انسانی کہانیاں عالمی تناظر

عراقی قیادت عوامی مفادات کو مقدم رکھے: سربراہ انسانی حقوق

بطور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک کا یہ پہلا دورہ عراق تھا۔
UN Human Rights
بطور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک کا یہ پہلا دورہ عراق تھا۔

عراقی قیادت عوامی مفادات کو مقدم رکھے: سربراہ انسانی حقوق

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے عراق کا اپنا پہلا دورہ مکمل کر لیا ہے جہاں انہوں نے انسانی حقوق کے حوالے سے اہم خدشات، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور اصلاحات کی ضرورت کو واضح کیا۔

ہائی کمشنر وولکر تُرک نے عراق کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ درپیش مسائل پر قابو پانے میں عراق کے لوگوں کے مفادات کو مدنظر رکھیں۔

Tweet URL

موسمیاتی تبدیلی کا بحران 

چار روزہ دورے کے اختتام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ملک کے جنوبی شہر بصرہ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے بارے میں اپنے ذاتی مشاہدات بیان کیے۔ 

انہوں نے بتایا کہ خشک سالی سے متاثرہ اور بنجر کھیتوں میں 50 ڈگری سیلسیئس گرمی میں مقامی رہنماؤں اور عوامی نمائندوں انہیں کھجور کے سرسبز درختوں کی تصاویر دکھائیں جو اب خشک ہو چکی شط العرب کی آبی گزرگاہ کے ساتھ محض 30 سال پہلے تک موجود تھے۔ 

وولکر ترک کا کہنا ہے کہ اس داغ دار منظر نامے میں شدید گرمی میں کھڑے ہو کر اور بہت سی گیسوں سے آلودہ ماحول میں سانس لیتے ہوئے ان پر واضح ہوا کہ عالمگیر کھولاؤ کا دور درحقیقت شروع ہو چکا ہے۔ 

اس موقع پر سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بصرہ میں آلودگی کے مسئلے پر روشنی ڈالی اور اس کے صحت و ماحول پر اثرات کی بابت شفافیت سے کام لینے کو کہا۔ 

انسانی حقوق سے متعلق خدشات 

مزید برآں، وولکر تُرک نے عراق کے تاریخی مسائل کے حوالے سے جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان میں صدام حسین کے دور حکومت میں جبری گمشدگیاں، تشدد اور حقوق کی دیگر پامالیاں اور پھر 2014 سے 2017 تک پیش آنے والے ایسے ہی واقعات شامل ہیں جب عراق کے وسیع علاقے پر داعش نے قبضہ کر لیا تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں انسانی حقوق کی ایسی سنگین پامالیوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی میں انسانی حقوق پامال کرنے والوں کو حاصل کھلی چھوٹ کا خاتمہ ہو۔ انہوں ںے بتایا کہ حکومت اور سول سوسائٹی کے ساتھ ان کی ملاقاتوں میں اس معاملے پر جامع بات چیت ہوئی۔ 

انہوں ںے حقائق معلوم کرنے کے لیے قائم کردہ سرکاری کمیٹی اور اس کی جانب سے ازالے کے پروگراموں کے ذریعے متاثرین کو دی جانے والی مدد کا تذکرہ بھی کیا۔ 

خواتین کی خودمختاری اور صنفی مساوات 

ہائی کمشنر نے خواتین کی بااختیاری اور صنفی مساوات کے اہم کردار کو واضح کیا اور عالمی سطح پر قبول شدہ اناصلاحات کے استعمال پر پابندی کی کوششوں اور ان مسائل پر کام کرنے والی خواتین کو درپیش خطرات اور انہیں دھمکائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ 

انہوں ںے کہا کہ ملک کو درپیش بہت بڑے مسائل کے ہوتے ہوئے یہ نامعقول رویہ ہے۔ ان اصلاحات کا استعمال کسی ثقافت، مذہب یا روایت کے خلاف نہیں ہے۔

وولکر تُرک نے عراق کے قانون ساز ادارے میں خواتین کے لیے 25 فیصد کوٹہ مختص کیے جانے کا خیرمقدم کیا اور فیصلہ ساز عہدوں پر مزید خواتین کی تقرری اور خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے قانون، پالیسی اور معاشرے میں مزید تحفظ فراہم کرنے کے لیے کہا۔ 

کینال ہوٹل پر بم حملے کی یاد 

آخر میں ہائی کمشنر نے 20 سال پہلے بغداد کے کینال ہوٹل پر کیے جانے والے خودکش بم حملے کو یاد کیا جس میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سرجیو وائرا ڈی میلو سمیت ادارے کے عملے کے 22 ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ ایسے لوگ تھے جو عراق کے عوام کی بہتر اور مزید منصفانہ مستقبل کی خواہشات کی تکمیل میں مدد دینے کے لیے مخلصانہ طور سے وہاں آئے تھے۔ 

ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ وہ تمام بااختیار اور بااثر لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ عراق کے عوام کے مفادات اور ان کے انسانی حقوق کو مقدم رکھیں اور بدعنوانی، تفریق، جرائم پر چھوٹ، موسمیاتی تبدیلی اور دیرپا استحکام اور امن کی راہ میں باقی ماندہ رکاوٹوں پر قابو پائیں۔