یمن: زنگ آلود بحری جہاز سے تیل کی محفوظ منتقلی کا یو این آپریشن شروع
اقوام متحدہ نے 2015 سے یمن کی بندرگاہ کے قریب موجود ایک بڑے اور متروک تیل بردار بحری جہاز سے خام تیل کی منتقلی کی پیچیدہ کارروائی شروع کر دی ہے۔
19 روز تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں زنگ کا شکار ہوتے سیفر نامی اس بحری جہاز سے ایک ملین بیرل سے زیادہ تیل نکال کر ایک قریبی بحری جہاز میں منتقل کیا جائے گا۔ سیفر آٹھ سال سے زیادہ عرصہ سے متروک حالت میں کھڑا تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ادارے نے اس لیے یہ مشکل کارروائی شروع کی کیونکہ تیل بہہ جانے سے خطے میں ماحولیاتی تباہی کا خطرہ تھا۔
'بحیرہ قلزم کا ٹائم بم'
سیکرٹری جنرل کا کہنا ہےکہ اقوام متحدہ نے اس جہاز کو محفوظ بنانے کا کام شروع کر دیا ہے جسے دنیا میں ایک ایسے ٹائم بم سے تشبیہہ دی جا رہی تھی جو پھٹنے کے قریب ہو۔ اس کارروائی میں سبھی کا تعاون شامل ہے جس کے لیے دو سال تک سیاسی سطح پر بنیادی کام کیا گیا، مالی وسائل جمع کیے گئے اور منصوبے کو آگے بڑھایا گیا۔
اقوام متحدہ کے حکام پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ یمن کی بندرگاہ حدیدہ کے شمال میں کئی سال سے موجود اس 47 سالہ تیل بردار جہاز کے ٹوٹنے اور پھٹنے کا خدشہ ہے۔
اس جہاز میں تیل کی مقدار ایکسون والڈز نامی بحری جہاز سے نکلنے والے تیل کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے اور اگر یہ تیل جہاز سے بہہ نکلا تو یہ تاریخ میں اس نوعیت کا پانچواں سب سے بڑا حادثہ ہو گا۔
سمندری حیات کو خطرہ
'یو این ڈی پی' نے خبردار کیا ہے کہ سیفر جہاز سے تیل بہہ نکلنے کی صورت میں بحیرہ قلزم میں بہت بڑے پیمانے پر سمندری حیات متاثر ہو گی۔
ادارے کی ترجمان سارہ بیل نے جینیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بحیرہ قلزم میں یمن کے ساحل پر ماہی گیر آبادیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے جو پہلے ہی بحرانوں کا شکار ہیں۔ جہاز کے ساتھ پیش آنے والے کسی حادثے کی صورت میں ان آبادیوں میں 200,000 سے زیادہ روزگار فوری ختم ہو جائیں گے اور سمندر میں تیل سے متاثرہ مچھلیوں کے ذخائر کو بحالی میں پچیس برس لگیں گے۔
انہوں نے اسے اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے پہلے ہنگامی مرحلے میں محتاط رہنا ہو گا تاہم انہوں نے صحافیوں کو یقین دہانی کرائی کہ اس کارروائی کو محفوظ بنانے کے تمام انتظامات کیے گئے ہیں۔
ایف ایس او سیفر گزشتہ 30 برس سے یمن کے مغربی ساحل پر جزیرہ نما راس عیسیٰ سے 4.8 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں تیل کی ترسیل کے کام میں مدد دے رہا تھا۔ 2015 میں سعودی عرب کے زیرقیادت حکومت نواز اتحاد اور حوثی باغیوں کے مابین لڑائی کے دوران اس جہاز پر پیداوار اور اس کی دیکھ بھال کا کام معطل ہو گیا تھا۔
انسانی اور ماحولیاتی تباہی
'یو این ڈی پی' کے مطابق تیل بہہ نکلنے کی صورت میں اس علاقے میں تمام بندرگاہیں بند ہو جائیں گی جس کے نتیجے میں یمن کو خوراک، ایندھن اور تحفظ زندگی میں مددگار دیگر اشیا کی فراہمی بھی رک جائے گی جہاں 80 فیصد آبادی پہلے ہی امداد پر انحصار کرتی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ بہنے والے تیل کی صفائی پر ہی 20 بلین ڈالر خرچ ہوں گے اور نہر سوئز تک ہر طرح کی جہاز رانی کئی ہفتوں تک معطل رہے گی۔
انہوں نے اس منصوبے میں اقوام متحدہ کے تمام اداروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے آٹھ سالہ جنگ میں تباہ ہو جانے والے ملک میں اس کارروائی کو ممکن بنانے کی غرض سے کیے جانے والے انتھک سیاسی کام کو واضح کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اس سفر میں محض ایک سنگ میل ہے اور اگلے مرحلے میں یہ تیل لے جانے والے دوسرے جہاز کو محفوظ راستے پر ڈالنا ہو گا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے مزید 20 ملین ڈالر مہیا کرنے کے لیے کہا جس میں سیفر کو سکریپ میں تبدیل کرنا اور بحیرہ قلزم میں باقی ماندہ ماحولیاتی خطرات کا خاتمہ کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔