انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شدید موسم ماحولیاتی مسائل سے فوری نمٹنے کا کہہ رہے ہیں: ڈبلیو ایم او

ماں اور بیٹی ایک بازار سے گزرتے ہوئے شدید بارش سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
© ESCAP/Armin Hari
ماں اور بیٹی ایک بازار سے گزرتے ہوئے شدید بارش سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

شدید موسم ماحولیاتی مسائل سے فوری نمٹنے کا کہہ رہے ہیں: ڈبلیو ایم او

موسم اور ماحول

عالمی موسمیاتی ادارے نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ شدید گرمی شمالی کرے کے بڑے حصوں کو لپیٹ میں لے رہی ہے اور متواتر بارشوں سے آنے والے تباہ کن سیلابوں نے زندگیوں اور روزگار کو درہم برہم کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے مطابق جون میں کرہ ارض کا درجہ حرارت معلوم تاریخ میں سب سے زیادہ تھا اور گرمی کی لہریں جولائی کے اوائل تک جاری رہیں۔

Tweet URL

طوفانی بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں بہت سی انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور ان سے امریکہ، جاپان، چین اور انڈیا میں لاکھوں لوگ متاثر ہوئے۔

نیا معمول

ڈبلیو ایم او کے سیکرٹری جنرل پیٹری ٹالس نے کہا ہے کہ ہمارے گرم ہوتے ماحول میں متواتر بڑھتے شدید موسمی حالات کا انسانی صحت، ماحولی نظام، معیشتوں، زراعت، توانائی اور پانی کی فراہمی پر نمایاں اثر پڑا ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ معاشروں کو اس صورتحال سے مطابقت اختیار کرنے میں مدد دینے کے لیے کوششیں بڑھانا ہوں گی جو بدقسمتی سے اب نیا معمول بنتے جا رہے ہیں۔ 

مہلک قدرتی حادثات 

گرمی کی لہریں مہلک ترین قدرتی حادثات میں سے ایک ہیں جو ہر سال ہزاروں لوگوں کو ہلاک کر دیتی ہیں۔ 

بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے جنگلوں میں آگ لگنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جیسا کہ حالیہ دنوں کینیڈا میں دیکھا گیا جہاں رواں سال اب تک نو ملین ہیکٹر سے زیادہ جنگلات جل گئے ہیں جبکہ پچھلے دس سال میں یہ رقبہ 800,000 ہیکٹر تھا۔ اس صورت حال سے جنم لینے والی آلودگی اور راکھ شمال مشرقی افریقہ کے بیشتر حصے میں پھیل گئی ہے جس سے لاکھوں لوگوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ 

موسمی پیش گوئی کے مطابق آئندہ دو ہفتوں میں بحیرہ روم کے خطے، شمالی افریقہ میں بہت سی جگہوں، مشرق وسطیٰ اور ترکیہ میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا جس میں پارہ طویل مدتی اوسط کے مقابلے میں پانچ ڈگری سیلسیئس (41 ڈگری فارن ہائیٹ) سے زیادہ ہو گا۔ 

امریکہ کے قومی موسمیاتی ادارے کے مطابق بڑے پیمانے پر گرمی کی لہر ملک کے جنوبی حصے میں شدت اختیار کر رہی ہے اور اس دوران بہت سی جگہوں پر شدید گرمی پڑے گی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بعض جگہوں پر اب تک کا گرم ترین موسم بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ 

غیرمعمولی بارشیں 

حالیہ دنوں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث دنیا کے متعدد حصوں میں شدید تباہی پھیلی اور نقصان ہوا ہے۔

 ڈبلیو ایم او کے مطابق جاپان کے موسمیاتی ادارے (جے ایم اے) نے دو روز قبل ملک کے تیسرے سب سے بڑے جزیرے کیوشو کے فوکو اوکا اور اوئیٹا اضلاع میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں ہنگامی حالات پیدا ہونے اور روزانہ بارشوں کا نیا ریکارڈ قائم ہونے کے بارے میں انتباہ کیا ہے۔ 

جے ایم اے کا کہنا ہے کہ ایسی بارش پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ 

اسی دوران شمال مشرقی امریکہ بشمول نیویارک اور نیو انگلینڈ میں مہلک طوفانی بارشیں ہوئی ہیں۔ نیویارک میں ممکنہ سیلاب کے حوالے سے ہنگامی صورتحال نافذ کی گئی اور 11 جولائی کو چار ملین سے زیادہ لوگوں کو سیلاب سے متعلق انتباہ جاری کیا گیا۔ 

دوسری جگہوں پر دیکھا جائے تو اطلاعات کے مطابق شمال مغربی چین میں سیلاب سے 15 افراد ہلاک ہوئے جبکہ شمالی انڈیا میں مون سون کی شدید بارشوں اور کئی دریاؤں میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سڑکیں اور پُل بہہ گئے اور درجنوں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔

موسم اور ماحول سے متعلقہ آفات جیسے سیلاب، خشک سالی، اور حدت میں اضافہ نے سال 2022 میں بھی دنیا بھر میں تباہی مچائے رکھی۔
© WMO/Kureng Dapel
موسم اور ماحول سے متعلقہ آفات جیسے سیلاب، خشک سالی، اور حدت میں اضافہ نے سال 2022 میں بھی دنیا بھر میں تباہی مچائے رکھی۔

 کم آمدنی والے ممالک کو شدید خطرہ 

اقوام متحدہ کے ادارے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگرچہ ترقی یافتہ ممالک نے انتباہ اور سیلاب سے نمٹنے کے انتظامات سمیت شدید موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی تیاری میں اضافہ کیا ہے تاہم کم آمدنی والے ممالک بدستور غیرمحفوظ ہیں۔ 

مائیات، پانی اور کرہ ارض پر برف کی تہہ سے متعلق امور پر ڈبلیو ایم او کے ڈائریکٹر سٹیفن یولنبروک نے کہا ہے کہ جوں جوں کرہ ارض پر گرمی بڑھ رہی ہے تو توقع ہے کہ ہم پہلے سے زیادہ شدید، متواتر اور تندوتیز بارشیں دیکھیں گے جس کے نتیجے میں مزید شدت سے سیلاب آئیں گے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور سیلاب سے نمٹنے کے اقدامات کے حوالے سے ان کی تیاری بھی مکمل ہے۔ تاہم بہت سے کم آمدنی والے ممالک کے پاس ایسی قدرتی آفات کے بارے میں بروقت آگاہی کا انتظام، سیلاب سے بچاؤ کا ڈھانچہ اور اس سے نمٹنے کا کوئی مربوط بندوبست نہیں ہے۔ ڈبلیو ایم او اس صورتحال میں بہتری لانے کا عزم رکھتا ہے۔