انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بین المذاہب مکالمہ اور نفرت کی روک تھام پر قرارداد منظور

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اجلاس کا ایک منظر (فائل فوٹو)۔
UN Photo/Manuel Elías
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اجلاس کا ایک منظر (فائل فوٹو)۔

بین المذاہب مکالمہ اور نفرت کی روک تھام پر قرارداد منظور

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مذاہب اور ثقافتوں کے مابین مکالمے پر مراکش کی پیش کردہ ایک قرارداد منظور کی ہے جس کا عنوان "نفرت پر مبنی اظہار کے مقابل بین المذاہب اور بین الثقافت مکالمے اور رواداری کا فروغ" ہے۔

جنرل اسمبلی کے صدر کی ترجمان پولینا کوبیاک نے بتایا کہ قرارداد کے تیرہویں پیراگراف پر طویل بحث کے بعد اس کی متفقہ منظوری عمل میں آئی۔

 اس پیراگراف میں لوگوں کے خلاف ان کے مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر ہر طرح کے تشدد اور ان کی مذہبی علامات، مقدس کتابوں، گھروں، کاروباروں، املاک، تعلیمی اداروں، ثقافتی مراکز یا عبادت گاہوں، مذہبی مقامات اور مقابر کو نشانہ بنانے والے ایسے افعال کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے جو بین الاقوامی قانون کے خلاف ہوں۔

سپین کا اعتراض

ترجمان نے بتایا کہ سپین کے وفد نے درخواست کی تھی کہ قرارداد کے الفاظ "جو بین الاقوامی قانون کے خلاف ہوں" کو مسودے سے خارج کر دیا جائے تاہم اس کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ 

2021 میں جنرل اسمبلی نے نفرت پر مبنی اظہار کے مقابل بین المذاہب اور بین الثقافت مکالمے اور رواداری کو فروغ دینے کے  لیے ایک قرارداد منظور کی تھی جس کے بعد نفرت پر مبنی اظہار کی روک تھام کے لیے عالمی دن مقرر کیا گیا جو پہلی مرتبہ 2022 میں منایا گیا۔

پولینا کوبیاک نے کہا کہ نئی قرارداد میں وہی الفاظ شامل ہیں جو 2021 میں جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس میں منظور کردہ قرارداد کا حصہ تھے۔ تاہم اس میں "مذہبی علامات" اور "مقدس کتابوں" کا تذکرہ نیا ہے۔