انسانی کہانیاں عالمی تناظر

تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے ماں اور بچے کی ہلاکت پر یونیسف افسردہ

ایک کم سن تارک وطن اٹلی کے ساحل پر کھڑا ہے۔
© UNICEF/Ashley Gilbertson VII
ایک کم سن تارک وطن اٹلی کے ساحل پر کھڑا ہے۔

تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے ماں اور بچے کی ہلاکت پر یونیسف افسردہ

مہاجرین اور پناہ گزین

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بحیرہ روم میں تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنے والے تازہ ترین حادثے کے بعد کہا ہے کہ مہاجرت کے لیے محفوظ قانونی راستے مہیا کرنا ضروری ہے۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کو اٹلی کے جزیرے لیمپیڈوسا کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی دو کشتیاں ڈوبنے سے ایک حاملہ خاتون اور ایک بچہ ہلاک ہو گئے تھے۔

Tweet URL

بتایا گیا ہے کہ یہ کشتیاں تیونس کے شہر صفاقس سے روانہ ہوئی تھیں اور ان پر سوار بہت سے مسافروں کا تعلق ذیلی صحارا افریقہ کے ممالک سے تھا۔ 

اٹلی میں قومی سطح پر اقدامات کے لیے یونیسف کی رابطہ کار نکولا ڈیل آرسیپریتے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ادارے کو بحیرہ روم میں کشتی کے ایک اور حادثے پر بہت افسوس ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ اٹلی کے علاقے لیمپیڈوسا کے ساحل کے قریب موت کے منہ میں جانے والوں میں ایک حاملہ خاتون شامل ہے۔ اس واقعے میں ڈیڑھ سالہ بچہ بھی ہلاک ہوا جو اپنی والدہ کے ساتھ سفر کر رہا تھا جبکہ بچوں سمیت 30 لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔ انہوں نے اس المناک واقعے کے تمام متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ 

'سمندر میں اموات کو روکیں' 

نکولا آرسیپریتے نے یاد دلایا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں کم از کم 289 بچے بحیرہ روم کے راستے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔ چونکہ بہت سے حادثوں میں کوئی فرد زندہ نہیں بچا یا اس راستے پر سفر کرنے والوں کا ریکارڈ موجود نہیں ہے اس لیے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ بااختیار لوگوں پر زور دیتا ہے کہ وہ یورپی یونین میں مہاجرت اور پناہ کے لیے محفوظ قانونی طریقے وضع کرے اور سمندر میں اموات کو روکنے کے لیے تلاش اور بچاؤ کی مربوط کارروائیاں کی جائیں۔ مہاجر بچوں کو ان کے اپنے ممالک، ان کی عبوری منازل اور اُن ممالک میں تحفظ دینے کے لیے مزید اقدامات کیے جانا چاہئیں جہاں وہ جانا چاہتے ہیں۔ 

دریں اثنا، یونیسف لیمپیڈوسا میں اٹلی کی حکومت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنا رہا ہے کہ اس حادثے کے متاثرہ بچوں اور خواتین کو نفسیاتی مدد، صحت کی سہولیات اور دیگر خدمات تک رسائی مل سکے۔