موسمیاتی بحران سمیت دوسرے چیلینجز سےنمٹنے میں تعاون اہم: گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نےکہا ہے کہ دنیا بھر میں تقسیم اور ارضی سیاسی کشیدگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ انسانیت کو تین بڑے مسائل کا سامنا ہے جہاں دنیا کے پاس مسائل کے حل کی تلاش اور اس مقصد کے لیے متحد ہونے کی طاقت موجود ہے۔
انتونیو گوتیرش نے یہ بات شنگھائی تعاون کونسل کی تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو رقبے اور آبادی کے اعتبار سے دنیا میں سلامتی کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے۔ فی الوقت اس میں چین، انڈیا، قازقستان، کرغیزستان، روس، پاکستان، تاجکستان، ازبکستان اور نیا رکن ایران بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کا ایشیا پر مرتکز ایس سی او کے ساتھ 2010 سے تعاون کا معاہدہ چلا آ رہا ہے اور یہ تنظیم اقوام متحدہ کے متعدد اداروں کی بھی شراکت دار ہے۔ اس برس تنظیم کا اجلاس انڈیا میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد ہوا۔
یوکرین اور کووڈ کا عنصر
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک سے کہا کہ عالمگیر بحرانوں پر مختلف النوع قومی اور معقول ردعمل، سلامتی کے خطرات پر اختلافات اور کووڈ نیز یوکرین پر روس کے حملے کے اثرات نے ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی تقسیم میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
تاہم موسمیاتی بحران سے لے کر بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور نئی ٹیکنالوجی کے انتظام تک دور حاضر کے عالمگیر مسائل بات چیت اور تعاون کی بدولت ہی حل ہو سکتے ہیں اور ایسا کرنے کا واحد راستہ اتحاد ہے۔
تین محاذوں پر مسائل کے حل کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ اس وقت تین بڑے مسائل ایسے ہیں جن کے حل ہم ڈھونڈ سکتے اور اس مقصد کے لیے متحد ہو سکتے ہیں اور ہمیں ایسا ہی کرنا ہو گا۔
انہوں ںے کہا کہ ان میں پہلا مسئلہ موسمیاتی بحران ہے۔ جب تک دنیا بھر کے لوگ اس مسئلے پر اکٹھے ہو کر کام نہیں کرتے اس وقت تک ہم تباہی کی جانب بڑھتے رہیں گے۔ ہمیں متحد ہو کر اپنی کوششوں کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اس معاملے میں انہوں نے اپنے تجویز کردہ موسمیاتی یکجہتی معاہدے کا حوالہ دیا جس کا مقصد سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والے اور ترقی پذیر کی جانب سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات ہماری زندگیوں کی جنگ ہے اور ایس سی او کے ارکان نے اس میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔
مصنوعی ذہانت پر نگرانی
دوسرے مسئلے کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے دور میں داخلے کے لیے دنیا کی تیاری انتہائی ناکافی ہے اور اس ٹیکنالوجی سے ہونے والے ممکنہ نقصان کو روکنے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی)، خودکار ہتھیار اور حیاتیاتی انجینئرنگ تین ایسے شعبے ہیں جہاں چیزوں کی محفوظ انداز میں تیاری اور اس ٹیکنالوجی سے کام لینے والی صںعت اور کمپنیوں کے کام کو باضابطہ بنانے کے لیے ہماری صلاحیتیں بہت کم ہیں۔
انہوں نے اس میدان میں متعارف کرائے جانے والے قوانین کے حوالے سے بین الاقوامی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے تجویز کردہ عالمگیر ڈیجیٹل معاہدے کا حوالہ دیا جس کا مقصد اس مسئلے پر حکومتوں، علاقائی اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو اکٹھا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر اقوام متحدہ کا ایک نیا اعلیٰ سطحی مشاورتی گروپ تشکیل دیا جائے گا۔
'ناانصافی کا خاتمہ کریں'
تیسرے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ ممالک کے اندر اور ان کے مابین اعتماد کی ٹوٹ پھوٹ سے عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وبا نے اس صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک پر قرضوں اور سود کی ادائیگی کا بہت بڑا بوجھ ان وسائل کو ہڑپ کیے جا رہا ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیرمنصفانہ عالمگیریت کاحل عالمگیریت کو کم کرنا نہیں بلکہ اس کا حل ناانصافی کو کم کرنے میں ہے۔
سیکرٹری جنرل نے ممالک سے کہا کہ وہ منصفانہ عالمگیریت، موسمیاتی انصاف اور عالمگیر مالیاتی اصلاحات کے لیے کام کریں جن سے بریٹن وڈز اداروں اور سلامتی کونسل دونوں میں مساوات اور توازن آئے۔