انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پناہ گزینوں اور مہاجرت پر یو این اداروں کی نئی مجوزہ پالیسی

تارکین وطن جنوبی امریکہ اور شمالی امریکہ کے درمیان واقع ڈیرین جنگل میں سستا رہے ہیں۔
IOM/Gema Cortes
تارکین وطن جنوبی امریکہ اور شمالی امریکہ کے درمیان واقع ڈیرین جنگل میں سستا رہے ہیں۔

پناہ گزینوں اور مہاجرت پر یو این اداروں کی نئی مجوزہ پالیسی

مہاجرین اور پناہ گزین

معاشی بحرانوں، جنگوں اور قدرتی آفات کا سامنا کرتی دنیا میں مہاجرت میں اضافہ اس صدی کا اہم ترین ارضی سیاسی مظہر ثابت ہو رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی انحطاط کے منفی اثرات کے باعث بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی کانفرنس برائے ترقی و مہاجرت کا انعقاد سوموار کو ہوا جس میں اقوام متحدہ کے متعدد اداروں اور ایسے بہت سے ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی جو بے قاعدہ مہاجرت اور دنیا بھر میں جبری نقل مکانی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مہاجرت کا بہتر انتظام کرنے میں مصروف ہیں۔

Tweet URL

پیچیدہ مسائل

اس موقع پر 'یو این ایچ سی آر' کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے کہا کہ جبری نقل مکانی اور گروہی صورت میں مہاجرت ان لوگوں کے آبائی ممالک، ان کے عبوری قیام کی جگہوں اور ان کی منازل سمیت سب کے لیے پیچیدہ مسائل ہیں۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون، وسائل اور صبر آزما کام کی ضرورت ہے کیونکہ لوگ بہت سی اور باہم پیوسط وجوہات کی بنا پر نقل مکانی کرتے ہیں جن میں بعض کو تشدد، جنگ اور مظالم کا سامنا ہوتا ہے تو بعض موسمیاتی تبدیلی، بری حکمرانی اور معاشی مواقع کے فقدان کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑتے ہیں۔ 

'یو این ایچ سی آر' نے لوگوں کو درپیش ہر طرح کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پناہ گزینوں اور مہاجرین دونوں کی آمد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے 'پورے راستے پر مبنی' نئے طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

نیا راستہ

اس نئے طریقہ کار کا پہلا نکتہ یہ یقینی بنانا ہے کہ پناہ کے خواہاں لوگوں کی ان کی مطلوبہ جگہ تک رسائی کو بنیادی انسانی حق اور ہر جگہ ممالک کی ذمہ داری سمجھا جائے۔ 

فلیپو گرینڈی نے کہا کہ پناہ گزینوں اور مہاجرین کو واپس بھیجنا اور خاص طور پر انہیں غیرمحفوظ جگہوں پر اور حالات میں اجتماعی طور پر بے دخل کرنا قابل قبول نہیں ہے، لیکن جن لوگوں کو بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت نہیں ان کی اپنے علاقوں میں محفوظ، مستحکم اور باوقار انداز میں واپسی بھی ضروری ہے۔ 

نئے طریقہ کار میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ سمندر میں اور خشکی پر زندگیوں کا تحفظ ہر جگہ حکومتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ 

عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے پناہ گزینوں اور مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالنے کے لیے سرمایہ کاری جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

موسمیاتی بحران اور مہاجرت

گزشتہ برس قدرتی آفات کے نتیجے میں 32.6 ملین لوگ بے گھر ہوئے جن میں 7.5 ملین کا تعلق ذیلی صحارا افریقہ سے تھا۔ تاہم یہ محض آغاز ہے۔ 'آئی او ایم' کی آئندہ سربراہ ایمی پوپ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) کا اندازہ ہے کہ 300 ملین سے زیادہ لوگ ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے مقابل انتہائی غیرمحفوظ ہیں۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ کوئی حکومت یا بین الاقوامی ادارہ یہ کام اکیلے نہیں کر سکتا۔ ہمیں ہر سماجی شعبے میں شراکتوں پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، ہمیں نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری درکار ہے اور ہمیں سمجھنا ہو گا کہ اسے مہاجرت کے بہتر انتظام سے فائدہ ہوتا ہے اور ہمیں اس معاملے میں سول سوسائٹی کی مدد کی بھی ضرورت ہے۔ 

معاشی ترغیبات 

اس مسئلے پر کام کرنے والے اقوام متحدہ کے نمایاں اداروں کا کہنا ہے کہ اگر مہاجرت کا موزوں طور سے انتظام کیا جائے تو اس سے تمام ممالک کی ترقی میں مدد مل سکتی ہے خواہ وہ مہاجرین کے میزبان ممالک ہوں، ان کے آبائی ملک ہوں یا ان کی عبوری منازل۔ علاوہ ازیں اس سے ہر سطح پر معاشروں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ 

ایمی پوپ نے کہا کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جب مہاجرت کا بہتر طور سے انتظام کیا جائے تو اس سے معاشی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔ آبادیاتی رحجانات اور عالمی سطح پر افرادی قوت کی تبدیل ہوتی منڈی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں مہاجرت کے مزید جامع، مشمولہ اور تزویراتی طریقے وضع کرنا ہوں گے اور انسانی نقل و حرکت سے متعلق مزید تزویراتی اور انسان دوست نوعیت کی پالیسیوں کو مہاجرت کے انتظام سے متعلق علاقائی اور قومی سطح کے منصوبوں سے مربوط کرنا ہو گا۔ 

محفوظ متبادل

نئے طریقہ کار میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ خاندانوں کی یکجائی، نوآباد کاری، وظائف اور مواقع فراہم کرنے والے دیگر طریقہ ہائے کار جیسے قانونی مہاجرت کے وسعت پاتے ذرائع مہاجرین کو محفوظ متبادل فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ 

نقل مکانی کی بنیادی وجوہات سے نمٹنا پناہ گزینوں کے بحران کو ختم کرنے کے معمے کا آخری حصہ ہے جس کا اس نئے طریقہ کار میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ 

فلیپو گرینڈی نے کہا کہ سبھی کو موسمیاتی مہاجرت سے نمٹنے، اچھی حکمرانی کو فروغ دینے، ترقی کے لیے سرمایہ کاری، جنگوں اور مظالم کا خاتمہ کرنے اور انسانی حقوق کو تحفظ دینے کے لیے مزید کام کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ کوششیں تمام متعلقہ ممالک اور اداروں کی جانب سے اجتماعی اقدامات کی صورت میں ہی تزویراتی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بالاآخر یہ کانفرنس اس سمت میں اکٹھے کام کرنے کے لیے تمام فریقین کی حوصلہ افزائی کرے گی۔