پائیدار ترقی کے لیے بھرپور امنگ سے کام کرنے کی ضرورت: امینہ محمد
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ جے محمد نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات میں اضافہ کرنے، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، پائیدار نظام ہائے خوراک کے فروغ، اچھے روزگار اور سماجی تحفظ کے لیے فوری کوششیں کرنے کو کہا ہے۔
برازیلیا میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جی20 کے آئندہ سربراہ کی حیثیت سے برازیل پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے پر اجتماعی عالمی اقدامات کو تحریک دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں فوری مدد فراہم کرنے کے لیے ایس ڈی جی کے حصول پر کام کی رفتار تیز کرنے کے اقدام کی وکالت، کثیرفریقی ترقیاتی بینکوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں اصلاحات لانے اور فیصلہ سازی میں ترقی پذیر ممالک کا اہم کردار یقینی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اس میں ایس ڈی جی کے حصول کے لیے کرہ ارض کے جنوبی حصے کے ممالک کے مابین اور سہ فریقی تعاون بڑھانے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں جسے حالیہ برسوں میں برازیل نے اپنی ترجیح بنایا ہے۔
لاطینی امریکہ کو درپیش مسائل
نائب سیکرٹری جنرل نے لاطینی امریکہ کے ممالک کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی جس نے کووڈ۔19 سے بھاری نقصان اٹھایا ہے۔ اس وبا کے نتیجے میں اس خطے میں غربت اور معاشی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
خطے کی خواتین اس وبا سے غیرمتناسب طور سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں خاص طور پر وہ خواتین شامل ہیں جو معیشت کے غیررسمی شعبوں میں کام کرتی ہیں۔
انہوں نے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کی جانب پیش رفت میں کمی آنے کے بارے میں بھی بات کی۔ ایسے 50 فیصد سے زیادہ اہداف کے حصول کے لیے ہونے والی کوششیں کمزور یا ناکافی ہیں اور 30 فیصد اہداف ایسے ہیں جن کے حصول کے لیے پیش رفت یا تو رک چکی ہے یا اس مقصد میں حاصل ہونے والی کامیابیاں ضائع ہو رہی ہیں۔ ان میں غربت کے خاتمے اور بھوک اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی لانے سے متعلق اہم اہداف بھی شامل ہیں۔
ٹھوس وعدوں اور منصوبوں کی ضرورت
مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے امینہ محمد نے ستمبر میں ہونے والی ایس ڈی جی کانفرنس کی اہمیت واضح کی۔
انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل دنیا کے رہنماؤں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور ایس ڈی جی کانفرنس میں انسانوں اور زمین کے بچاؤ کے منصوبے میں اپنا کردار ادا کرنے کی تیاری کر کے آئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس ایس ڈی جی کے حصول کی جانب پیش رفت کے لیے اپنے ممالک کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کی بابت ٹھوس وعدے اور عملی منصوبے ہونے چاہئیں۔
انہوں نے برازیل سے کہا کہ وہ اپنے ہاں 2030 کے ایجنڈے پر عملدرآمد کی کوششوں، اس راہ میں حائل مشکلات اور اپنے تجربات سے دوسروں کو آگاہ کرے۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ برازیل فٹ بال کے حوالے سے عالمی سطح پر شہرت رکھتا ہے اور وہ کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ بہتر طور سے جانتا ہے کہ کھیل مقابلے کے دوسرے نصف حصے میں جیتے جاتے ہیں۔
نائب سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ایس ڈی جی کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ان اہداف کے حصول کے عرصہ میں نصف وقت گزر جانے کے بعد برازیل کی حیثیت ایسے اہم کھلاڑی جیسی ہے جو ہمیں انسانوں اور زمین کے لیے جیتنے میں مدد دے سکتا ہے۔
برازیل کا دورہ
نائب سیکرٹری جنرل برازیل کی حکومت کی دعوت پر وہاں کا دورہ کر رہی ہیں جہاں وہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں، اقوام متحدہ کے عملے اور سول سوسائٹی سے 2030 کے ایجنڈے کے حصول کے لیے اقدامات کی رفتار بڑھانے اور موسمیاتی معاملے پر وعدوں کے حوالے سے ملک کے کردار پر بات چیت کریں گی۔
دورے میں متوقع طور پر وہ ریاست پارا میں ایمازون کے علاقے میں بھی جائیں گی اور اس دوران آئندہ 'ایمازون ڈائیلاگز' کے تناظر میں بیلیم میں ملاقاتیں کریں گی۔