یوکرین میں ’غیرمنطقی اور بلاجواز‘ جنگ بند ہونی چاہیے: ڈی کارلو
اقوام متحدہ میں سیاسی امور کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو نے یوکرین میں 'بلاجواز' جنگ ختم کرنے کی اپیل کی ہے جسے اس مہینے 500 روز مکمل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے یہ بات آج صبح بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمد کے اقدام کے خاتمے کے بعد سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ اس اقدام کے تحت یوکرین سے اناج اور کھادیں دنیا بھر کو برآمد کی جا رہی تھیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ جنگ جس قدر طویل ہوتی جائے گی اس کے نتائج بھی اتنے ہی خوفناک ہوتے جائیں گے جن میں اس تنازع کے مزید بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
انہوں ںے کہا کہ یوکرین کے لوگوں اور عالمی برادری کی خاطر اس غیرمعقول اور بلاجواز جنگ کو بند ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ چارٹر کی پامالی
روزمیری ڈی کارلو نے فروری 2022 میں یوکرین پر روس کا بڑے پیمانے پر حملہ شروع ہونے کے بعد ملک میں ہونے والی تباہی کے بارے میں بتایا۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق 'او ایچ سی ایچ آر' کے مطابق اس جنگ میں اب تک 9,287 لوگ ہلاک اور 16,300 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ تاہم حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
امدادی اداروں کو تاحال روس کے زیرتسلط علاقوں ڈونیسک، لوہانسک، کیرسون اور ژاپوریژیزیا تک رسائی نہیں ہے
اس جنگ سے بچے خاص طور پر بری طرح متاثر ہوئے ہیں جن کی ہلاکتوں کی مصدقہ تعداد 537 ہے۔گزشتہ برس دنیا میں سب سے زیادہ بچے یوکرین میں ہلاک اور معذور ہوئے جبکہ سکولوں اور ہسپتالوں پر حملوں کی تعداد کے حوالے سے بھی یوکرین سرفہرست تھا۔
انہوں ںے کہا، جیسا کہ سیکرٹری جنرل نے تواتر سے واضح کیا ہے، یوکرین پر روس کا حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
جوہری تحفظ پر خدشات
انہوں نے زیرمحاصرہ ژاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کی صورتحال پر بھی بات کی جو جنگ کے ابتدائی ہفتوں سے ہی روس کے زیرتسلط ہے۔
حالیہ دنوں اس پلانٹ پر جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے متعین کردہ ماہرین نے سلسلہ وار دھماکوں کی آوازیں سنیں جو بظاہر جوہری پلانٹ کے قریب سے آئی تھیں۔
انہوں ںے کہا کہ یہ ممکنہ جوہری تحفظ ملک میں جاری جنگ کے دوران اس مرکز کی سلامتی کو لاحق خطرات کی واضح یاد دہانی ہے۔
امداد کی فراہمی
یوکرین میں جاری جنگ کے دوران اقوام متحدہ کے اور اس کے شراکت دار لوگوں کو متواتر امداد پہنچا رہے ہیں اور اس سال اب تک اقوام متحدہ کے 65 سے زیادہ بین الاداری قافلوں کے ذریعے محاذ جنگ کے قریبی علاقوں میں پانچ ملین لوگوں کو مدد دی جا چکی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ امدادی اداروں کو تاحال روس کے زیرتسلط علاقوں ڈونیسک، لوہانسک، کیرسون اور ژاپوریژیزیا تک رسائی نہیں ہے جہاں اندازاً 3.7 ملین لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ روابط جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ مہینے کاخوفکا ڈیم کی تباہی کے بعد متاثرہ علاقوں میں بھی رسائی کی ضرورت ہے۔ اس واقعے میں دریائے نیپرو کے ساتھ آبادیوں میں تباہی پھیل گئی تھی اور مقامی ماحولی نظام متاثر ہوا۔
گھر واپسی کی خواہش
دریں اثنا بے گھری بھی ملک میں بدستور سنگین تشویش کا حامل مسئلہ ہے۔ یوکرین کے 6.3 ملین سے زیادہ لوگ پناہ گزینوں کی حیثیت سے رہ رہے ہیں اور اندازاً 5.1 ملین اندرون ملک بے گھر ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے 'آئی او ایم' کا کہنا ہے کہ فروری 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد اندازاً 4.76 ملین لوگ اپنے علاقوں میں واپس جا چکے ہیں جن میں 1.1 ملین پناہ گزین بھی شامل ہیں۔
اگرچہ بیشتر پناہ گزین اور اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں تاہم عدم تحفظ نے اسے عملی طور پر ناممکن بنا دیا ہے کیونکہ یوکرین بارودی سرنگوں کے حوالے سے دنیا کا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے۔
حقوق کی ہولناک پامالیاں
روزمیری ڈی کارلو نے دوران جنگ انسانی حقوق کی ہولناک پامالیوں کے بارے میں بھی بتایا۔ ایسی پامالیوں میں لوگوں کو زندگی سے ناجائز طور پر محروم کیا جانا، ناجائز حراست اور جبری گمشدگیاں، تشدد اور بدسلوکی اور جنگ سے متعلقہ جنسی تشدد شامل ہیں۔
اندازاً 4.76 ملین لوگ اپنے علاقوں میں واپس جا چکے ہیں جن میں 1.1 ملین پناہ گزین بھی شامل ہیں۔ آئی ایم او
'او ایچ سی ایچ آر' کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں روس کی جانب سے 846 افراد کے زیرحراست ہونے کے بارے میں بتایا گیا ہے جن میں بہت سے واقعات جبری گمشدگی کی ذیل میں آتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 90 فیصد سے زیادہ سویلین قیدیوں کو تشدد یا بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا جس میں جنسی تشدد بھی شامل ہے۔
انصاف اور احتساب
انہوں نے کہا کہ 77 شہریوں کو سرسری قانونی کارروائی کے بعد موت کی سزا دینا بھی انتہائی تشویشناک ہے جنہیں 'او ایچ سی ایچ آر' کی اطلاع کے مطابق روس نے ناجائز طور پر حراست میں لیا تھا۔
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر کو یوکرین کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ناجائز گرفتاریوں کے 75 واقعات کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔ ان میں سے بیشتر پر جنگ سے متعلقہ مجرمانہ جرائم کا شبہ ہے۔ ایسے 57 فیصد واقعات میں قیدیوں پر تشدد اور ان سے بدسلوکی کا ارتکاب کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے تمام متاثرین انصاف اور احتساب کے حق دار ہیں خواہ یہ پامالیاں کسی بھی فریق نے کی ہوں۔ اس معاملے میں کسی کو چھوٹ نہیں ملنی چاہیے۔