پائیدار ترقی: سیاسی اتفاق رائے کی خاطر اہم فورم کا اجلاس شروع
حکومتوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے شراکت دار سوموار کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی معاشی و سماجی کونسل کے اجلاس میں اکٹھے ہوئے جس کا مقصد پائیدار ترقی کے 17 اہداف کے حصول کی کوششوں کو دوبارہ درست راہ پر ڈالنے کی فوری ضرورت سے نمٹنا ہے۔
2015 میں لوگوں اور زمین کے لیے طے شدہ مقاصد کے اس پُرعزم منصوبے پر ہونے والا کام کووڈ۔19 وبا اور بڑھتے ہوئے عالمی بحرانوں کے باعث بے سمت ہو چکا ہے۔
2030 کے ایجنڈے کی منظوری سے اب تک دنیا میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پیش رفت مالی، توانائی، غذائی اور انسانی ترقی کے شعبوں میں ہونے والی ناکامیوں کے باعث منفی طور سے متاثر ہوئی ہے جو ارضی سیاسی کشیدگیوں کے باعث سنگین صورت اختیار کر گئی ہیں۔
پائیدار ترقی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی سیاسی فورم 'ایچ ایل پی ایف' 2030 کے ایجنڈے کے حصول کی راہ پر نصف وقت گزرنے کے بعد منعقد ہو رہا ہے۔ یہ فورم عالمگیر بحالی کی رفتار تیز کرنے کے طریقوں پر توجہ مرتکز کرتے ہوئے ستمبر 2023 میں پائیدار ترقی کے اہداف سے متعلق ہونے والی اہم کانفرنس کے لیے راہ ہموار کرے گا۔
اہم پالیسی ترجیحات
اقوام متحدہ میں بلغاریہ کی نمائندہ اور کونسل کی موجودہ صدر لاشیزارا سٹوئیوا نے فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسے کانفرنس کے لیے سیاسی رفتار حاصل کرنے اور پالیسوں سے متعلق اہم ترجیحات کی نشاندہی کا موقع قرار دیا۔
اس فورم کی بنیاد دو اہم دستاویزات پر ہو گی جن میں پائیدار ترقی سے متعلق 2023 کی عالمی رپورٹ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے بارے میں سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کا خصوص ایڈیشن شامل ہیں۔
پانچ اہداف کا جائزہ
ہمیشہ کی طرح یہ فورم پائیدار ترقی کے متعدد اہداف کا تفصیلی جائزہ لے گا۔ اس مرتبہ صاف پانی اور نکاسی آب کے بارے میں چھٹے ہدف، سستی اور ماحول دوست توانائی سے متعلق ساتویں ہدف، صنعت، اختراع اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق نوویں ہدف، مستحکم شہروں اور آبادیوں سے متعلق گیارہویں ہدف اور پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے شراکتوں کے قیام سے متعلق 17ویں ہدف کو حاصل کرنے کی جانب ہونے والی پیش رفت اور ان کے باہمی ربط کا جائزہ لینے کے لیے مخصوص اجلاس منعقد ہوں گے۔
اس فورم کے شرکا تمام اہداف پر عملدرآمد کے حوالے سے عمومی اقدامات کا جائزہ لینے کے علاوہ اس پر بھی غور کریں گے کہ اہداف کے حصول کے لیے ممالک کی مخصوص ضروریات پوری کرنے کے لیے کون سی مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ ان میں چھوٹے جزائر پر مشتمل ممالک اور افریقہ کے ملک بھی شامل ہیں۔
کونسل کی سربراہ نے واضح کیا کہ اس معاملے پر غوروفکر اور بات چیت میں نوجوانوں کی آرا کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ درپیش مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے نوجوانوں کی دانائی، توانائی اور لگن کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔
رضاکارانہ قومی جائزے
ممالک کی جانب سے ٹھوس معلومات کی فراہمی کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف پر پیش رفت کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ اسی لیے ہر ملک کی جانب سے رضاکارانہ قومی جائزے تیار کیے گئے ہیں جن کا پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول، اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے اور آئندہ اقدامات میں اہم ترین کردار ہے۔
لاشیزارا نے کہا کہ یہ رپورٹیں 2030 کے ایجنڈے پر عملدرآمد کی صورتحال بھی بتاتی ہیں۔ ان کے ذریعے ہر سال ہونے والی پیش رفت اور اس پر عملدرآمد کی راہ میں سامنے آنے والے مسائل اور رکاوٹوں کو بھی سامنے لایا جاتا ہے۔
اس فورم میں 39 ممالک کے نمائندے اپنے رضاکارانہ قومی جائزے پیش کرتے ہوئے خیالات کا اظہار کریں گے۔ پہلی مرتبہ یورپی یونین بھی اپنی رپورٹ پیش کرے گی جسے کونسل کی سربراہ نے یورپی یونین اور 'ایچ ایل پی ایف' دونوں کے لیے ایک تاریخی موقع قرار دیا ہے۔
دس روز تک جاری رہنے والے اس فورم میں 200 سے زیادہ باقاعدہ اجلاس اور ذیلی اجلاس ہوں گے۔ 'ایچ ایل پی ایف' کے شرکا 2030 کے ایجنڈے کے ہر پہلو پر تیز رفتار عملدرآمد کا جائزہ لیں گے۔
لاشیزارا نے مندوبین سے کہا کہ یہی اس برس ہمارے غور وفکر اور بات چیت کا مقصد ہے اور ہمیں اس سے اپنی نگاہ نہیں ہٹانی۔