انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین جنگ: ہولناکیوں اور نقصانات کے 500 دن

جنگ نے یوکرین کے عوام اور شہری ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
© UNDP/Oleksandr Ratushniak
جنگ نے یوکرین کے عوام اور شہری ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

یوکرین جنگ: ہولناکیوں اور نقصانات کے 500 دن

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ نے یوکرین پر روس کے حملے سے شہریوں کو ہونے والے ہولناک نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ آج اس حملے کو 500 روز مکمل ہو گئے ہیں۔

یہ جنگ 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی اور یوکرین میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کے نگران مشن (ایچ آر ایم ایم یو) نے تصدیق کی ہے کہ اس دوران 500 سے زیادہ بچوں سمیت 9,000 سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں تاہم حقیقی تعداد اس سے کہیں بڑی ہو سکتی ہے۔

Tweet URL

یوکرین میں اقوام متحدہ کے مشن کی نائب سربراہ نوئل کیلہون نے کہا ہے کہ آج اس جنگ نے ایک اور خوفناک سنگ میل عبور کر لیا ہے جس کی یوکرین کے شہری متواتر ہولناک قیمت چکا رہے ہیں۔ 

حالیہ مہلک حملے 

'ایچ آر ایم ایم یو' نے بتایا ہے کہ 2022 کے مقابلے میں اِس سال کے اوائل میں مجموعی ماہانہ انسانی نقصان کم رہا تاہم مئی اور جون میں ان نقصانات کی اوسط تعداد دوبارہ بڑھ گئی اور گزشتہ دو ہفتے یہ جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کا مہلک ترین عرصہ تھے۔ 

حالیہ حملوں میں مشرقی شہر کراماٹورسک کے ایک مصروف خریداری مرکز پر 27 جون کی شام ہونے والا میزائل حملہ بھی شامل ہے جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔ 

متاثرین میں اعزاز یافتہ لکھاری اور انسانی حقوق کی محافظ وکٹوریا امیلینا بھی شامل تھیں جو اس ہفتے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئیں۔

اس حملے سے چند ہی روز کے بعد مغربی یوکرین کے شہر لیئو میں ایک اور میزائل حملے میں 10 شہری ہلاک ہو گئے۔

 ہزاروں اموات 

یوکرین میں شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے سے متعلق تازہ ترین رپورٹ میں شہریوں کی اموات کے بارے میں اطلاعات بھی دی گئی ہیں۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر 'او ایچ سی ایچ آر' نے شائع کی ہے جو جنگ کے آغاز سے 30 جون 2023 تک کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ 

جنگ میں 25,170 شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں ہلاکتوں کی تعداد 9,177 ہے اور 15,993 افراد زخمی ہوئے۔ 

اس تعداد میں جن افراد کی جنس معلوم ہو سکی ہے ان میں 61 فیصد مرد اور 39 فیصد خواتین ہیں۔ اسی طرح جن بچوں کی جنس کے بارے میں مصدقہ معلومات دستیاب ہو سکی ہیں ان میں 57 فیصد لڑکے اور 42.8 فیصد لڑکیاں ہیں۔

'او ایچ سی ایچ آر' کو روس کے زیرقبضہ کرائمیا اور سیوستاپول شہر میں 22 شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے سے متعلق اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ان میں پانچ مرد اور ایک خاتون ہلاک اور 16 افراد زخمی ہوئے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والوں کی جنس معلوم نہیں ہو سکی۔ 

جوہری پاور پلانٹ کی تازہ ترین صورتحال 

اسی دوران جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کی جانب سے جنوبی یوکرین میں واقع ژاپوریژیزیا جوہری پاور پلانٹ (زیڈ این پی پی) میں تعینات کردہ ماہرین کو اس جگہ کوئی بارودی سرنگیں یا دھماکہ خیز مواد دکھائی نہیں دیا۔ یہ بات ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروزی نے بتائی ہے۔ 

اس جنگ کے ابتدائی ایام سے ہی یورپ کا یہ سب سے بڑا جوہری پلانٹ روس کے زیرتسلط ہے اور متحارب فریقین نے ایک دوسرے پر اس جگہ بمباری کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ 

قبل ازیں 'آئی اے ای اے' نے بتایا تھا کہ وہ ایسی اطلاعات سے آگاہ ہے کہ محاذ جنگ پر واقع اس پلانٹ کے اندر اور اس کے اردگرد دھماکہ خیز بارودی مواد موجود ہے۔