انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین اور روس سے اناج و کھاد کی برآمد عالمی غذائی تحفظ کے لیے ناگزیر

ایک مشترکہ تعاون مرکز کے تحت اس معاہدے کی نگرانی کی جاتی ہے تاہم حالیہ ہفتوں میں بحری جہازوں کے معائنوں سے متعلق معاملات کے باعث ان کی نقل و حرکت میں کمی آئی ہے۔
© UNODC/Duncan Moore
ایک مشترکہ تعاون مرکز کے تحت اس معاہدے کی نگرانی کی جاتی ہے تاہم حالیہ ہفتوں میں بحری جہازوں کے معائنوں سے متعلق معاملات کے باعث ان کی نقل و حرکت میں کمی آئی ہے۔

یوکرین اور روس سے اناج و کھاد کی برآمد عالمی غذائی تحفظ کے لیے ناگزیر

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ گزشتہ برس ادارے کی ثالثی میں یوکرین اور روس کے مابین خوراک اور کھاد کی برآمد کے معاہدوں نے عالمگیر غذائی تحفظ برقرار رکھنے میں ناگزیر کردار ادا کیا اور انہیں قائم رہنا چاہیے۔

اپنے نائب ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں انتونیو گوتیرش نے گزشتہ برس جولائی میں طے پانے والے ان معاہدوں پر مکمل اور مسلسل عملدرآمد کی اہمیت کو واضح کیا جنہیں 'بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اس اقدام کی بدولت یوکرین کے اناج اور خوراک اور روس کے ساتھ باہمی مفاہمت کی یادداشت کے ذریعے  وہاں تیار کردہ کھاد کی محفوظ راستوں سے عالمی منڈیوں کو ترسیل ممکن ہوئی۔

یہ معاہدہ عالمگیر غذائی تحفظ کے لیے بہت اہم ہے خاص طور پر جب 58 ممالک میں 258 ملین لوگوں کو بھوک کا سامنا ہے۔ 

روس تاحال یہ جائزہ لے رہا ہے کہ آیا وہ اس معاہدے میں شامل رہے یا اس سے نکل جائے۔ یوکرین کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کے انتظام میں اقوام متحدہ اور ترکیہ بھی شامل ہیں اور اس کی مدت 17 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ مئی میں روس نے اس اقدام میں 60 روزہ توسیع پر اتفاق کیا تھا اور اقوام متحدہ کے زیرقیادت اس کی مدت میں مزید اضافے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ 

استنبول میں تمام فریقین پر مشتمل ایک مشترکہ تعاون مرکز کے تحت اس معاہدے کی نگرانی کی جاتی ہے تاہم حالیہ ہفتوں میں بحری جہازوں کے معائنوں سے متعلق معاملات کے باعث ان کی نقل و حرکت میں کمی آئی ہے۔ 

اناج کی موثر ترسیل 

ترجمان کے مطابق سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ یہ یقینی بنانا بہت اہم ہے کہ یوکرین اور روس سے برآمد کی جانے والی خوراک اور کھادیں بطریق احسن، موثر طور سے اور بڑی مقدار میں ضرورت مند ممالک تک پہنچتی رہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے اس امر کا غیرمعمولی اظہار ہیں کہ دنیا دور حاضر کے بڑے مسائل کو حل کرنا چاہے تو کیا کچھ کر سکتی ہے۔  

ان معاہدوں کی بدولت عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں متواتر کمی آ رہی ہے جو گزشتہ سال مارچ کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں 23 فیصد سے بھی زیادہ گر چکی ہیں۔

فصلوں کی کٹائی کا موسم 

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زرات کے اعلیٰ ترین ماہر معاشیات میکسیمو ٹوریرو نے کہا ہے کہ یوکرین کی بندرگاہوں سے اناج برآمد کرنے کی اجازت دینے کے اقدام کی بدولت 32 ملین ٹن اناج اور خوراک کی ترسیل ممکن ہوئی اور اس کا بڑا حصہ ترقی پذیر ممالک کی غذائی ضروریات پوری کرنے اور عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے لیے غذائی امداد کے طور پر بھیجا گیا۔ 

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کی تجدید ایک ایسے وقت میں ہو گی جو بہت اہم ہے کیونکہ فصلوں کی کٹائی کا موسم شروع ہو رہا ہے۔ میکسیمو ٹوریرو نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام کی تجدید ہو جائے گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اناج سے بنی اشیا کی قیمتوں میں بہت بڑا اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ 

غذائی تحفظ کے لیے لازمی اقدام 

اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایسے وقت میں یہ معاہدے عالمگیر غذائی تحفظ کے لیے بہت اہم ہیں جب 58 ممالک میں 258 ملین لوگوں کو بھوک کا سامنا ہے۔ 

نائب ترجمان فرحان حق نے اپنے بیان میں کہا کہ سیکرٹری جنرل اور ان کی ٹیم پہلے سے ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے کا بھرپور عزم رکھتے ہیں اور اس حوالے سے متعدد متعلقہ فریقین کے ساتھ متواتر رابطے میں ہیں۔ 

سیکرٹری جنرل نے تمام متعلقہ فریقین سے کہا ہے کہ وہ عالمگیر غذائی تحفظ کو اپنی ترجیح بنائیں۔