انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: لڑائی کے سو دن پر بچوں کی بڑھتی اموات پر تشویش

یونیسف اور واش کی معاونت سے کام کرنے والے سوڈان کے ایک تولیدی مرکز صحت پر ماں او بچہ توجہ کے منتظر ہیں۔
© Mohamed Zakaria/UNICEF
یونیسف اور واش کی معاونت سے کام کرنے والے سوڈان کے ایک تولیدی مرکز صحت پر ماں او بچہ توجہ کے منتظر ہیں۔

سوڈان: لڑائی کے سو دن پر بچوں کی بڑھتی اموات پر تشویش

امن اور سلامتی

سوڈان میں جاری لڑائی کو 100 روز ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ ملک میں اب تک 435 بچے ہلاک اور 2,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے مزید کہا ہے کہ اس لڑائی میں بچوں کے حقوق کی 2,500 سے زیادہ مرتبہ سنگین خلاف ورزی ہو چکی ہے۔ گویا اس عرصہ میں ہر ایک گھنٹے کے بعد بچوں کے حقوق کی پامالی کے ایک سے زیادہ واقعات پیش آئے ہیں جبکہ ملک میں 14 ملین سے زیادہ بچوں کو مدد کی ضرورت ہے۔

Tweet URL

یونیسف کے ترجمان جو انگلش نے یو این نیوز کو بتایا کہ سوڈان میں جاری لڑائی کو 100 روز ہو گئے ہیں جبکہ بچوں اور خاندانوں پر اس کے ہولناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ 

ہولناک طبی خدشات 

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (یو این ایچ سی آر) نے ان ٰخدشات کو دہراتے ہوئے بتایا ہے کہ ریاست نیل ابیض میں نقل مکانی کرنے والے تقریباً 300 بچے خسرے اور غذائی قلت کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

سوڈان چھوڑ کر ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے والے 740,000 سے زیادہ لوگوں کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تنازعے کے فریقین اس المناک جنگ کو فوری ختم کریں۔ 

'یو این ایچ سی آر' کے مطابق ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے والے لوگوں کے حالات ہولناک ہیں جہاں مہاجرین کے کیمپ لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں اور بارشوں کے موسم نے ان کی نوآبادکاری اور انہیں امداد کی فراہمی کو اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔

اپنی دیکھ بھال پر مجبور بچے

اب تک 3.3 ملین سے زیادہ لوگ سوڈان کے اندر اور اس کی سرحدوں سے باہر نقل مکانی کر چکے ہیں۔ بیرون ملک ان لوگوں کے میزبان ممالک میں مصر بھی شامل ہے جہاں 'یو این ایچ سی آر' کے مطابق بیشتر بچے اپنے والدین کے بغیر آئے ہیں۔ 

یونیسف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک یا زخمی ہونے والے بچوں سے کہیں بڑی تعداد میں نوعمر افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جنہیں بنیادی خدمات تک رسائی نہیں ہے۔ ادارے نے بچوں اور خاندانوں تک محفوظ اور بلارکاوٹ رسائی کی ضرورت کو واضح کیا ہے تاکہ انہیں درکار مدد میسر آ سکے۔ 

خاص طور پر افریقن یونین، علاقائی تنظیم 'بین الحکومتی اتھارٹی برائے ترقی (آئی جی اے ڈی)، عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بند کرانے کے لیے کڑی سفارتی کوششوں کے باوجود سوڈان کی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور اس کی حریف ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے مابین کئی محاذوں پر جنگ جاری ہے۔

محفوظ نقل مکانی

'یو این ایچ سی آر' کے سربراہ فلیپو گرانڈی نے انتہائی ضروری پُرامن بات چیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو اپنی سلامتی کے لیے جنگ زدہ علاقوں سے اندرون یا بیرون ملک نقل مکانی کرنے کی اجازت ہونی چاہیے اور انہیں ہر طرح کے تشدد سے تحفظ ملنا چاہیے۔ 

اب تک سوڈان کے اندر انسانی امداد کے لیے اقوام متحدہ کو درکار مالی وسائل کا 23 فیصد ہی جمع ہو پایا ہے۔ یو این ایچ سی آر اور یونیسف نے عطیہ دہندگان سے مزید مالی وسائل فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ان بدحال لوگوں کو مدد دی جا سکے جنہوں نے تین ماہ تک اس جنگ کے اثرات کو جھیلا ہے جو زیادہ تر دارالحکومت خرطوم کے گرد مرکوز ہے تاہم اس کے ساتھ یہ شورش زدہ ڈارفر اور دیگر علاقوں میں بھی پھیلتی جا رہی ہے۔

نظام صحت حملوں کی زد میں

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق سوڈان کے اندر نظام صحت و طب بری طرح تباہی و بربادی کا شکار ہوچکا ہے۔ ملک کے 67 فیصد سے زیادہ ہسپتال بند پڑے ہیں جبکہ صحت کی باقی ماندہ سہولیات اور اہلکاروں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

صحت کی دیکھ بھال کے اداروں پر اب تک 51 حملے سامنے آچکے ہیں، جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوئے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہےکہ قابو میں آ جانے والی بیماریاں بشمول ملیریا، خسرہ، ڈینگی، اور اسہال صحت عامہ کی بنیادی خدمات میں خلل کی وجہ سے دوبارہ بڑھ رہی ہیں۔