گوتیرش کو نیجر کے صدر کی خیر و عافیت کے بارے میں تشویش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے نیجر کے صدر کو ناجائز حراست کے دوران برے حالات میں رکھنے جانے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے صحافیوں کے لیے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق صدر محمد بازوم اور ان کے اہلخانہ بجلی، پانی، خوراک اور ادویات سے محروم ہیں۔
رہائی کا مطالبہ
نیجر کے جمہوری طور پر منتخب صدر 26 جولائی سے زیر حراست ہیں جب فوجیوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔
سیکرٹری جنرل نے صدر اور ان کے اہلخانہ کی صحت و تحفظ پر دوبارہ تشویش کا اظہار اور ان کی فوری و غیرمشروط رہائی اور انہیں سربراہ مملکت کی حیثیت سے بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ کو خدشہ ہے کہ نیجر کا بحران مغربی افریقہ کے وسیع تر خطے پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
انہوں ںے حکومت کے متعدد ارکان کو گرفتار کیے جانے کی متواتر اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی اور ان کی غیرمشروط رہائی کا ہنگامی مطالبہ کیا۔
ثالثی کی کوششیں
اقوام متحدہ مغربی افریقی ممالک کی معاشی برادری (ایکوواس) کی جانب سے نیجر میں دستوری نظام کو بحال کرنے کے لیے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
خطے کے ممالک پر مشتمل اس بلاک نے نیجر کے بحران پر بات چیت کے لیے جمعرات کو نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں اجلاس بلایا تھا۔
اس سے پہلے 30 جولائی کو ایک غیرمعمولی کانفرنس میں 'ایکوواس' رہنماؤں نے نیجر کے حوالے سے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ اس اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اجلاس کے بعد ایک ہفتے کے اندر صدر بازوم کا اقتدار بحال کیا جائے۔
'ایکوواس' نے خبردار کیا تھا کہ ملک میں دستوری نظام کی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے جن میں طاقت کا استعمال بھی شامل ہے۔ اس الٹی میٹم کی تاریخ گزر چکی ہے۔
اقوام متحدہ کو خدشہ ہے کہ نیجر کا بحران مغربی افریقہ کے وسیع تر خطے پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ ادارہ ملک میں تقریباً 4.3 ملین لوگوں کے لیے دی جا رہی انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت کو واضح کر رہا ہے۔