انسانی کہانیاں عالمی تناظر

چین سے انسانی حقوق کے کارکنوں بارے معلومات دینے کا مطالبہ

تبت کے دو معمر افراد لاسا میں ایک مذہبی تقریب میں شریک ہونے جا رہے ہیں۔
© Unsplash/Aden Lao
تبت کے دو معمر افراد لاسا میں ایک مذہبی تقریب میں شریک ہونے جا رہے ہیں۔

چین سے انسانی حقوق کے کارکنوں بارے معلومات دینے کا مطالبہ

انسانی حقوق

انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے مقرر کردہ غیرجانبدار ماہرین نے چین کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ تبت سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے نو حامیوں کے بارے میں اطلاع فراہم کرے جو 11 سال تک قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

ماہرین نے چین کے حکام کی جانب سے ان کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور وہ اسے ایسی دانستہ کوشش سمجھتے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا ان لوگوں کو بھول جائے جو سالہا سال سے قید تنہائی میں ہیں۔

Tweet URL

2010 اور 2019 کے مابین ماحولیات سے متعلق انسانی حقوق کے نو حامیوں کو اس وقت گرفتار کر کے قید میں ڈالا گیا تھا جب انہوں نے صوبہ شنگھائی، سی شوآن اور خودمختار صوبہ تبت میں کان کنی کی مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں اور معدومیت کے خطرے سے دوچار جانوروں کے شکار کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ 

ابہام اور خاموشی

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کی قید، مقدمے کی کارروائی اور انہیں سزا سنائے جانے کے حالات سے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں تاہم ایسے جن واقعات کے بارے میں خاطرخواہ معلومات میسر ہیں انہی دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ چین میں ایسی سرگرمیوں پر سات سے 11 سال تک قید کی سزا دی جاتی ہے۔ 

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق انایا سینگدرا، ڈورجی ڈاکٹال، کیلسانگ چوکلانگ، ڈھونگائے، رچن نامڈول، سلٹرم گونپو، جینگ چُپ گوڈوپ، سوگرو ابھو اور نامیسے کے خاندانوں کو ان کے ساتھ پیش آنے والے حالات سے بے خبر رکھا گیا ہے۔ 

ماہرین نے اس بارے میں وضاحت کی کمی کو بھی واضح کیا کہ آیا ان لوگوں کو قانونی مشاورت اور طبی نگہداشت تک رسائی حاصل تھی یا انہیں کہاں رکھا گیا تھا۔

ماہرین کا پینل انسانی حقوق کے حامیوں کے حالات سے متعلق خصوصی اطلاع کار میری لالور، پُرامن اجتماع اور میل جول کی آزادی پر خصوصی اطلاع کار کیلمنٹ نیالیٹسوسی اور محفوظ، صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول سے استفادے سے متعلق انسانی حقوق کے امور پر خصوصی اطلاع کار ڈیوڈ بائڈ پر مشتمل ہے۔

انہوں نے چین کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ یہ تفصیلات مہیا کرے کہ ان کارکنوں کو کیوں اور کہاں رکھا گیا ہے، ان کی صحت کیسی ہے اور ان کی خاطرخواہ طبی نگہداشت یقینی بنائے۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ قیدیوں کے خاندانوں کو ان سے ملاقات کے لیے رسائی دے۔

رہائی کا مطالبہ

میری لالور کے لیے کام کرنے والی افسر برائے انسانی حقوق صوفی ہیلی نے یو این نیوز کو بتایا کہ جولائی کے اختتام پر متعدد بااختیار لوگوں نے چین کی حکومت کو الزامات پر مبنی ایک خط بھیجا تھا جس میں تبت سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے حامیوں کو حراست میں رکھے جانے پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ 

اگرچہ یہ بات چیت سامنے نہیں لائی گئی تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ جنیوا میں چین کے مستقل مشن کو بھی ان الزامات سے مطلع کیا جا چکا ہے۔ 

انسانی حقوق کے حامیوں کو قید میں ڈالے جانے کے بعد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور جنرل اسمبلی نے عالمی سطح پر صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق کو تسلیم کیا تھا۔ 

ماہرین نے کہا ہے کہ اگر چین موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے کا عزم رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ماحولیاتی انسانی حقوق کے حامیوں کے خلاف قانونی کارروائی سے پرہیز کرے اور تمام نو افراد کو فی الفور رہا کرے۔ 

خصوصی ماہرین

یہ ماہرین انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کا حصہ ہیں۔

خصوصی طریقہ کار کے ماہرین رضاکارانہ طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ وہ کسی حکومت یا ادارے کا حصہ نہیں ہوتے اور انفرادی طور پر کام کرتے ہیں۔ 

یہ ماہرین اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ بھی نہیں ہیں اور اپنے کام کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے۔