سوڈان میں دو کروڑ سے زیادہ لوگوں کو بھوک کا سامنا: ڈبلیو ایف پی
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے کہا ہے کہ سوڈان میں خوراک کی کمی سے متعلق خدشات بدقسمتی سے درست ثابت ہوئے ہیں۔ جنگ کے باعث غذائی قلت کے نتیجے میں 20.3 ملین لوگوں کو انتہائی شدید درجے کی بھوک کا سامنا ہے۔
ان میں سے 6.3 ملین لوگ یا ملک کی 13 فیصد آبادی ہنگامی درجوں کی بھوک کا شکار ہے جنہیں غذائی قلت کی مربوط درجہ بندی کا چوتھا مرحلہ کہا جاتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ قحط سے محض ایک قدم دور ہیں۔ جنگ کے باعث انسانی امداد تک رسائی میں خلل آ رہا ہے اور لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
سوڈان میں ڈبلیو ایف پی کے ڈائریکٹر ایڈی رو نے ادارے کے ساتھ کام کے اپنے تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ پر محیط تجربے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوڈان میں کام کا ماحول بلاشبہ بہت مشکل ہے اور انہوں ںے اپنے پورے کیریئر میں ایسے حالات نہیں دیکھے۔
ملک میں اپریل کے وسط سے شروع ہونے والی لڑائی متواتر پھیل رہی ہے اور تیزی سے مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ تحفظ زندگی کے لیے ضرورت مند لوگوں کی غذائی امداد تک رسائی بھی مزید مشکل اور ہنگامی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
سرکاری ضابطوں کی رکاوٹوں اورامدادی مراکز پر لوٹ مار سے مدد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ مالی وسائل کی کمی، ایندھن کی قلت اور ناکافی بنیادی ڈھانچے کے باعث صورتحال میں مزید بگاڑ آ رہا ہے۔
غذائی امداد کی فراہمی کا آغاز
بہت سی مشکلات کے باوجود ڈبلیو ایف پی کو گزشتہ ہفتے اس وقت ایک بڑی کامیابی ملی جب اس نے ریاست مغربی ڈارفر میں غذائی امداد پہنچائی جو جنگ سے بری طرح متاثر ہونے والا علاقہ ہے۔
ایڈی رو کے مطابق اس سلسلے میں پانچ ٹرکوں پر مشتمل قافلے نے مشرقی چاڈ سے 125 ٹن غذائی سامان مغربی ڈارفر میں پہنچایا جہاں ڈبلیو ایف پی نے تقریباً 15,400 لوگوں کے لیے ایک ماہ کی ضرورت کی خوراک مہیا کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے چاڈ سے امداد کی فراہمی کا راستہ باقاعدہ امدادی راہداری کا کام دیتا رہے گا تاکہ مغربی ڈارفر اور خاص طور پر اس کے دارالحکومت الغینینہ میں خاندانوں کو مدد دی جا سکے۔
بقا کی جدوجہد
ایڈی رو نے کہا کہ مغربی اور وسطی ڈارفر میں صورتحال تباہ کن ہو چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ادارے کی ٹیموں کا ایسے شہروں اور دیہات سے گزر ہوا جو بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی کے باعث خالی ہو چکے ہیں۔ طبی مراکز، بینک اور اہم تنصیبات تباہ ہو گئی ہے۔
علاقے میں باقی رہ جانے والوں میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے جو کمزور اور خوفزدہ ہونے کے باعث علاقہ نہیں چھوڑ سکے۔ ان خواتین کے خاوند ہلاک، زخمی یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔
ڈبلیو ایف پی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ خاندان بمشکل گزر بسر کر رہے ہیں۔ ان میں بیشتر روزانہ صرف ایک وقت کھانا کھاتے ہیں، اپنی خوراک میں ہمسایوں کو بھی شریک کرتے ہیں اور جو کچھ ان کے پاس ہو اسے خوراک کے حصول کے لیے فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
ہر ممکن امدادی اقدامات
اپریل میں سوڈان کی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے مابین لڑائی شروع ہونے کے بعد ڈبلیو ایف پی نے ملک بھر میں 1.6 ملین لوگوں کو خوراک اور غذائیت سے متعلق امداد مہیا کی ہے۔ ان میں ریاست خرطوم میں پھنسے لوگ بھی شامل ہیں۔
ایڈی رو کا کہنا ہے کہ خرطوم میں صورتحال بہت نازک ہے اور امدادی ٹرکوں کو ضرورت مند لوگوں کے علاقوں تک پہنچنے اور امداد کو محفوظ طریقے سے ان تک پہنچانے کے لیے عموماً لڑائی تھمنے کے مختصر وقفوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
انہوں ںے کہا کہ اقوام متحدہ اور امدادی کارکن ڈارفر اور سوڈان بھر میں مدد پہنچانے کے لیے ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔ تنازع کے تمام فریقین ضرورت مندوں کو مدد تک رسائی دینے اور امداد کی محفوظ ترسیل میں سہولت فراہم کریں۔