ملٹی پولر دنیا کے لیے یو این چیف کا نیا تصورِ امن
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے عدم استحکام کا شکار دنیا میں امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لیے مزید مضبوط کثیرفریقی فریم ورک سے متعلق اپنے تصور پر مبنی ایک نیا پالیسی بریف پیش کیا ہے۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے بعد کا دور ختم ہو چکا ہے اور ہم ایک نئے عالمی نظام اور کثیرقطبی دنیا کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے ارضی سیاسی تناؤ، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، سرکاری اداروں پر عدم اعتماد، نئے تنازعات، دہشت گردی اور نئی ٹیکنالوجی سے بطور ہتھیار کام لیے جانے کا تذکرہ کیا۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے اور کثیرفریقی نظام سے متعلق شکوک وشبہات میں اضافے سے عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔
'امن کے لیے نیا ایجنڈا' کے عنوان سے جاری کردہ اس بریف میں جامع اور پُرعزم سفارشات پیش کی گئی ہیں جن میں ایسے بہت سے مسائل کی باہم مربوط نوعیت کا اعتراف کیا گیا ہے۔
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ یہ بریف اعتماد، یکجہتی اور عالمگیریت کے بنیادی اصولوں کے گرد تیار کیا گیا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور مستحکم دنیا کی بنیاد مہیا کرتے ہیں۔
پانچ ترجیحی شعبہ جات
'امن کے لیے نیا ایجنڈا' ترجیحی توجہ کے متقاضی پانچ شعبوں میں عملی اقدامات کے لیے ٹھوس تجاویز کے بارہ سلسلے پیش کرتا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے عالمی سطح پر تنازعات کی روک تھام کے لیے مضبوط اقدامات کرنے اور ارضی سیاسی تقسیم سے نمٹنے، سفارت کاری کو ترجیح دینے اور علاقائی سلامتی کے ڈھانچوں میں سرمایہ کاری کے لیے کہا ہے۔
دوسری ترجیح کے طور پر انہوں نے امتناع کے ایک ایسے نمونے کو واضح کیا ہے جس سے ہر طرح کے تشدد کی روک تھام ممکن ہو۔ اس میں ثالثی اور سماجی پیوستگی، انسانی حقوق کا احترام اور فیصلہ سازی میں خواتین کی بامعنی شرکت یقینی بنانے اور پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات اور امن کے مابین ربط کو ترجیح کے اقدامات شامل ہیں۔
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ہمیں 2030 کے ایجنڈے پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنا ہو گی کیونکہ امتناع اور پائیدار ترقی کا ایک دوسرے پر انحصار ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔
امن کوششوں میں بہتری کی ضرورت
تیسرے شعبے کے حوالے سے انہوں نے قیام امن کی کارروائیوں کو بہتر بنانے کے لیے کہا ہے تاکہ انہیں دور حاضر کے تنازعات سے نمٹنے کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ ان میں بعض تنازعات کئی دہائیوں سے حل طلب ہیں جن کے پیچھے پیچیدہ داخلی، ارضی سیاسی اور بین الاقوامی عوامل کارفرما ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ قیام امن کی کارروائیاں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک امن لانے کا امکان نہ ہو اور سلامتی کونسل کی جانب سے مسائل کے سیاسی حل پر مرتکز واضح، ترجیحی اور حقیقت پسندانہ مینڈیٹ کے بغیر ان کارروائیوں کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔
نئے میدان ہائے عمل اور نئی ٹیکنالوجی کے بطور ہتھیار استعمال کی روک تھام اور ذمہ دارانہ اختراع کے فروغ کو چوتھے اہم شعبے کے طور پر واضح کیا گیا ہے۔ پالیسی بریف میں نئی ٹیکنالوجی جیسا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور خودکار ہتھیاروں کے نظام جیسی نئی ٹیکنالوجی سے لاحق خطرات پر قابو پانے کے لیے عالمگیر انتظام کی ضرورت کا بھی تذکرہ ہے۔
ضروری اصلاحات
پانچواں ترجیحی شعبہ سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی، تخفیف اسلحہ سے متعلق اقوام متحدہ کے نظام اور قیام امن کے کمیشن میں فوری اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے تاکہ اجتماعی سلامتی کو تقویت دی جا سکے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خاص طور پر سلامتی کونسل کو امن کارروائیوں کے مینڈیٹ کے لیے قیام امن کی جہتوں پر کمیشن سے مزید منظم انداز میں مشورہ لینا چاہیے۔
تعلیم اور جدیدکاری
سیکرٹری جنرل نے تعلیم میں تبدیلی لانے اور یو این 2.0 کے حوالے سے دیگر پالیسی بریف بھی پیش کیے جن کا مقصد نظام ہائے تعلیم کو بہتر بنانا اور پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
ہر پالیسی بریف کا مقصد رکن ممالک کو 2024 میں 'مستقبل کی کانفرنس' کی تیاری کے لیے غور و خوض میں مدد دینا ہے۔
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ یہ کانفرنس ہمیں درپیش سنگین خدشات سے نمٹنے، اہم مواقع سے کام لینے اور ادھورے وعدے پورے کرنے کا موقع ہو گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل سے متعلق معاہدے (کانفرنس کی نتائجی دستاویز) کے ذریعے ایک دوسرے پر اور کثیرفریقی اقدامات پر اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔ یہ معاہدہ ہر طرح کے عالمگیر نظام اور فریم ورک کو حال اور مستقبل کے مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کرتا ہے۔