افغانستان: ’اصلاح پسند طالبان‘ کا وجود ایک غلط فہمی ہے، ماہرین
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین نے کہا ہے کہ افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے دو سال بعد بھی طالبان بدستور بہت سے انسانی حقوق کو پامال کر رہے ہیں جن میں لڑکیوں اور خواتین کا استحصال سرفہرست ہے۔
انسانی حقوق سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے ایسا نظام نافذ کیا جا رہا ہے جس میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ہر طرح کا امتیازی سلوک ہوتا ہے، انہیں سماجی و سیاسی زندگی سے خارج رکھا جاتا ہے اور وہ محکمومی کا شکار رہتی ہیں۔
ماہرین کےمطابق افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کی جانب سے وعدوں اور عملی اقدامات کے مابین فرق بڑھ گیا ہے اور "اصلاح شدہ" طالبان کا تصور غلطی ثابت ہوا ہے۔ افغانستان پر طالبان کی حکومت کو دو سال مکمل ہونے کے پر انسانی حقوق کے ماہرین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب سے طالبان نے افغانستان میں اقتدار پر دوبارہ قبضہ کیا ہے تب سے انہوں نے افغان عوام پر جو پالیسیاں مسلط کی ہیں ان کا نتیجہ بہت سے انسانی حقوق کی متواتر، منظم اور خوفناک طور سے منسوخی کی صورت میں نکلا ہے۔
جو حقوق سلب کیے گئے ہیں ان میں تعلیم، اور کام کے حقوق اور اظہار، اجتماع اور میل جول کی آزادی بھی شامل ہیں۔
خواتین پر جبر میں اضافہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں، بڑے پیمانے پر ناجائز گرفتاریوں، تشدد اور بدسلوکی جیسے اقدامات اور لوگوں کی ان کے علاقوں سے ناجائز بےدخلی کے بارے میں متواتر موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات نے انسانی حقوق کو درپیش خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ’ان حالات میں خواتین اور لڑکیاں، نسلی، مذہبی اور دیگر اقلیتیں، معذور افراد، بے گھر لوگ، ایل جی بی ٹی کیو آئی پلس افراد، انسانی حقوق کے محافظ اور سول سوسائٹی کے دیگر کارکنوں، صحافی، فنکار، اساتذہ اور سابقہ حکومت کے عہدیدار اور سکیورٹی حکام بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔‘
اگرچہ طالبان حکام کی جانب سے یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں کہ کسی بھی طرح کی پابندیاں خصوصاً تعلیم تک رسائی پر پابندی عارضی ہو گی تاہم ماہرین کے مطابق زمینی حقائق کو دیکھ کر افتراق، پسماندگی اور مظالم کے ایک تیزرفتار، منظم اور ہر شعبہ زندگی کا احاطہ کرنے والے نظام کا اندازہ ہوتا ہے۔
انسانی حقوق ماہرین نے یاد دلایا کہ دسمبر 2022 میں طالبان حکمرانوں نے خواتین کے این جی اوز میں کام کرنے پر پابندی عائد کی اور رواں سال اپریل میں انہیں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے سے بھی روک دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اب ملک کے کئی صوبوں میں سکولوں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ 10 سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں جبکہ اس سے پہلے یہ پابندی چھٹے درجے سے اوپر تعلیم حاصل کرنے کی خواہش مند لڑکیوں کے لیے تھی۔
ملک میں خواتین کو بیوٹی سیلون جیسے جگہوں پر جانے کی اجازت بھی نہیں جو عام طور پر خواتین چلاتی ہیں اور حالیہ دنوں ایسی جگہوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں
طالبان کی جانب سے مزید شمولیتی حکومت کے قیام کے وعدے بھی پورے نہیں کیے گئے اور انسانی حقوق ماہرین کے مشاہدے کے مطابق سابق حکومت کے عہدیداروں اور فوجی حکام کو دی گئی معافی کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے، حراستی مراکز میں قیدیوں پر تشدد اور ان کے ساتھ بدسلوکی روکنے سے متعلق ہدایات کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، اقلیتیں پسماندہ ہیں اور انہیں شمولیت کے وعدوں کے باوجود تفریق کا سامنا رہتا ہے جبکہ وکلا، ججوں، قانون دانوں اور قانونی نظام سے وابستہ دیگر لوگوں کو سلامتی کے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔
ملکی حکمرانوں نے سنگساری، کوڑے مارنے اور دیوار گرا کر ہلاک کرنے جیسی ظالمانہ اور توہین آمیز سزائیں متعارف کرائی ہیں جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کے خلاف ہیں جو ماہرین کے مطابق "اصلاح شدہ" طالبان کے تصور کو غلط ثابت کرتی ہیں۔
حقوق کی بحالی کا مطالبہ
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ماہرین نے طالبان سے کہا ہے کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو فوری واپس لیں، ہر سطح پر سکول دوبارہ کھولیں، خواتین اور لڑکیوں کو یونیورسٹیوں میں جانے کی اجازت دیں اور تعلیم کے حق کی تکمیل کریں، انہیں کام کرنے اور کاروبار چلانے سے مت روکیں اور تمام خواتین اور لڑکیوں کو تمام انسانی حقوق بشمول نقل و حرکت اور سیاسی و عوامی زندگی میں شرکت کی آزادی جیسے حقوق مہیا کریں۔
انہوں نے طالبان حکمرانوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سابق حکومت کے عہدیداروں، سکیورٹی حکام اور سول سوسائٹی کے ارکان کے خلاف انتقامی کاررروائیوں کو فوری بند کریں اور ان کے لیے اعلان کردہ عام معافی کو پوری طرح قائم رکھیں اور ناجائز حراستوں، جبری گمشدگیوں، تشدد اور بدسلوکی جیسے اقدامات کو بند کریں۔
ماہرین نے نسلی و مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے کڑے اقدامات نافذ کرنے اور فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی نمائندگی اور بامعنی شرکت یقینی بنانے کی ضرورت بھی واضح کی ہے۔
انسانی امدادی ضروریات میں اضافہ
ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں 16 ملین بچوں کو بنیادی خوراک اور طبی نگہداشت میسر نہیں ہے جو ان کی بہبود و بڑھوتری کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ افغان خواتین امدادی کارکنوں پر پابندی سے امدادی اقدامات پر عملدرآمد بھی متاثر ہوا ہے۔ گزشتہ دو برس میں انسانی اور انسانی حقوق سے متعلق حالات میں متواتر بگاڑ آیا ہے اور ایسے میں اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں امدادی اقدامات کے لیے اب تک جمع کیے گئے مالی وسائل ضرورت سے کہیں کم ہیں۔
اس پس منظر میں انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی برادری نئی توانائی سے کام لیتے ہوئے اور مزید اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے لوگوں کی مدد کا عہد کرے اور اس سلسلے میں انسانی حقوق اور صنفی مساوات پر مرتکز طریقہ کار کے ذریعے تمام افغان فریقین کے ساتھ سیاسی بات چیت یقینی بناتے ہوئے فیصلہ کن اقدامات اٹھائے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ دنیا کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے لیے امدادی منصوبوں کے تحت درکار مالی وسائل میں کمی کو پورا کرے اور ایسے طریقے وضع کرے جن سے امداد کو براہ راست افغان لوگوں تک پہنچایا جا سکے جن میں بے گھر لوگ اور ان کی میزبان آبادیاں بھی شامل ہیں۔