انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنوبی ایشیا: بچوں کی زندگیوں کو اونچے درجہ حرارت اور تپش سے خطرہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع راجن پور میں ایک بچہ شدید گرمی میں یونیسف کے مقامی کیمپ آفس کے باہر کھڑا ہے۔
© UNICEF/Juan Haro
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع راجن پور میں ایک بچہ شدید گرمی میں یونیسف کے مقامی کیمپ آفس کے باہر کھڑا ہے۔

جنوبی ایشیا: بچوں کی زندگیوں کو اونچے درجہ حرارت اور تپش سے خطرہ

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تین چوتھائی بچوں کو انتہائی شدید گرمی کا سامنا ہے جبکہ عالمی سطح پر ایسے بچوں کی شرح ایک تہائی ہے۔

یونیسف نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو گرمی سے بچانے کے لے مزید اقدامات کریں۔ ادارے کا اندازہ ہے کہ اس خطے میں 18 سال سے کم عمر کے 460 ملین بچے انتہائی درجے کی شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں جہاں سال میں 83 یا اس سے زیاد ایام میں درجہ حرارت 35 سیلسیئس سے تجاوز کر جاتا ہے۔

Tweet URL

امسال جولائی کرہ ارض پر اب تک کا گرم ترین مہینہ رہا جس کے باعث ایسے مستقبل کی بابت مزید خدشات نے جنم لیا جہاں بڑی حد تک موسمیاتی تبدیلی کے باعث جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے مختلف خطوں کے بچوں کو متوقع طور پر گرمی کی مزید متواتر اور شدید لہروں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

جنوبی ایشیا کے لیے یونیسف کے ریجنل ڈائریکٹر سنجے وجے سیکرا نے کہا ہے کہ دنیا 'عالمگیر کھولاؤ' کی جانب بڑھ رہی ہے اور معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ پورے جنوبی ایشیا میں لاکھوں بچوں کی زندگیوں اور بہبود کو گرمی کی لہروں اور شدید درجہ ہائے حرارت سے لاحق خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گرم ترین شہر

موسمی شدت کے واقعات سے خطرات کا سامنا کرنے والے بچوں کے بارے میں یونیسف کے 2021 کے اشاریے (سی سی آر آئی) کے مطابق افغانستان، بنگلہ دیش، انڈیا، مالدیپ اور پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے انتہائی اونچے درجے کے خطرے کا سامنا ہے۔ 

وجے سیکرا نے کہا کہ اس ضمن میں چھوٹے، نومولود اور غذائی قلت کا شکار بچوں اور حاملہ خواتین کی صورتحال خاص تشویش کا باعث ہے کیونکہ وہ گرمی کی لہروں اور دیگر سنگین موسمی اثرات کے مقابل انتہائی غیرمحفوظ ہوتے ہیں۔ 

پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ کا شہر جیکب آباد 2022 میں دنیا کا گرم ترین شہر رہا جہاں جون میں درجہ حرارت 40 سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس صوبے کے مختلف علاقوں میں 1.8 ملین لوگوں کو گرمی کے باعث صحت کے مختصر اور طویل مدتی خدشات کا سامنا ہے۔

پاکستان میں اگست 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ایک سال سے بھی کم عرصہ میں جھلسا دینے والی گرمی پڑ رہی ہے۔ اس سیلاب کے نتیجے میں جنوبی سندھ کے بیشتر علاقے زیرآب آ گئے تھے۔ 

جان لیوا خدشات 

بارشوں کے موسم میں بھی گرمی بچوں پر بری طرح اثرانداز ہو سکتی ہے۔ چونکہ بچے خود کو موسمیاتی تبدیلی سے فوری طور پر ہم آہنگ نہیں کر پاتے اسی لیے وہ اپنے جسم سے فاضل گرمی خارج نہیں کر سکتے۔ 

اس سے نوعمر بچوں میں شدید درجے کے بخار، دل کی دھڑکن میں تیزی، اکڑن، شدید سر درد، ذہنی ابتری، اعضا کے ناکارہ ہونے، جسم میں پانی کی کمی، غشی اور بے ہوشی، نومولود بچوں میں ناقص دماغی نمو، عصبی خرابی اور دل کی بیماریوں جیسی علامات اور امراض پیدا ہو سکتے ہیں۔ 

حاملہ خواتین شدید گرمی کے حوالے سے جسمانی طور پر زیادہ حساس ہوتی ہیں جنہیں اینٹھن، خون کے غیرمعمولی دباؤ، بلند فشار خون، قبل از وقت اور مردہ بچوں کی پیدائش جیسے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ 

چھوٹے بچوں کو برف کی ٹکور کرنے، پنکھے سے ہوا دینے اور ٹھنڈک پہنچانے سے ان کے جسمانی درجہ حرارت کو کم کیا جا سکتا ہے جبکہ بڑے بچوں کو ٹھنڈے پانی میں نہانے سے افاقہ ہوتا ہے۔ 

گرمی کا توڑ 

یونیسف نے نچلی سطح پر کام کرنے والے طبی کارکنوں، والدین، خاندانوں، دیکھ بھال کرنے والوں اور مقامی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ شدید گرم موسم میں بچوں کو تحفظ دیں اور درج ذیل اقدامات کے ذریعے گرمی کا توڑ کریں جنہیں ان کے عنوانات کے مخفف 'بی، ای، اے، ٹی' سے بھی پکارا جاتا ہے۔ 

  • گرمی کے دباؤ سے آگاہ رہیں اور اپنا اور اپنے بچوں کا تحفظ کریں۔ گرمی کو دور کرنے کے اقدامات اٹھائیں، گرمی کے دباؤ کا ادراک کریں اور جانیں کہ اس موقع پر کون سے اقدامات کیے جانا چاہئیں۔ 
  • علامات کو باآسانی شناخت کریں۔ بیماروں، معمر افراد اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں، مقامی لوگوں اور نچلی سطح پر کام کرنے والے طبی کارکنوں کو گرمی سے متعلقہ بہت سے بیماریوں کی علامات کو سمجھنا چاہیے۔ 
  • تحفظ کے لیے فوری قدم اٹھائیں۔ ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے لیے ایسے طریقے سیکھیں جن سے دیکھ بھال کے ذمہ داروں اور نچلی سطح پر کام کرنے والے طبی کارکنوں کو مختصر مدتی طور پر جسمانی درجہ حرارت کو دوبارہ متوازن بنانے کے لیے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ 
  • گرمی کے متاثرین کو طبی مرکز میں پہنچائیں۔ نچلی سطح پر کام کرنے والے طبی کارکنوں، خاندانوں اور دیکھ بھال کرنے والوں کو گرمی کے دباؤ کی علامات کو فوری پہنچاننا چاہیے اور متاثرہ لوگوں کو طبی مرکز میں پہنچانے میں مدد دینی چاہیے۔ 

انتہائی کمزور بچے، نوعمر اور خواتین ہی شدید موسمی واقعات کی سب سے بھاری قیمت چکاتے ہیں۔

وجے سیکرا کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچے گرمی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر ہم نے اس معاملے میں فوری اقدامات نہ کیے تو یہ بچے آنے والے برسوں میں مزید تواتر اور شدت سے پیدا ہونے والی گرمی کی لہروں سے بری طرح متاثر ہوتے رہیں گے جبکہ اس گرمی کو لانے میں ان کا کوئی قصور بھی نہیں ہو گا۔