انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یونیسکو کی سکولوں میں سمارٹ فونوں پر پابندی لگانے کی تجویز

فلپائن کے ایک سکول میں بچے سلیفی لیتے ہوئے۔
© UNICEF/Joshua Estey
فلپائن کے ایک سکول میں بچے سلیفی لیتے ہوئے۔

یونیسکو کی سکولوں میں سمارٹ فونوں پر پابندی لگانے کی تجویز

ثقافت اور تعلیم

تعلیم، سائنس اور ثقافت پر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی ایک نئی رپورٹ میں سمارٹ فون کے حد سے زیادہ استعمال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کے سکولوں میں ان پر پابندی لگانے کو کہا گیا ہے۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے جاری کی ہے جس میں موبائل فون کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے سیکھنے کے عمل پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

Tweet URL

تعلیم میں ٹیکنالوجی کے اثرات سے متعلق یونیسکو کی رپورٹ میں ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ احتیاط سے غور کریں کہ سکولوں میں ٹیکنالوجی سے کیسے کام لیا جاتا ہے۔ 

رپورٹ میں 'انسانوں پر مرتکز تصور' کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے جس میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی انسانوں پر سبقت لے جانے کے بجائے ان کی مددگار کا کردار ادا کرتی ہے۔ 

'تعلیم میں ٹیکنالوجی کا استعمال: کس کا حکم چلے گا؟' کے عنوان سے اس رپورٹ کا اجراء یوروگوئے کے دارالحکومت مونٹیویڈیو میں یونیسکو اور ملک کی وزارت تعلیم و ثقافت کے زیراہتمام ہوا۔ رپورٹ میں پالیسی سازوں اور ماہرین تعلیم کی توجہ کے لیے چار سوالات پیش کیے گئے ہیں جبکہ تعلیمی ٹیکنالوجی تیزی سے قابل رسائی ہوتی جا رہی ہے اور اس کا دنیا بھر میں استعمال ہو رہا ہے۔ 

ٹیکنالوجی کا درست استعمال 

پہلا سوال کمرہ جماعت میں ٹیکنالوجی کے درست استعمال سے متعلق ہے۔ روایتی اور بالمشافہ ماحول میں مشکلات کا سامنا کرنے والے جسمانی معذوری کے حامل بچے بھی ٹیکنالوجی پر مبنی معاونت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 

اس رپورٹ کے اجراء سے متعلق امور کے ڈائریکٹر مانوز اینتونینس نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے غیرمعمولی مواقع پیدا کیے ہیں اور طلبہ کے لیے اس نے جو نئی راہیں نکالی ہیں وہ ہمارے لیے ہمیشہ حیران کن رہی ہیں۔ 

ہمیں تعلیم میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم مستقبل میں انہیں نہ دہرائیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ہمیں بچوں کو ٹیکنالوجی کے ساتھ اور اس کے بغیر چلنے، اطلاعات کی بہتات سے اپنی ضرورت کی معلومات لینے اور غیرضروری چیزوں کو نظرانداز کرنے، ٹیکنالوجی سے مدد لینے اور تدریس و تعلیم کے عمل میں اسے انسانی روابط سے تبدیل نہ کرنے کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ 

مساوی مواقع 

کووڈ۔19 وبا کے دوران آن لائن تعلیم کی جانب تیزرفتار منتقلی کے باعث دنیا بھر میں تقریباً 500 ملین طلبہ پیچھے رہ گئے ہیں جن میں بیشتر کا تعلق پسماندہ اور دیہی ماحول سے ہے۔ 

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تعلیم کا حق بڑی حد تک بامعنی ربط کے حق کے مترادف ہے تاہم ہر چار میں سے ایک پرائمری سکول بجلی سے محروم ہے۔ رپورٹ میں تمام ممالک سےکہا گیا ہے کہ وہ 2030 تک سکولوں کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کے اہداف طے کریں اور اس حوالے سے پسماندہ لوگوں پر خاص توجہ دی جائے۔ 

ٹیکنالوجی کتنی موثر ہے؟

تعلیم میں ٹیکنالوجی کے اضافی فوائد سے متعلق غیرجانبدارانہ شہادتوں کا فقدان ہے۔ ایسے بیشتر ثبوت امریکہ سے آئے ہیں جہاں تعلیمی شعبے پر تحقیق سے متعلق ڈیجیٹل لائبریری 'وہاٹ ورکس کلیئرنگ ہاؤس' نے بتایا ہے کہ جائزے میں آنے والے دو فیصد سے بھی کم تعلیمی اقدامات ایسے تھے جن میں ٹیکنالوجی مضبوط یا معتدل حد تک موثر رہی۔

یونیسکو کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ارتقا سے نظام ہائے تعلیم پر اس سے مطابقت اختیار کرنے کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر تخلیقی مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ ڈیجیٹل خواندگی اور تنقیدی سوچ اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔ 

رپورٹ میں شامل اضافی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی شعبے میں ٹیکنالوجی سے مطابقت پیدا کرنے کی تحریک شروع ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے جن 54 ممالک کا جائزہ لیا گیا انہوں ںے مستقبل کے لیے پیدا کی جانے والی صلاحیتوں کے بارے میں بتایا تاہم 51 میں سے صرف 11 حکومتوں کے پاس مصنوعی ذہانت سے متعلق نصاب موجود ہے۔ 

مزید برآں، اساتذہ کو بھی اس حوالے سے ضروری تربیت درکار ہے تاہم ابھی تک صرف نصف ممالک کے پاس ہی اساتذہ کو اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی سے متعلق صلاحیتوں کو ترقی دینے کے معیارات موجود ہیں۔ ایسے ممالک کی تعداد اور بھی کم ہے جنہوں ںے سائبر سکیورٹی کے حوالے سے اساتذہ کے لیے تربیتی پروگرام تیار کر رکھے ہیں حالانکہ تاوان کے لیے کمپیوٹر پر کیے جانے والے پانچ فیصد سائبر حملوں میں تعلیمی شعبے کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

سمارٹ فون اور سوشل میڈیا بچوں کی زندگیوں پر خاصے اثر انداز ہو رہے ہیں اور اس عمل میں بچوں اور نابالغوں کے جنسی استحصال سمیت کئی خطرات سامنے آ رہے ہیں۔
© UNICEF/UN014974/Estey
سمارٹ فون اور سوشل میڈیا بچوں کی زندگیوں پر خاصے اثر انداز ہو رہے ہیں اور اس عمل میں بچوں اور نابالغوں کے جنسی استحصال سمیت کئی خطرات سامنے آ رہے ہیں۔

معلومات کا غلط استعمال 

مانوز اینٹونینس نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے تعلیمی ٹیکنالوجی میں معلومات افشا ہونے کے خطرے کی بابت بھی خبردار کیا کیونکہ صرف 16 فیصد ممالک ہی قانون کے تحت کمرہ جماعت میں معلومات کے اخفا کی ضمانت مہیا کرتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا، ہم جانتے ہیں کہ معلومات کی بہت بڑی مقدار مناسب ضابطوں کے بغیر استعمال ہو رہی ہے۔ اسی لیے یہ معلومات غیرتعلیمی اور تجارتی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں، یقیناً یہ حقوق کی خلاف ورزی ہے اور معلومات کی حفاظت کے عمل کو باضابطہ بنائے جانے کی ضرورت ہے۔