دنیا پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول سے دور ہے، یو این کا انتباہ
اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے کہا ہے کہ دنیا 2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) حاصل کرنے کی راہ پر افسوسناک طور سے بے سمت ہے۔
یہ بات نیویارک میں وزرا اور پالیسی سازوں کے اجلاس میں کہی گئی جو ممالک کی ان اہداف کے حصول کی درست راہ پر واپسی اور اس انقلابی ترقیاتی ایجنڈے کو حقیقت کا روپ دینے کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے جمع ہوئے۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا کہ اگرچہ بہت سے مسائل پر قابو پانے کے لیے درکار عزم، ہنگامی اقدامات اور یکجہتی کا فقدان رہا ہے تاہم بہت سے ممالک کو اب 'معاشی پاتال' کا بھی سامنا ہے جس کے باعث وہ پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے پر عملی اقدامات کے لیے درکار وسائل سے محروم ہو رہے ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ ایس ڈی جی کے لیے درکار سالانہ مالی وسائل میں 4.2 ٹریلین ڈالر کی کمی درپیش ہے جو وبا سے پہلے 2.5 ٹریلین ڈالر تھی۔ حکومتیں قرض میں ڈوب رہی ہیں اور ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے حصول پر انتہائی بھاری مالی وسائل خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔ 52 ممالک دیوالیہ ہو گئے ہیں یا ہونے کو ہیں اور ان کے لیے قرضوں کی ادائیگی میں سہولت کے حوالے سے کوئی موثر نظام دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔
عملی اقدامات کا سال
انتونیو گوتیرش نے ممالک سےکہا کہ وہ 2023 کو اس حوالے سے عملی اقدامات کا سال بنائیں اور ایس ڈی جی کے حصول کی جانب درست راہ پر واپسی کے لیے فوری طور پر مربوط کوششوں کی بنیاد رکھیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے رواں سال کے آخر میں غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدام اور پائیدار ترقی کے لیے ہونے والے اجلاسوں کا حوالہ دیا۔
انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ اِس سال ستمبر میں ہونے والی ایس ڈی جی کانفرنس میں اپنے ہاں 2030 تک لیے جانے والے اقدامات کو مضبوط بنانے کے واضح منصوبوں اور وعدوں کے ساتھ شرکت کریں۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہمیں 2027 اور 2030 تک غربت اور عدم مساوات میں کمی لانے کے لیے پُرعزم قومی وعدوں اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایس ڈی جی کے حوالے سے بڑی تبدیلیوں پر پیش رفت کے لیے واضح پالیسیاں، سرمایہ کاری کے مںصوبے اور شراکتیں بھی ضروری ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ سب سے بڑھ کر ہمیں ایس ڈی جی کانفرنس میں دنیا بھر کے رہنماؤں کی جانب سے ایک مضبوط سیاسی اعلامیے کے ذریعے واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سول سوسائٹی، کارباروں اور دیگر کو ان اہداف کے حصول کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرنے اور نتائج حاصل کرنے کے لیے عالمگیر تحریک کو مضبوط بنانا ہو گا۔
اچھی اور بری خبر
اس موقع پر اقوام متحدہ کی معاشی و سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کی صدر لاشیزارا سٹوئیوا نے بامعنی تبدیلی لانے کے لیے حکومتوں، سول سوسائٹی، نجی اور تعلیمی شعبے کے مابین اختراع، ٹیکنالوجی اور انتہائی موثر شراکتوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے 2030 کی جانب نصف وقت گزار لیا ہے اور ہم ابھی تک ایس ڈی جی کے حصول کے مقصد کے قریب نہیں پہنچے۔ بری خبر یہ ہےکہ ہم نے سات سال ضائع کر دیے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہمارے پاس اب بھی سات سال موجود ہیں اور کامیابیاں ہماری دسترس میں ہیں۔
لاشیزارا سٹوئیوا نے ایس ڈی جی کے حصول کے اقدامات کو مقامی حالات اور ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان اہداف کے حصول میں دلچسپی لیں، ان کے لیے خاطرخواہ مالی وسائل اکٹھے کریں اور سرمایہ کاری کو اپنی جانب راغب کریں۔
انہیں چاہیے کہ نوجوانوں سمیت متنوع فریقین کے ساتھ شراکتوں کو بھی فروغ دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شمولیت اور شرکت ایس ڈی جی پر کامیابی سے عملدرآمد کی کنجی ہیں۔
وعدہ پورا کریں
جنرل اسمبلی کے صدر سابا کوروشنی نے امید ظاہر کی ہے کہ ایس ڈی جی کانفرنس کے نتیجے میں ان اہداف کے حصول کے منصوبوں پر عملدرآمد کے عمل میں مزید مضبوطی اور تیزی آئے گی۔
انہوں ںے واضح کیا کہ ایس ڈی جی کانفرنس کو بجائے خود پائیدار تبدیلی کے عمل میں نئی روح پھونکنی چاہیے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جرات کا مظاہرہ کریں، پُرعزم رہیں اور پُرامن، خوشحال اور پائیدار مستقبل پر توجہ مرکوز رکھیں۔
اپنی بات کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ آئیے 2030 کے ایجنڈے کے حصول کے لیے اپنا وعدہ پورا کریں۔ یہ وہ وعدہ ہے جو ہم نے آٹھ ارب فریقین سے کیا ہے۔ آئیے دنیا کو تبدیل کریں۔ آئیے دنیا کو محفوظ بنائیں۔
عالمی پلیٹ فارم برائے پائیدار ترقی
پائیدار ترقی پر اعلیٰ سطحی فورم (ایچ ایل پی ایف) 2030 کے ایجنڈے اور ایس ڈی جی پر پیش رفت کو آگے بڑھانے اور اس کا جائزے لینے کے لیے مرکزی عالمی پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایس ڈی جی اقوام متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک کی جانب سے کرہ ارض کے تمام لوگوں کے لیے امن اور خوشحالی ممکن بنانے کا خاکہ ہیں جس کی مںظوری 2015 میں دی گئی تھی۔
'ایچ ایل پی ایف' کا اجلاس ہر سال اقوام متحدہ کی معاشی و سماجی کونسل کے زیراہتمام دو ہفتوں کے لیے منعقد ہوتا ہے۔ اس میں تین روز پر مشتمل وزارتی اجلاس بھی شامل ہے جس کا مقصد پائیدار ترقی کے لیے مخصوص اہداف (ایس ڈی جی) پر پیش ہائے رفت کا جامع جائزہ لینا ہے۔
اس برس فورم نے ایس ڈی جی 6، 7، 9، 11 اور 17 کا جائزہ لیا ہے۔ یہ اجلاس ایس ڈی جی کانفرنس کے حوالے سے تیاری میں بھی مدد دیتا ہے جو 18 اور 19 ستمبر کو نیویارک میں منعقد ہو گی۔