہے اور ان میں سے تقریباً 100,000 کو آئندہ تین ماہ میں بچوں کو جنم دینا ہے۔ تاہم ضروری خدمات بشمول ہسپتالوں اور زچگی کے محفوظ انتظامات کی عدم موجودگی میں ان کی اور ان کے ہونے والے بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق 'او ایچ سی ایچ آر' نے کہا ہے کہ جنسی تشدد خواتین اور لڑکیوں کے لیے اضافی خطرہ ہے۔ ادارے کی ترجمان لِز تھروسیل کے مطابق 'او ایچ سی ایچ آر' کو 2 اگست تک جنسی تشدد کے تقریبا 32 واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے متاثرین میں 73 خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں۔ ان میں کم از کم 28 واقعات جنسی زیادتی کے ہیں۔ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی وردیوں میں ملوث افراد ایسے کم از کم 19 واقعات میں ملوث پائے گئے تاہم جنسی تشدد کے واقعات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے سوڈان میں حکام کو تواتر سے یاد دلایا ہےکہ جنسی تشدد ناقابل معافی جرم ہے۔ اس کے ذمہ داروں کا محاسبہ ہونا چاہیے اور ایسے تشدد کی واضح طور پر مذمت کی جانی چاہیے۔
ممکنہ جنگی جرائم
امدادی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) کے ترجمان جینز لائرکے نے اس حوالے سے عملی اقدامات کے لیے کہتے ہوئے متنبہ کیا کہ جنگ لوگوں کی زندگیوں اور ان کی سرزمین کو تباہ کر رہی ہے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔
انہوں نے اس تنازعے کے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ لڑائی بند کریں، شہریوں کو تحفظ دیں اور امدادی اداروں کو سوڈان کے تمام علاقوں میں ضرورت مندوں تک بلارکاوٹ رسائی مہیا کریں۔ گزشتہ چار ماہ کے دوران شہریوں پر حملے، امدادی سامان کی لوٹ مار اور امدادی کارکنوں اور ہسپتالوں پر حملے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہو سکتے ہیں۔