انسانی کہانیاں عالمی تناظر

میانمار میں بڑھتے ہوئے جنگی جرائم کے واضع ثبوت موجود: رپورٹ

شمالی میانمار میں دو سپاہی ایک فوجی چوکی پر ڈیوٹی دیتے ہوئے۔
IRIN/Steve Sandford
شمالی میانمار میں دو سپاہی ایک فوجی چوکی پر ڈیوٹی دیتے ہوئے۔

میانمار میں بڑھتے ہوئے جنگی جرائم کے واضع ثبوت موجود: رپورٹ

انسانی حقوق

میانمار کے لیے غیرجانبار تحقیقاتی طریقہ کار (آئی آئی ایم ایم) ملک کی فوج اور اس سے منسلک ملیشیاؤں کے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں مزید تیزی اور دیدہ دلیری کے ساتھ ملوث ہونے کی موثر شہادت سامنے لایا ہے۔

ان جرائم میں شہریوں پر اندھا دھند فضائی حملے، عام لوگوں اور جنگی قیدیوں کو اجتماعی طور پر موت کی سزا دی جانا اور شہریوں کے گھروں اور عمارتوں کو بڑے پیمانے پر اور دانستہ جلایا جانا شامل ہیں۔ ایسے بعض واقعات میں پورے کے پورے گاؤں نذر آتش کر دیے گئے ہیں۔

Tweet URL

'آئی آئی ایم ایم' کے سربراہ نکولس کومجیان نے کہا ہے کہ میانمار میں ہر انسانی جان کا ضیاع المناک ہے تاہم فضائی بمباری سے پورے علاقوں پر مسلط کی جانے والی تباہی اور دیہات کو جلایا جانا خاص طور پر خوفناک ہے۔

وہ اپریل 2023 میں ساگینگ میں کیے جانے والے فضائی حملے کا حوالہ دے رہے تھے جس میں اطلاعات کے مطابق 155 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے۔ 

انہوں نے بتایا کہ 'آئی آئی ایم ایم' کو حاصل ہونے والی شہادتوں سے ملک میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں غیرمعمولی اضافے کی نشاندہی ہوتی ہے جس کے ساتھ شہریوں کے خلاف وسیع پیمانے پر اور منظم طور سے کیے جانے والے حملے بھی شامل ہیں۔ تحقیقاتی طریقہ کار کے تحت ایسے واقعات کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں ان مظالم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا جا سکے۔

فوجی کمانڈروں کی ذمہ داری 

'آئی آئی ایم ایم' نے واضح کیا ہے کہ فوجی کمانڈروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحت اہلکاروں کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب کو روکیں اور ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو سزا دیں۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکامی کی صورت میں بین الاقوامی قانون کے تحت ان کمانڈروں کو مجرمانہ عمل کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔ 

ایسے جرائم کو تواتر سے نظر انداز کرنے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا ارتکاب اعلیٰ حکام کے ایما پر ہوا۔ 

اس طریقہ کار کے تحت میانمار میں سنگین ترین بین الاقوامی جرائم کی تحقیقات کے دوران 700 سے زیادہ ذرائع سے معلومات لی گئی ہیں جن میں 200 سے زیادہ عینی شاہدین کے بیانات کے علاوہ تصاویر، ویڈیو، آڈیو مواد، دستاویزات، نقشوں، جغرافیائی عکاسی، سوشل میڈیا کی پوسٹوں اور فارنزک ثبوتوں کی صورت میں اضافی شہادتیں بھی شامل ہیں۔ 

روہنگیا کے خلاف تشدد کی تحقیقات 

اس طریقہ کار کے ذریعے تشدد کے اُس سلسلے کی بھی بھرپور تحقیقات کی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں 2016 اور 2017 میں میانمار سے روہنگیا باشندوں کو بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنا پڑی۔ اس رپورٹ میں خاص طور پر کہا گیا ہے کہ اُس وقت روہنگیا آبادی کے خلاف جنسی اور صنفی بنیاد پر جرائم کا ارتکاب کیا گیا تھا۔ 

کومجیان نے کہا کہ جنسی اور صنفی بنیاد پر کیے جانے والے جرائم ایسے وحشیانہ ترین افعال میں شامل ہیں جن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ 

روہنگیا کی نسلی صفائی کی کارروائیوں کے دوران ایسے جرائم عام تھے اور جن گواہوں سے بات کی گئی ہے ان کے پاس متعلقہ شہادتیں بھی موجود ہیں۔ 

اس طریقہ کار کے تحت جرائم کی عالمی عدالت (آئی سی سی)، عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) اور ارجنٹائن میں روہنگیا کے حوالے سے مقدمات پر کام کرنے والوں کے ساتھ شہادتیں، معلومات اور تجزیاتی رپورٹوں کا تبادلہ بھی کیا جا رہا ہے۔ 

غیرجانبدارانہ طریقہ کار 

میانمار کے لیے غیرجانبدارانہ تحقیقاتی طریقہ کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2018 میں وضع کیا تھا اور اس کے تحت اگست 2019 میں کام کا آغاز ہوا۔ 

اس کی ذمہ داریوں میں سنگین ترین بین الاقوامی جرائم اور بین الاقوامی قانون کی پامالیوں سے متعلق شہادتیں جمع کرنا اور مجرمانہ عمل کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے فائلوں کی تیاری اور حاصل شدہ معلومات کو میانمار سے متعلق حقائق کی تلاش کے غیرجانبدارانہ بین الاقوامی مشن کو دینا ہے۔ 

یہ طریقہ کار غیرجانبدار اور تجربہ کار پیشہ ور ماہرین اور انتظامی اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ اس کے پاس اپنی پولیس، قانون دان اور جج نہیں ہیں۔