انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سال 2030 تک ایڈز کا خاتمہ ’سیاسی و مالی ترجیح‘

فیونا یوگنڈا کے ایک ہسپتال میں کام کرتی ہیں جہاں وہ خواتین کو ایڈز سے پاک بچے پیدا کرنے کی تربیت دیتی ہیں۔
© UNICEF/Karin Schermbrucker
فیونا یوگنڈا کے ایک ہسپتال میں کام کرتی ہیں جہاں وہ خواتین کو ایڈز سے پاک بچے پیدا کرنے کی تربیت دیتی ہیں۔

سال 2030 تک ایڈز کا خاتمہ ’سیاسی و مالی ترجیح‘

صحت

سال 2030 تک ایڈز کے خاتمے کا ایک واضح راستہ موجود ہے اور یہ مضبوط سیاسی قیادت، سائنس کی پیروی، عدم مساوات سے نمٹنے اور پائیدار مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنانے کا تقاضا کرتا ہے۔

یہ پیغام ایڈز کی وبا کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے 'یواین ایڈز' کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس کا کہنا ہے کہ اس مرض کو واقعتاً ختم کرنے میں سیاسی اور مالی فیصلوں کا اہم کردار ہے۔ 

Tweet URL

ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ونی بیانیما نے کہا ہے کہ دور حاضر کے رہنماؤں کے پاس لاکھوں زندگیوں کو تحفظ دینے اور مستقبل میں ایسے لوگوں کی حیثیت سے اپنا نام زندہ رکھنے کا موقع ہے جنہوں نے دنیا کی مہلک ترین وبا کا خاتمہ کیا۔ 

'کامیاب قیادت کا ثبوت دیں' 

انہوں نے کہا کہ یہ رہنما لاکھوں زندگیاں بچا سکتے ہیں اور ہر ایک کی صحت کو تحفظ دے سکتے ہیں۔ وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ قیادت کیا کچھ کر سکتی ہے۔

یو این ایڈز کی نئی رپورٹ کے مطابق بوٹسوانا، ایسواٹینی، روانڈا، تنزانیہ اور زمبابوے پہلے ہی 95۔95۔95 کے اہداف حاصل کر چکے ہیں۔ اس سے مراد ایچ آئی وی میں مبتلا 95 فیصد لوگوں کو اپنی حالت کا علم ہونا، ایسے لوگوں میں 95 فیصد کا تحفظ زندگی میں مدد دینے والی ادویات لینا اور علاج معالجہ کرانے والے 95 فیصد لوگوں میں وائرس کا دبے رہنا ہے۔ 

متواتر پیش رفت 

ایسے ممالک اور خطوں میں پیش رفت بہت بہتر ہے جنہوں نے ایچ آئی وی/ایڈز پر قابو پانے کے لیے زیادہ مالی وسائل خرچ کیے ہیں۔ ان میں مشرقی اور جنوبی افریقہ جیسے خطے شامل ہیں جہاں ایچ آئی وی کے نئے مریضوں کی تعداد 2010 میں 57 فیصد تک کم ہو گئی تھی۔ 

بچوں میں ایڈز کے خاتمے کے لیے مدد اور سرمایہ کاری کے بعد گزشتہ برس دنیا بھر میں ایچ آئی وی میں مبتلا حاملہ اور دودھ پلانے والی 82 فیصد خواتین کو علاج معالجے تک رسائی ملی جو کہ 2010 کے مقابلے میں 46 فیصد بڑی تعداد ہے۔ 

'یو این ایڈز' نے بتایا ہے کہ اسی عرصہ کے دوران بچوں میں ایچ آئی وی کے نئے مریضوں کی تعداد میں 58 فیصد تک کمی آئی جو کہ 1980 کی دہائی کے بعد کم ترین تعداد ہے۔ 

یہ یقینی بنانے سے بھی اس معاملے میں پیش رفت آگے بڑھی ہے کہ قانونی اور پالیسی سے متعلق طریقہ ہائے کار انسانی حقوق کو متاثر نہ کریں بلکہ انہیں فعال بنائیں اور تحفظ فراہم کریں۔ ممالک نے نقصان دہ قوانین کو واپس لینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ گزشتہ دو برس میں اینٹی گوا اور بارباڈوا، جزائر کک، بارباڈوز، سینٹ کٹس اینڈ نیوس اور سنگاپور نے ہم جنس پرست جسمانی تعلقات کو جرم کی ذیل سے خارج کر دیا ہے۔ 

دنیا بھر میں ایچ آئی وی کے خلاف ادویات لینے اور علاج معالجہ کرانے والوں کی تعداد تقریباً چار گنا بڑھ گئی ہے۔ 2010 میں یہ تعداد 7.7 فیصد تھی جو 2022 میں 29.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ 

ہر منٹ میں ایک موت 

تاہم 2030 تک ایڈز کا خاتمہ کرنے کے مقصد کی تکمیل کے لیے ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس ہر منٹ میں ایڈز سے ایک موت ہوئی اور تقریباً 9.2 ملین لوگوں کو اب بھی اس بیماری کا علاج میسر نہیں ہے جن میں ایچ آئی وی کا شکار 660,000 بچے بھی شامل ہیں۔ 

اس حوالے سے خاص طور پر ذیلی صحارا افریقہ میں خواتین اور لڑکیاں غیرمتناسب طور سے متاثر ہو رہی ہیں۔ 2022 میں ہر ہفتے تقریباً 4,000 نوجوان خواتین اور لڑکیاں ایچ آئی وی کا شکار ہوئیں۔ 

اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے خاطرخواہ مالی وسائل کا حصول بھی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ گزشتہ برس اس ضمن میں ملکی و بین الاقوامی وسائل میں مجموعی کمی دیکھی گئی۔ اس حوالے سے مہیا کیے جانے والے مالی وسائل کا حجم 20.8 بلین ڈالر تک ہی پہنچا ہے جو 2025 تک درکار 29.3 بلین ڈالر سے بہت کم ہے۔ 

محتاط امید

بیانیما کا کہنا ہے کہ ادارہ پُرامید ہے لیکن پیش رفت کی موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے آرام سے نہیں بیٹھا جا سکتا۔ اس کے بجائے ہمارے سامنے ایک امید ہے جس کی بنیاد کامیابی کے دکھائی دینے والے موقع پر ہے اور اس موقع کے ہاتھ آنے کا دارومدار عملی اقدامات پر ہے۔ 

وہ کہتی ہیں کہ اس رپورٹ میں بیان کردہ حقائق اور اعدادوشمار یہ ثابت نہیں کرتے کہ پوری دنیا کی حیثیت سے ہم پہلے ہی کامیابی کی راہ پر ہیں بلکہ ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوشش کرنے کی صورت میں ہمیں کامیابی مل سکتی ہے۔ ہمارے سامنے واضح راستہ موجود ہے۔