بڑھتے درجہ حرارت سے یورپ میں مسائل صحت میں اضافہ
اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے متنبہ کیا ہے کہ شمالی کرے کو لپیٹ میں لینے والی گرمی کی لہر سے جڑے خطرات تاحال برقرار ہیں۔
ایک انتباہ میں ادارے نے واضح کیا ہےکہ گرمی کی لہریں مہلک ترین قدرتی خطرات میں سے ایک ہیں۔ حدت کے موضوع پر ڈبلیو ایم او کے اعلیٰ سطحی مشیر جان نائرن نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ شدید گرمی کے ادوار کی رفتار، دورانیے اور شدت میں اضافہ ہونے کو ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ رات کے وقت متواتر شدید گرمی انسانی صحت کے لیے خاص طور پر خطرناک ہوتی ہے کیونکہ اس وقت جسم مسلسل گرمی سے خود کو بحال کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ دل کے دوروں اور اموات کی تعداد میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔
مہلک اثرات
اقوام متحدہ کے ادارے کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ موسم گرما میں شدید گرمی کے باعث 60,000 اضافی اموات ہوئیں حالانکہ براعظم میں ایسی صورت حال کے بارے میں بروقت انتباہ جاری کرنے اور صحت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی بہترین منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کو گرمی کے طویل ادوار کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے اور غیرمحفوظ لوگوں کو گرمی کے خطرات سے آگاہ کرنے کی فوری ضرورت ہے۔
ادارے نے ایشیا، شمالی افریقہ اور امریکہ میں بھی گرمی کی لہروں کے باعث اموات کے خطرے میں اضافے کی بابت خبردار کیا ہے۔
جان نائرن کے مطابق شہروں کی جانب بڑھتی ہوئی اور تیزتر نقل مکانی، شدید درجہ حرارت میں اضافے اور معمر افراد پر مشتمل آبادی بڑھنے کے باعث گرمی سے صحت کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ رواں سال گرمی کی بڑے پیمانے پر اور شدید لہریں پریشان کن ہیں لیکن یہ غیرمتوقع نہیں کیونکہ اس بارے میں پیش گوئی کی جا چکی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات
جان نائرن کا کہنا ہے کہ شدید گرم حالات ماضی میں معمول کا موسم نہیں تھے بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی کے نتائج ہیں۔ قطب شمالی کی برف ختم ہو رہی ہے جس کے باعث یہ حالات شدت اختیار کر رہے ہیں کچھ عرصہ تک یہ معمول جاری رہے گا۔
ڈبلیو ایم او کے ماہر نے مزید کہا کہ حالیہ اعلان کردہ ال نینو متوقع طور پر گرمی کی شدید لہروں کی تعداد اور شدت کو مزید بڑھا دے گا۔ اس سے انسانی صحت اور روزگار پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
گرمی کی حالیہ لہر کے اسباب سے متعلق ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے ایسے موسمی نظام کا حوالہ دیا جو سورج کی بہت سی روشنی اور گرمی کو ایک جگہ جمع کر لیتا ہے جو بہت آہستگی سے حرکت کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس صورتحال کا رخ واپس پھیرنا ہو گا۔ ہمیں اس میں تبدیلی کے لیے بگڑے موسم کو درست کرنا ہو گا۔ یہ عالمی حدت ہے اور کچھ عرصہ تک برقرار رہے گی۔
نادیدہ ہنگامی حالات
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کے ہنگامی طبی حالات سے متعلق یونٹ کے ٹیم لیڈر پانو ساریسٹو نے انہیں 'نادیدہ ہنگامی حالات' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے لوگوں کا خیال رکھنا ضروری ہے جو کمزور صحت کے باعث غیرمحفوظ ہیں تاہم سماجی معاشی حالات اور رہن سہن کا بندوبست بھی خدشات کو بڑھا دیتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک میں کم آمدنی والے علاقے اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ گرمی کی لہریں معاشی پیداوار کو کم کر دیتی ہیں، طبی نظام پر بوجھ کو بڑھاتی ہیں اور بجلی کی فراہمی میں تعطل کا باعث بنتی ہیں اور اس طرح معاشرے کے دیگر شعبوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔
ڈبلیو ایم او نے واضح کیا ہے کہ دنیا بھر میں مزید شدید گرمی ناگزیر ہے جس کا مقابلہ کرنے کی تیاری اور اس سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات لازمی ہیں کیونکہ بہت بڑی تعداد میں شہروں، گھروں اور کام کی جگہوں کو طویل مدتی شدید گرمی کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں بنایا گیا۔