انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نوجوانوں کو ماحول دوست مستقبل کے لیے تیار کرنا چاہیے: گوتیرش

موسمیاتی انحطاط کے خلاف مظاہرے میں ایک لڑکی نے پلے کارڈ اٹھایا ہوا ہے جس پر لکھا ہے ’آپ کو پرواہ نہیں لیکن مجھے ہے‘۔
© UNICEF/Howard Elwyn-Jones
موسمیاتی انحطاط کے خلاف مظاہرے میں ایک لڑکی نے پلے کارڈ اٹھایا ہوا ہے جس پر لکھا ہے ’آپ کو پرواہ نہیں لیکن مجھے ہے‘۔

نوجوانوں کو ماحول دوست مستقبل کے لیے تیار کرنا چاہیے: گوتیرش

موسم اور ماحول

نوجوانوں کے عالمی دن 12 اگست کو ماحول دوست صلاحیتوں اور مستقبل میں ماحولیاتی اعتبار سے پائیدار اور موسمیاتی اعتبار سے دوستانہ طرز زندگی کی جانب منتقلی ممکن بنانے میں نوجوانوں کے اہم کردار پر بات کی جا رہی ہے۔

ماحول دوست صلاحیتوں میں تکنیکی علم اور ایسے ہنر شامل ہیں جو پیشہ وارانہ ماحول میں ماحول دوست ٹیکنالوجی کا موثر استعمال ممکن بناتے ہیں۔

Tweet URL

ان میں باہم متقاطع صلاحیتیں یا ہنر بھی شامل ہیں جو کام اور عمومی زندگی میں ماحولیاتی اعتبار سے پائیدار فیصلوں میں سہولت دینے کے لیے کئی طرح کے علم، اقدار اور رویوں سے کام لینے میں مدد دیتے ہیں۔

گوتیرش کا پیغام

اس دن پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے پیغام میں کہا ہے  کہ اختراعی پائیدار ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی سے لے کر نقل و حمل کے نظام اور صنعتی سرگرمی میں انقلابی تبدیلیاں لانے تک تمام شعبوں میں نوجوان لوگوں کو ایسی صلاحیتوں اور علم سے آراستہ کیا جانا چاہیے جن سے صاف، ماحول دوست اور موسمیاتی اعتبار سے مزید مستحکم مستقبل کی تشکیل ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان لوگ دور حاضر کے تمام مسائل کے حوالے سے دلیرانہ اور تیزرفتار اقدامات، کمزور ترین لوگوں کے ساتھ یکجا ہو کر کھڑا ہونے، سماجی و ماحولیاتی انصاف اور تمام لوگوں کے لیے امن اور خوشحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ نوجوانوں کی شمولیت کو وسعت دینے کے لیے حال ہی میں انہوں نے حکمت عملی کا ایک خلاصہ پیش کیا ہے جس میں حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں لیے جانے والے فیصلوں اور پالیسیوں میں نوجوانوں کی شمولیت کو غیرمعمولی اقدام کی حیثیت سے محدود رکھنے کے بجائے عام کیا جائے۔ 

اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انسانیت ہر جگہ نوجوانوں کی بے پایاں توانائی، تصورات اور ان کے کردار پر انحصار کرتی ہے اور کرہ ارض کے لیے ایک منصفانہ اور پائیدار دنیا کی تشکیل کے لیے آج اور ہر روز نوجوانوں کا ساتھ دینا چاہیے۔

محفوظ مستقبل کی وکالت

موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لیے سرگرم نوجوان کارکن آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی کانفرنس میں رہنماؤں کو بتائیں گے کہ ان کے پاس زیادہ راستے نہیں ہیں اور حکومتوں اور بڑے کاروباروں کو پُرعزم موسمیاتی اقدام کے لیے اکٹھے ہو کر کام کرنا ہو گا۔

یہ نوجوان ان رہنماؤں سے کہیں گے کہ انہیں ایسے اقدامات کرنا ہیں جن کی بدولت دنیا تیزی سے استحکام کی جانب بڑھے اور نوجوانوں کو ایسی ماحول دوست صلاحیتیں حاصل ہوں جو ہمارے مستقبل کو محفوظ بنائیں گی۔