جولائی 2023 کے ریکارڈ پر گرم ترین مہینہ ہونے کا امکان، موسمیاتی سائنسدان
جنوبی یورپ اور شمالی افریقہ کے جنگلوں میں آگ بھڑکنے کے واقعات پر اقوام متحدہ کے موسمیاتی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ فی الواقع یقینی ہے کہ جولائی 2023 اب تک کا گرم ترین مہینہ ہو گا جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے موسمیاتی شدت سے نمٹنے کے لیے اقدامات تیز کرنے پر زور دیا ہے۔
نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ جولائی 2023 ممکنہ طور پر گرمی کے تمام ریکارڈ توڑ دے گا اور آنے والے دنوں میں دنیا ایک چھوٹے برفانی دور کی طرف بڑھ جائے گی۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ بڑھتی عالمی حدت کے نتائج بالکل واضح ہونے کے ساتھ اتنے ہی المناک بھی ہیں۔ مون سون کی بارشوں میں بچے بہہ گئے، خاندانوں کو شعلوں سے بچنے کے لیے بھاگنا پڑا اور جھلسا دینے والی گرمی میں کارکن بے حال ہو کر گرتے رہے۔
عالمگیر کھولاؤ کا دور
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج، موسمیاتی تبدیلی سے مطابق پیدا کرنے اور اس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مالی وسائل کے اہتمام کی غرض سے عالمگیر اقدامات کی ضرورت کو واضح کیا۔
انہوں ںے خبردار کیا کہ عالمی حدت کا دور ختم ہو چکا ہے اور عالمگیر کھولاؤ کا دور آن پہنچا ہے۔
اگرچہ موسمیاتی تبدیلی واضح ہے تاہم اب بھی بدترین حالات کو روکا جا سکتا ہے۔ تاہم ایسا کرنے کے لیے آتشیں گرمی کے سال کو پُرجوش عزائم کے سال میں تبدیل کرنا ہو گا۔
فوری اقدامات کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ دنیا کے رہنما موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اور موسمیاتی انصاف کے لیے اقدامات کی غرض سے قدم بڑھائیں۔ ان میں جی20 کے نمایاں صںعتی ممالک کے رہنماؤں پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو دنیا بھر میں 80 فیصد گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے آئندہ کانفرنسوں کا تذکرہ کیا جن میں ستمبر میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے عزائم سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس اور نومبر میں دبئی میں ہونے والی کاپ 28 موسمیاتی کانفرنس شامل ہیں۔ یہ دونوں اس مسئلے پر عملی اقدامات کا اہم موقع ہوں گی۔
نیٹ زیرو کا ہدف
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ جی20 ممالک کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے لیے نئے قومی اہداف متعین کرنا چاہئیں اور انہوں ںے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ صدی کے وسط تک نیٹ زیرو ہدف حاصل کرنے کی کوششیں کریں۔
انہوں نے کہا کہ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ تیل اور گیس پر انحصار کو محدود کرنے اور 2040 تک کوئلے کے استعمال کا خاتمہ کرتے ہوئے متحد ہو کر معدنی ایندھن سے قابل تجدید توانائی کی جانب منصفانہ اور مساوی منتقلی کی رفتار کو تیز کریں۔
اس حوالے سے کمپنیوں، شہروں، علاقوں، مالیاتی اداروں اور معدنی ایندھن سے متعلق کمپنیوں کے اقدامات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مزید ظاہری اقدامات اور مزید حیلہ سازی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسی طرح نیٹ زیرو اتحادوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے اینٹی ٹرسٹ قوانین کو استحصالی مقاصد کے لیے توڑنے موڑنے کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔
'موسمیاتی مطابقت' کے لیے سرمایہ کاری
شدید موسمی کیفیات اب نیا معمول بنتی جا رہی ہیں اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتونیو گوتیرش نے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے عالمی سطح پر بھرپور سرمایہ کاری کی اپیل کی تاکہ لاکھوں لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ دیا جائے جن میں ترقی پذیر ممالک خاص طور پر اہم ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ 2025 تک موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات پر سرمایہ کاری کو دگنا کرنے کے لیے واضح اور قابل اعتبار لائحہ عمل دیں۔ مزید برآں، تمام حکومتوں کو اقوام متحدہ کے عملی اقدامات کے منصوبے پر عملدرآمد کرنا چاہیے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کرہ ارض پر ہر فرد کو موسمی شدت کے واقعات سے بروقت آگاہی کے نظام کے ذریعے تحفظ حاصل ہو۔
'وعدوں کا پاس کریں'
مالیاتی حوالے سے بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے امیر ممالک پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات میں مدد دینے کے لیے سالانہ 100 بلین ڈالر مہیا کرنے کے وعدوں کا پاس کریں اور 'گرین کلائمیٹ فنڈ' کے اہداف پورے کریں۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ جی7 کے صرف دو ممالک کینیڈا اور جرمنی نے ہی اب تک وعدے کے مطابق مالی وسائل مہیا کیے ہیں۔ ممالک کو چاہیے کہ وہ رواں برس کاپ 28 میں نقصان اور تباہی کے ازالے سے متعلق فنڈ کو بھی فعال کریں۔ اس حوالے سے مزید تاخیر یا بہانوں کی کوئی گنجائش نہیں۔
انتونیو گوتیرش نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کی رفتار تیز کرنے کے لیے عالمی مالیاتی نظام کو درست راہ پر گامزن کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ایسے اقدامات میں کاربن کے اخراج پر قیمت مقرر کرنا اور کثیرفریقی ترقیاتی بینکوں کو قابل تجدید توانائی، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنےکے اقدامات اور نقصان و تباہی کے ازالے کے لیے مالی وسائل بڑھانے کے لیے تیار کرنا بھی شامل ہے۔
ریکارڈ توڑ مہینہ
عالمی موسمیاتی تنظیم ڈبلیو ایم اور یورپی کمیشن کے موسموں پر نظر رکھنے ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے سائنسدانوں نے جولائی 2023 میں پڑنے والی گرمی کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے اعداد و شمار کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ اس سال جولائی کے پہلے تین ہفتے ریکارڈ پر گرم ترین دن تھے۔