یو این ادارے نیجر میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں
نیجر میں صدر محمد بازوم کو ان کے بعض محافظوں کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے لیے حراست میں لیے جانے سے تقریباً تین ہفتے بعد بھی اقوام متحدہ ملک میں امداد کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ملک میں جاری بارشوں کے موسم سمیت کئی مسائل کے باوجود امدادی ادارے لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔
مغربی افریقہ کے اس ملک میں تقریباً 4.3 ملین لوگ انسانی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے نیجر کے وسطی علاقے مارادی میں 22,000 لوگوں نے نقد امداد اور خوراک وصول کی۔
ڈوجیرک نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت دار ٹیلابیری کے علاقے اورو گوئلاجو میں اندرون ملک بے گھر ہونے والے تقریباً 13,000 لوگوں کو بسانے کے لیے جگہ کی نشاندہی اور اس سلسلے میں ضروری انتظامات کے لیے برسراقتدار حکام کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں۔
انہوں ںے بتایا کہ جولائی کے وسط سے حالیہ سیاسی بحران تک متعدد دیہات سے لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔
ثالثی اور خدشات
اقوام متحدہ اور مغربی افریقی ممالک کی معاشی برادری (ایکوواس) نے صدر بازوم کا تختہ الٹنے کی کوشش کی مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور ادارے کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے تواتر سے کہا ہے کہ منتخب جمہوری رہنما کو عہدے پر بحال کیا جائے جنہیں تاحال نظربند رکھا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے انتونیو گوتیرش اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ صدر اور ان کے اہلخانہ بجلی، پانی، خوراک یا ادویات سے محروم ہیں۔
وولکر تُرک کا کہنا تھا کہ صدر کو گرفتار کرنے کے ذمہ داروں کو ان کے اور زیرحراست دیگر لوگوں کے انسانی حقوق کا مکمل احترام اور تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔
خطے کی سلامتی کو خطرہ
مغربی افریقہ اور ساحل خطے کے لیے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے لیونارڈو سانتوز سیماؤ نے بھی خبردار کیا کہ نیجر میں سیاسی بحران حل نہ ہوا تو خطے میں سلامتی کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔
اقوام متحدہ نیجر میں دستوری نظام کو بحال کرنے کے لیے ایکوواس کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
گزشتہ ہفتے نائجیریا کے شہر ابوجا میں ہونے والے ایک اجلاس میں اس علاقائی بلاک نے نیجر کی صورتحال میں مداخلت کے لیے اپنی فورس کو فوری فعال کرنے کا حکم دیا تھا۔
یہ پیش رفت نیجر کا بحران شروع ہونے سے چند ہی روز بعد ابوجا میں ہونے والے ایک غیرمعمولی اجلاس کا نتیجہ تھی۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس اجلاس سے ایک ہفتے کے اندر صدر بازوم کی حکومت کو بحال کیا جائے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ نیجر کے موجودہ حکمران صدر بازوم کے خلاف سنگین غداری اور ملک کی اندرونی و بیرونی سلامتی کو کمزور کرنے کے الزام میں مقدمہ چلانا چاہتے ہیں۔