انسانی کہانیاں عالمی تناظر

گلوبل وارمنگ ڈینگی میں اضافے کی وجہ، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

ڈینگی کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے اور یہ سب سے عام وبائی بیماری ہے جو مچھروں سے انسانی میں پھیلتی ہے۔
Unsplash/Shardar Tarikul Islam
ڈینگی کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے اور یہ سب سے عام وبائی بیماری ہے جو مچھروں سے انسانی میں پھیلتی ہے۔

گلوبل وارمنگ ڈینگی میں اضافے کی وجہ، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے متنبہ کیا ہے کہ اوسط درجہ حرارت، بارشوں اور خشک سالی کے طویل ادوار میں اضافہ دنیا بھر میں ڈینگی کے پھیلاؤ میں ریکارڈ شدت آنے کا باعث بن سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او میں گرم علاقوں کی نظرانداز شدہ بیماریوں کی روک تھام کے عالمی پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر رامن ویلاؤدھان کا کہنا ہے کہ دنیا کی تقریباً نصف آبادی کو ڈینگی سے خطرہ ہے اور یہ مرض تقریباً 129 ممالک میں لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔ 

اندازے کے مطابق ہر سال ڈینگی کے 100 سے 400 ملین مریض سامنے آتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک اندازہ ہے اور صرف امریکی خطے سے ہی تقریباً 2.8 ملین مریضوں اور 101,280 اموات کی اطلاعات آئی ہیں۔ 

سب سے عام بیماری 

ڈینگی کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے اور یہ سب سے عام وبائی بیماری ہے جو مچھروں سے انسانی میں پھیلتی ہے۔ ڈینگی کا شکار ہونے والے بیشتر لوگوں میں اس بیماری کی علامات نظر نہیں آتیں اور وہ ایک سے دو ہفتے میں صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ لیکن بعض لوگوں میں یہ مرض شدید ہوتا ہے اور انہیں ہسپتال داخل کرانے کی ضرورت پڑتی ہے۔

ڈینگی کے خلاف تین میں سے دو دواؤں کی دوسرے مرحلے کی آزمائش ہو رہی ہے جس کے بعد انہیں تیسرے مرحلے میں جانچا جائے گا۔ ڈاکٹر ویلاؤ دھان

ڈاکٹر ویلاؤ دھان نے جینیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئےبتایا کہ بعض اوقات اور خاص طور پر جب کسی کو دوسری مرتبہ یہ بیماری لاحق ہو جائے تو اس کے اثرات بہت شدید اور جان لیوا ہو سکتے ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ ڈینگی مچھروں کی 'ایڈیس' نامی قسم سے پھیلتا ہے۔ یہ بیماری گرم اور نیم گرم ماحول میں عام ہوتی ہے۔ حالیہ دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں اس کے مریضوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ 

مریضوں کی تعداد میں اضافہ 

2000ء میں دنیا بھر میں اس بیماری کے نصف ملین مریض تھے اور 2022 میں ان کی تعداد آٹھ گنا بڑھ کر 4.2 ملین تک پہنچ گئی تھی۔ انہوں ںے کہا کہ مزید درست اعدادوشمار سامنے آنے پر اس تعداد میں اور بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ماہر کے مطابق دنیا بھر میں اس بیماری کے مجموعی مریضوں کا 70 فیصد ایشیا میں ہیں اور براعظم میں اس حوالے سے مستقبل کا منظر نامہ مزید تاریک دکھائی دیتا ہے۔ ایڈیس مچھر یورپ میں بھی موجود ہے جہاں ڈینگی اور چکن گونیا کے مریضوں کی تعداد ایک دہائی کے عرصہ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ 

موسمیاتی تبدیلی کے علاوہ لوگوں اور اشیا کی نقل و حرکت میں اضافے، شہروں کی جانب نقل مکانی اور پانی و نکاسی آب کے نظام پر پڑنے والے دباؤ سمیت کئی عوامل نے ڈینگی بخار کے پھیلاؤ میں اضافہ کیا ہے۔ 

ڈینگی ٹیسٹ کے قابل بھروسہ نتائج حاصل کرنے میں دو سے تین روز لگتے ہیں۔ 

دواؤں کی آزمائش 

بہتر تشخیص کے طریقہ ہائے کار سمیت بہت سے ایسے ذرائع پر کام جاری ہے جو ڈینگی کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے حوالے سے بہت بڑی امید مہیا کرتے ہیں۔

2000ء میں دنیا بھر میں اس بیماری کے نصف ملین مریض تھے اور 2022 میں ان کی تعداد آٹھ گنا بڑھ کر 4.2 ملین تک پہنچ گئی تھی۔

ڈینگی کے خلاف تین میں سے دو دواؤں کی دوسرے مرحلے کی آزمائش ہو رہی ہے جس کے بعد انہیں تیسرے مرحلے میں جانچا جائے گا جسے ڈاکٹر ویلاؤدھان نے نہایت امید افزاء پیش رفت قرار دیا ہے۔

انسداد ڈینگی کی ایک ویکسین بھی مارکیٹ میں موجود ہے جو ایک مخصوص حد تک اس بیماری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ دو مزید دواؤں کی تیاری پر کام جاری ہے اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 

ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا ہے کہ روک تھام کے اقدامات کا اس بیماری پر قابو پانے میں اہم کردار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مچھر دن کے وقت کاٹتے ہیں اور لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ گھروں، سکولوں اور کام کی جگہوں پر عمارتوں کے اردگرد مچھروں کو بھگانے کے لیے سپرے کریں۔ 

مچھروں کو دور رکھنے والی کوائل اور سوتے وقت مچھر دانیوں کا استعمال بھی اس بیماری سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔