پاکستان: مون سون بارشوں اور سیلاب سے ایک بار پھر تباہی اور ہلاکتیں
اقوام متحدہ میں امدادی امور کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) کے مطابق امسال پاکستان میں 25 جون سے 30 جولائی تک مون سون کی شدید بارشوں میں 179 افراد ہلاک اور 264 زخمی ہو گئے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ برس آنے والے سیلاب سے متاثرہ بہت سے علاقوں میں بحالی کا عمل تاحال مکمل نہیں ہو سکا جبکہ ملک کو حالیہ مون سون میں ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر سیلاب کا خطرہ درپیش ہے۔
پاکستان میں 'او سی ایچ اے' کے دفتر نے آفات سے بچاؤ کے ملکی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ پانچ ہفتوں میں آنے والی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں سے ملک بھر میں 1,594 گھروں کو نقصان پہنچا اور 480 مویشیوں کی ہلاکت ہوئی۔
خیبر پختونخواہ میں بھاری نقصانات
اس عرصہ میں خیبرپختونخوا (کے پی) میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق تیز بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے حادثات میں 16 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے جبکہ 126 مویشیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے 228 گھر متاثر ہوئے جن میں 29 مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور 199 کو جزوی نقصان پہنچا۔
یہ واقعات صوبے کے بہت سے علاقوں میں پیش آئے جن ضلع سوات، بٹگرام، مانسہرہ، مردان، شانگلہ، اپر کوہستان، اپر دیر، لوئر دیر، ایبٹ آباد، تورغر، چارسدہ، ہری پور، اپر چترال اور لوئر چترال نمایاں ہیں۔ بارشوں اور سیلاب کے بعد صوبائی حکومت نے 23 جولائی کو اپر اور لوئر چترال میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے جو 15 اگست تک برقرار رہے گی۔
صوبہ بلوچستان میں تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں نے پانچ افراد کی جان لی اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ اس قدرتی آفت میں 131 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور 315 کو جزوی نقصان ہوا۔ بارشوں سے ضلع واشک اور خاران سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ضلع نصیر آباد، صحبت پور، جھل مگسی اور اوستہ محمد میں طغیانی آنے کی اطلاعات ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔