بحیرہ اسود معاہدے کا خاتمہ خوراک کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا سبب
اقوام متحدہ کے ادارہء خوراک و زراعت نے بتایا ہے کہ جنگ زدہ یوکرین سے باقی دنیا کو بحری راستے سے اناج کی ترسیل کا اہم معاہدہ ختم ہونے کے بعد کئی مہینوں میں پہلی عالمی سطح پر خوراک کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
ادارے نے خوراک کی قیمتوں سے متعلق اپنا تازہ ترین اشاریہ (ایف پی آئی) جاری کیا ہے جو دنیا بھر میں اناج، نباتاتی تیل، ڈیری مصنوعات، گوشت اور چینی کی ماہانہ قیمتوں کا پتا چلاتا ہے۔
جولائی میں یہ اشاریہ 123.9 درجے پر تھا جس میں نباتاتی تیل اور چاول کی قیمتیں بڑھنے کے باعث جون کے مقابلے میں 1.3 گنا اضافہ ہوا۔
لاکھوں لوگوں کے لیے غذائی مشکلات
جولائی میں نباتاتی تیل کی قیمتوں سے متعلق ایف اے او کے اشاریے میں متواتر سات ماہ کمی کے بعد 12.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
روس کی جانب سے بحیرہ اسود کے راستے اناج اور کھادوں کی برآمد کے اقدام سے نکلنے کے فیصلے سے پیدا ہونے والے غیریقینی حالات کے باعث سورج مکھی کے تیل کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔
اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ اور اس کے متوازی روس اور اقوام متحدہ کے مابین ایک اور معاہدے کی بدولت دنیا بھر میں بھوک اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنے والےلاکھوں لوگوں کی مدد ممکن ہوئی۔ ان میں افغانستان اور ایتھوپیا جیسے ممالک میں رہنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔
گندم کی قیمتوں میں اضافہ
جون میں اناج کی قیمتوں سے متعلق اشاریے میں 0.5 فیصد کمی آئی۔ یہ بڑی حد تک دو عوامل کا نتیجہ ہے جن میں ارجنٹائن اور برازیل سے مکئی کی موسمی ترسیل میں اضافے کے باعث موٹے اناج کے نرخوں میں کمی اور امریکہ میں ممکنہ طور پر اندازے سے زیادہ پیداوار شامل ہیں۔
تاہم یوکرین سے برآمدات کی غیریقینی صورتحال اور شمالی امریکہ میں متواتر خشک موسم کے باعث نو مہینوں میں پہلی مرتبہ گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
جولائی میں چاول کی قیمتوں میں 2.8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور انڈیا کی جانب سے برآمدات روکنے سے ایک سال بعد یہ اضافہ تقریباً 20 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ ایف اے او نے خبردار کیا ہے کہ اس سے دنیا کی آبادی کے بڑے حصے کے لیے غذائی تحفظ سے متعلق نمایاں خدشات نے جنم لیا ہے۔ اس میں خاص طور پر غریب ترین لوگ شامل ہیں جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک کی خریداری پر خرچ کرتے ہیں۔
چینی کی قیمتوں کے اشاریے میں تقریباً چار فیصد کمی آئی جو برازیل میں گنے کی بہتر فصل، انڈیا میں بیشتر زرعی علاقوں میں اچھی بارشوں اور دنیا میں سب سے زیادہ چینی درآمد کرنے والے ممالک انڈونیشیا اور چین کی جانب سے طلب میں کمی کا نتیجہ ہے۔
ڈیری مصنوعات کی قیمتوں کے اشاریے میں 0.4 فیصد کمی واقع ہوئی جو کہ جولائی 2022 کی قدر کے مقابلے میں 20 فیصد سے زیادہ کم ہے۔ اسی طرح جون سے اب تک گوشت کی قیمتیں 0.3 فیصد کم ہو چکی ہیں۔