بنگلہ دیش: ڈینگی کے خلاف فوری اقدامات کی ضرورت
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش کو ڈینگی بخار نے لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بیماری سے بچنے کے لیے ادارے نے مچھروں کی افزائش پر قابو پانے، انہیں بھگانے کے لیے مخصوص مادوں کے استعمال اور پورے بازوؤں والا لباس پہننے کے لیے کہا ہے۔
ڈینگی کی وبا کے پھیلاؤ میں گزشتہ برس جون کے بعد تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اب تک اس بیماری کے 69,483 مصدقہ مریض سامنے آ چکے ہیں اور یکم جنوری سے 7 اگست کے درمیان اس بیماری سے 327 اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ مجموعی مریضوں میں شرح اموات 0.47 فیصد ہے۔ یہ مریض ملک کے تمام 64 اضلاع سے سامنے آئے ہیں۔
رواں سال جولائی میں ہی ڈینگی کے 43,854 مریض سامنے آئے اور 204 اموات ہوئی۔ یہ اب تک اس بیماری کے مجموعی مریضوں کی 63 فیصد اور اموات کی 62 فیصد تعداد ہے۔ اس تعداد میں تیزی سے اضافہ گزشتہ پانچ سال کے مقابلے میں غیرمعمولی ہے جس سے موجودہ وبا کی شدت واضح ہوتی ہے۔
بارشیں اور مچھر
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ غیرمعمولی بارشیں، شدید گرمی اور رطوبت ڈینگی کے پھیلاؤ میں بڑے پیمانے پر اضافے کا سبب ہیں۔ ایسے موسمی حالات میں پورے ملک میں مچھروں کی آبادی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ڈینگی میں مبتلا ہونے والے بیشتر لوگوں میں اس کی علامات ہلکی ہوتی ہیں یا سرے سے بیماری کی کوئی علامت ہی ظاہر نہیں ہوتی اور وہ دو ہفتوں میں صحت مند ہو جاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ قومی سطح پر ڈینگی سے اونچے درجے کا خطرہ لاحق ہے۔
کبھی کبھار یہ بیماری شدت اختیار کر لیتی ہے اور موت پر منتج ہوتی ہے۔ اگر اس کی علامات ظاہر ہوں تو ان کا آغاز بیماری لاحق ہونے کے بعد 4 سے 10 دن میں ہوتا ہے اور یہ دو سے سات روز تک برقرار رہتی ہیں۔
ان علامات میں شدید بخار (40 ڈگری سیلسیئس یا 104 ڈگری فارن ہائیٹ)، شدید سر درد، آںکھوں کے پیچھے تکلیف، عضلات اور جوڑوں میں درد، متلی، قے، غدودوں کی سوجن اور جلد پر سرخ نشانات شامل ہیں۔
وبا پر قابو پانے کی کوششیں
بنگلہ دیش کے طبی حکام نے ڈینگی کے حوالے سے ایک مخصوص کنٹرول روم قائم کیا ہے جس کے ذریعے اس بیماری سے متعلق معلومات جمع کی جاتی ہیں اور اس پر قابو پانے کے اقدامات کو قومی سطح پر مربوط بنایا جاتا ہے۔ تمام اضلاع اور میڈیکل کالج ہسپتالوں میں بھی کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں۔
دارالحکومت ڈھاکہ میں کووڈ۔19 کے مریضوں کو سنبھالنے کے ذمہ دار چھ ہسپتالوں کو ڈینگی کے مریضوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے۔ ان ہسپتالوں میں ڈینگی کے وارڈ قائم کیے گئے ہیں اور میڈیکل کالج ہسپتالوں میں ڈینگی کارنر بنائے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں، حکام طبی عملے کو تربیت مہیا کر رہے ہیں اور طبی مراکز کو طبی سازوسامان اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بیماری کی نگرانی کی جا رہی ہے اور لوگوں کو خطرے سے آگاہی دی جا رہی ہے۔ بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات میں عام لوگوں کا تعاون بھی حاصل کیا جا رہا ہے اور لیبارٹری ٹیسٹ کی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔
ہائی الرٹ
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ قومی سطح پر ڈینگی سے اونچے درجے کا خطرہ لاحق ہے۔ بیماری کی صورتحال کو یہ درجہ دیے جانے کی وجہ اس کے مریضوں کی تعداد، اموات کی بلند شرح اور ملک بھر میں مریضوں کی موجودگی ہے۔
رواں سال جولائی میں ہی ڈینگی کے 43,854 مریض سامنے آئے اور 204 اموات ہوئی۔
ادارے نے مچھروں کی افزائش پر قابو پانے کے لیے بیماری منتقل کرنے والے جرثوموں سے مربوط طور سے نمٹنے (آئی وی ایم) اور جرثوموں سے انسانوں کے مابین اس بیماری کی منتقلی محدود کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس میں مچھروں کی افزائش کے ممکنہ مقامات کی صفائی، جرثوموں کی افزائش کو روکنا اور لوگوں کو ان کے مقابل محفوظ بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔
انفرادی سطح پر حفاظتی اقدامات میں جسم کے کھلے حصوں یا لباس پر مچھر مار مادے مَلنا اور پورے بازوؤں والی قمیص اور پتلون کا استعمال، درون خانہ مچھروں کو بھگانے کے لیے سپرے یا کوائل سے کام لینا اورکھڑکیوں اور دروازوں پر پردے لٹکانا شامل ہیں جن سے مچھروں کے گھر میں داخل ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے۔