انسانی کہانیاں عالمی تناظر
نائیجریا کی زارا بولاما ایف اے او کی طرف سے ملنے والی اپنی بکریوں میں سے ایک کے ساتھ۔

پائیدار ترقی کی منزل کی طرف تیز رفتار سفر کے پانچ راستے

UNOCHA/Damilola Onafuwa
نائیجریا کی زارا بولاما ایف اے او کی طرف سے ملنے والی اپنی بکریوں میں سے ایک کے ساتھ۔

پائیدار ترقی کی منزل کی طرف تیز رفتار سفر کے پانچ راستے

پائیدار ترقی کے اہداف

پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے پُرعزم ایجنڈے کے حصول کی جانب نصف وقت طے ہو نے پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک، اختراع کار اور بااثر شخصیات سوموار ادارے کے ہیڈکوارٹر میں جمع ہیں جہاں معاشی و سماجی کونسل وبا کے بعد ہونے والی ترقیاتی کوششوں پر مبنی اپنی تازہ ترین رپورٹ پیش کرے گی۔

پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے حوالے سے پانچ اہم باتوں سے آگاہ ہونا ضروری ہے: 

درست راہ پر واپسی 

اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ کے مطابق کووڈ۔19 وبا نے ایس ڈی جی کے حصول میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو غارت کرتے ہوئے ہمیں کئی دہائیاں پیچھے لا کھڑا کیا ہے اور اگر موجودہ رحجانات برقرار رہے تو 2030 تک 575 ملین لوگ شدید غربت میں زندگی بسر کر رہے ہوں گے۔

قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں اوسط عالمی درجہ حرارت پہلے ہی تقریباً 1.1 ڈگری سیلسیئس تک بڑھ چکا ہے اور ممکنہ طور پر 2035 تک 1.5 ڈگری سیلسیئس کی خطرناک حد تک پہنچ جائے گا۔ 

کونسل کا اعلیٰ سطحی سیاسی فورم (ایچ ایل پی ایف) ممالک کو اس معاملے میں درست راہ پر گامزن کرنے میں رہنما کردار ادا کرتا ہے جس کا آغاز سوموار کو ہوا۔ 

فورم میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک، سول سوسائٹی، صنعتی رہنما اور اختراع کار شریک ہیں جو 20 جولائی تک ایس ڈی جی کے 17 میں سے پانچ اہداف پر غوروفکر اور تبادلہ خیال کریں گے اور ان کا کام ستمبر میں ہونے والی نہایت اہم ایس ڈی جی کانفرنس میں ضروری نتائج کے حصول میں مددگار ہو گا۔ 

'ای سی او ایس او سی' کی صدر لاشیزارا سٹوئیوا نے جمعے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کے 17 اہداف پر پیش رفت بری طرح بے سمت ہے۔ اس ہدف کے حصول کی جانب نصف مدت گزرنے کے بعد ہمیں امید ہے کہ ہم اب بھی ممالک کی توجہ اس مقصد کی جانب نئے سرے سے مرکوز کر سکتے ہیں۔

کانفرنس میں کووڈ۔19 کے بعد بحالی کی رفتار تیز کرنےکے موضوع کے تحت تقریبا 40 ممالک ان اہداف کے حصول کے ضمن میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں اور اس راہ میں آنے والی رکاوٹوں سے آگاہ کریں گے۔ مختلف ممالک کے 100 سے زیادہ وزرا، سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم اور اختراع کار اس معاملے میں حاصل ہونے والے اسباق اور مقصد کے حصول کے لیے بہت سے اختراعی طریقہ کار کے بارے میں آگاہی دیں گے۔ 

صاف پانی، نکاسی آب اور بجلی تک رسائی میں اضافے کی ضرورت 

انڈیا کا ایک کسان اپنی بیٹی کے ساتھ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل سے فصلوں کو سراب کرتے ہوئے۔
© CCAFS/Prashanth Vishwanathan
انڈیا کا ایک کسان اپنی بیٹی کے ساتھ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل سے فصلوں کو سراب کرتے ہوئے۔

کم از کم دو بلین لوگ اب بھی صاف پانی سے محروم ہیں جو کہ ایس ڈی جی 6 کے حصول کی راہ میں بہت بڑا مسئلہ ہے۔ 

اسی طرح اگرچہ 2010 اور 2020 کے درمیان بجلی سے محروم افراد کی تعداد 1.2 بلین سے کم ہو کر 733 بلین تک آ گئی ہے تاہم 'ایس ڈی جی7 کے حصول میں پیش رفت کی تفصیل مہیا کرنے والی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ کوششیں اس ہدف کے بروقت حصول کے لیے کافی نہیں ہیں۔ 

مالی وسائل کی کمی بھی اس مسئلے کا ایک جزو ہے۔ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے نجی شعبے اور دیگر نئے شراکت داروں کو ساتھ ملانا نئی سرمایہ کاری لانے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق وقت پہلے ہی تبدیل ہو رہا ہے۔ ماحول دوست توانائی کو اب ترقی کے شعبے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو نوکریاں تخلیق کر سکتا ہے اور خوشحالی کو فروغ دیتا ہے۔ 2022 میں پہلی مرتبہ ماحول دوست توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا حجم معدنی ایندھن کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری سے تجاوز کر گیا تھا۔ 

'ایچ ایل پی ایف' وسطی جمہوریہ افریقہ (سی اے آر) جیسے ممالک کی بات خاص طور پر سنے گا جو ترقی پذیر شراکت داروں کے تعاون سے اس حوالے سے اہم اقدامات کر رہے ہیں۔ 

ثمرات: روبوٹس سے استحکام تک 

زمین اور مٹی کی بجائے پانی میں فصلیں اگانے کی تکنیک سے چھوٹے کاشتکار فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
© AfriLeap
زمین اور مٹی کی بجائے پانی میں فصلیں اگانے کی تکنیک سے چھوٹے کاشتکار فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق وبا نے صنعتی شعبے میں ہر تین میں سے تقریباً ایک نوکری کو متاثر کیا ہے تاہم اختراعی سرمایہ کاری بدستور مستحکم ہے کیونکہ کاروباری شعبے اور حکومتوں کی جانب سے تحقیق و ترقی کے لیے بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے نئے کاروباروں میں سب سے زیادہ ترقی دیکھی گئی ہے جو افریقہ، لاطینی امریکہ اور غرب الہند میں خاص طور پر نمایاں ہے۔ 

روبوٹس کے فوائد سے لے کر جین گوڈال، سیارا اور یو یو ما جیسی بااثر شخصیات کی دنیا بھر میں ان کے حلقوں میں طاقت سے کام لیتے ہوئے اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار بہت سے ایسے اقدامات میں مدد دے رہے ہیں جن کا مقصد ممالک کو بہت سے شعبوں میں ماحول دوست ترقی کے لیے مدد دینا ہے تاکہ صنعت، اختراع اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق ایس ڈی جی 9 کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ 

اس فورم میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں شراکتوں پر خاص توجہ دی جائے گی اور 200 ذیلی اجلاسوں میں ان اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت میں اضافے کے لیے بہت سے تخلیقی طریقہ ہائے کار سامنے لائے جائیں گے۔ 

اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کیا جانے والا پالیسی سے متعلق خلاصہ 'ماحول دوست طباخی کی جانب منصفانہ اور مشمولہ منتقلی کے لیے عالمگیر لائحہ عمل' اور 'شہری منتظمین کے کام کو ڈیجیٹل صورت دینے' سے متعلق اجلاس اس کی نمایاں مثال ہیں جو 'ڈیجیٹل تعاون کے لیے شہروں کے منتظمین کے بین الاقوامی اتحاد' کو پائیدار اور مشمولہ شہری ترقی کے لیے ایسی ٹیکنالوجی سے کام کرنے لینے میں تعاون مہیا کرے گا۔ 

ماحول دوست شہر سب کے لیے 

انگولا کا شہر لوانڈا۔
© UNDP Angola/Cynthia R Matonho
انگولا کا شہر لوانڈا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے جون میں کہا تھا کہ شہر 2030 کے ایجنڈے کے حصول کی راہ پر جدوجہد کی اہم جگہیں ہوں گی۔ دنیا بھر میں 70 فیصد گرین ہاؤس گیسیں شہروں سے خارج ہوتی ہیں اور کرہ ارض پر انسانوں کی نصف تعداد شہروں میں رہتی ہے۔ ایسے میں ماحول دوست شہری منظرناموں کے لیے کام کرنے والے ممالک کے لیے شہر اہم میدان عمل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 30 برس میں دنیا کی دو تہائی سے زیادہ آبادی بڑے شہروں اور قصبوں میں رہنےکو ترجیح دے گی کیونکہ شہر انہیں بہت سے فوائد مہیا کریں گے۔ شہر معاشی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور عالمگیر جی ڈی پی کا 80 فیصد شہروں سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ 

تاہم 2020 میں ایک بلین سے زیادہ لوگ کچے مکانوں یا غیررسمی آبادیوں میں رہ رہے تھے جن میں زیادہ کا تعلق ایشیا اور ذیلی صحارا افریقہ سے ہے۔ شہری آبادی بڑھنے پر کچی آبادیاں مزید تیزی سے بڑھنے لگتی ہیں۔ 

ایس ڈی جی 11 کا مقصد 2030 تک شہروں اور انسانی آبادیوں کو مشمولہ، محفوظ، مستحکم اور پائیدار بنا کر ان مسائل پر قابو پانا ہے۔ اس مقصد کے لیے مالی وسائل کی فراہمی ضروری ہےجس پر فورم میں خاص طور پر بات کی جائے گی۔ اس میں کچی آبادیوں اور پرانے گھروں کو مناسب رہائش میں تبدیل کرنا، نقل و حمل کے سستے اور قابل بھروسہ نظام کا قیام اور تمام لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر ماحول دوست سہولیات کی فراہمی کے ساتھ شہری ماحول تخلیق کر کے بنیادی خدمات تک رسائی یقینی بنانا شامل ہے۔

اختراعی شراکتیں 

وینزویلا کی طبی تجربہ گاہ میں جرثموں میں وقت کے ساتھ ویکسین اور ادویات کے خلاف مزاحم ہونے کے رحجان پر تحقیق کی جا رہی ہے۔
© WHO/Sarah Pabst
وینزویلا کی طبی تجربہ گاہ میں جرثموں میں وقت کے ساتھ ویکسین اور ادویات کے خلاف مزاحم ہونے کے رحجان پر تحقیق کی جا رہی ہے۔

'ای سی او ایس او سی' کی صدر نے کہا کہ ایس ڈی جی کا حصول مضبوط شراکتوں کی بدولت ہی ممکن ہے۔ اسی لیے 'ایچ ایل پی ایف' سول سوسائٹی کےنمائندوں، نجی شعبے اور ماہرین علم سے تجاویز لے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ مالی وسائل کی دستیابی ممکن بنانا اس مسئلے کا ایک اہم حصہ ہے اور ہمیں نجی شعبے کو بھی اس معاملے میں ساتھ لے کر چلنا اور اہداف کے حصول کی غرض سے مالی وسائل جمع کرنے کے نئے طریقے ڈھونڈنا ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے نئے شراکت داروں کی بھی ضرورت ہے اور میڈیا اہداف کے حصول کی کوششوں کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف کی باہم مربوط نوعیت کو دیکھتے ہوئے ایس ڈی جی 17 ایک دوسرے سے تعاون اور سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع تک رسائی کے لیے بھی کہتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام ممالک نئی پیش ہائے رفت کے فوائد سے مستفید ہوں۔ 

اس فورم کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک اور اہم فریقین ایک دوسرے سے اپنے تجربات کا تبادلہ کریں گے اور پائیدارترقی کی راہ میں حائل بعض اہم ترین مسائل پر اجتماعی طور سے قابو پانے کے لیے شراکتوں سے حاصل ہونے والے فوائد کی بابت آگاہی دیں گے تاکہ ایس ڈی جی کے حصول کی جانب پیش رفت کو بڑھایا جائے اور کوئی پیچھے نہ رہے۔

اوساکا جاپان میں ایک بچی روبوٹ کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے۔
© Unsplash/Andy Kelly
اوساکا جاپان میں ایک بچی روبوٹ کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے۔