انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان میں لوگوں کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا: یو این ایچ سی آر

سوڈان سے بھاگ کر آنے والے پناہ گزین جنوبی سوڈان کی سرحد کے قریب اپنے بچوں کے ساتھ عارضی خیمے بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
© UNHCR/Andrew McConnell
سوڈان سے بھاگ کر آنے والے پناہ گزین جنوبی سوڈان کی سرحد کے قریب اپنے بچوں کے ساتھ عارضی خیمے بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

سوڈان میں لوگوں کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا: یو این ایچ سی آر

صحت

اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے امور کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں صحت کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے جہاں اس وقت جاری جنگ کے باعث چار ملین لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

'یو این ایچ سی آر' کے ترجمان ولیم سپائنڈلر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ سوڈان میں نقل مکانی کرنے والے بہت سے خاندانوں کو ہفتوں سفر کرنا پڑ رہا ہے جن کے لیے خوراک اور ادویات کی کمی ہے۔

Tweet URL

ملک میں غذائی قلت کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور بیماریاں پھوٹ رہی ہیں جن کے نتیجے میں لوگ مر رہے ہیں۔

انہوں نے پناہ گزینوں کے کیمپوں اور پناہ کے عبوری مراکز کے حالات پر خاص تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ذہنی صحت کی خدمات عملاً وجود نہیں رکھتیں اور نقل مکانی کرنے والوں کے لیے بہت کم مقدار میں طبی سازوسامان دستیاب ہے۔ 

عالمی ادارہ صحت نے طبی عملے اور سازوسامان کی شدید قلت اور طبی اہلکاروں پر حملوں کی اطلاع دی ہے جس سے ملک بھر میں صحت کی خدمات کے معیار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 

ہیضہ اور ملیریا 

'یو این ایچ سی آر' نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ مہینوں میں ہیضہ اور ملیریا پھوٹنے کا خدشہ ہے اور شدید بارشیں، سیلاب، صحت کی ناکافی سہولیات اور امداد تک رسائی میں رکاوٹیں اس پر مستزاد ہیں۔

ولیم سپائنڈلر نے کہا کہ 'یو این ایچ سی آر' کو آئندہ حالات پر تشویش ہے۔ 

خطے میں بارشوں کا آغاز ہوتے ہی بڑے پیمانے پر سیلاب آ رہا ہے۔ اس سے نکاسی آب کی صورتحال سنگین صورت اختیار کر لے گی۔ 

ڈبلیو ایچ او کے ترجمان کرسٹین لنڈمیئر نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ایسے حالات ہیضے اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ہیں۔ انہوں ںے واضح کیا کہ ڈبلیو ایچ او اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیاری کر رہا ہے۔ 

نیل ابیض کی صورتحال 

ولیم سپائنڈلر نے سوڈان کی ریاست نیل ابیض کی صورتحال کا خاص طور پر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ادویات اور طبی عملے کی کمی کے باعث دارالحکومت خرطوم سے نقل مکانی کرنے والے 144,000 سے زیادہ نئے لوگوں کے لیے 10 مہاجر کیمپوں میں خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ 

ریاست نیل ابیض میں 'یو این ایچ سی آر' کی ٹیموں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں عملے کی کمی ہے اور ہر معالج کو روزانہ کم از کم 70 مریض دیکھنا پڑ رہے ہیں جو طبی اعتبار سے بہت بڑی تعداد ہے۔ 

طبی خدمات کو خطرہ 

ڈبلیو ایچ او نے طبی مراکز پر کیے جانے والے 53 حملوں کی مذمت کی ہے۔ ان میں جولائی میں ایم ایس ایف کے عملے پر کیا جانے والا حالیہ حملہ بھی شامل ہے جس سے طبی تحفظ مزید کمزور پڑ گیا ہے۔ 

ادارے کی جانب سےجاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ طبی خدمات کا تحفظ اور تقدس ہمہ وقت قائم رکھا جانا چاہیے اور خاص طور پر مہلک تشدد کے حالات میں اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب طبی عملے کا کام اور تحفظ زندگی کی خدمات تک محفوظ رسائی مزید اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ 

کرسٹین لنڈمیئر نے صحافیوں کو بتایا کہ جنگ زدہ اور ان سے ملحقہ دونوں جگہوں پر طبی سازوسامان کی کمی کا بھی سامنا ہے کیونکہ نقل مکانی کرنے والے نئے لوگوں کی آمد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ان حالات میں خطے کے اردگرد تمام ممالک پر بوجھ پڑ رہا ہے۔ 

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ سوڈان کی صورتحال غیرمستحکم ہے کیونکہ ضروریات دستیاب وسائل سے کہیں بڑھ گئی ہیں۔ اب تک علاقائی سطح پر پناہ گزینوں کے لیے امداد کی اپیل کے جواب میں صرف 29 فیصد مالی وسائل ہی جمع ہو پائے ہیں۔ 

سوڈان کی وفاقی وزارت صحت کے مطابق لڑائی شروع ہونے کے بعد 12,000 سے زیادہ لوگ زخمی اور 1,200 سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ان اعدادوشمار کی غیرجانبدارانہ طور سے تصدیق نہیں کی جا سکی اور یہ محض خام اندازے ہیں۔