کیری کام اجلاس: موسمیاتی بحران، عالمی قرضے اور ہیٹی زیر بحث
اقوام متحدہ کے سربراہ نے پورٹ آف اسپین، ٹرینیڈاڈ اور ٹوبیگو میں سوموار کو کیریبین کمیونٹی کی تنظیم ’کیری کام‘ کے سربراہی اجلاس میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی بحران کے حل، قرضوں سے نجات کے طریقہ کار، اور ہیٹی کو فوری مدد فراہم کرنے پر زور دیا۔
سیکرٹری جنرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹرینیڈاڈ کیری کام کی 50ویں سالگرہ منانے کے لئے موزوں ترین جگہ ہے۔ ’آپ کا ملک اس قوت اور ذرخیزی کی مثال ہے جو متحدہ تنوع سے حاصل ہوتی ہے۔ آپ کا خِطہ عالمگیر تبدیلی کے لیے مشترکہ اخلاقی آواز کی طاقت کی مثال ہے۔‘
جزائر غرب الہند کی متاثر کن قیادت
انہوں نے کہا کہ غرب الہند کے ممالک رقبے کے اعتبار سے تو چھوٹے ہو سکتے ہیں لیکن انہیں دور حاضر کے سب سے بڑے مسائل کا سامنا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات، مالیاتی انصاف اور پائیدار ترقی پر ہونے والے عالمگیر مباحثوں میں انہیں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ ’مجھے خوشی ہے کہ آئندہ برس یہ عالمگیر مباحثے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کے نئے صدر اور ٹرینیڈاڈ کے پُرفخر شہری سفیر ڈینیس فرانسس کی قیادت میں ہوں گے۔‘
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ سفیر فرانسس کا انتخاب اس اہمیت کی گواہی ہے جو عالمی برادری غرب الہند کی صلاحیتوں اور قیادت کو دیتی ہے۔ ’یہ عالمگیر انصاف کے داعی اور جرائم کی بین الاقوامی عدالت کے مرکزی معمار آنجہانی آرتھر رابنسن سے لے کر سمندر کے قانون کے بانیوں لیناکس بالا اور انتھونی لکی تک کثیرفریقی معاملات میں ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو کی قیادت کا تسلسل ہے۔‘
میں "خواتین، ترکِ اسلحہ، ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور ان پر کنٹرول" کے معاملے میں جنرل اسمبلی کی قرارداد متعارف کرانے پر بھی ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ قرارداد امن و سلامتی کے فروغ میں خواتین کے لازمی کردار کا اعتراف ہے۔
موسمیاتی بحران سے مقابلہ
بدلتے موسموں سے پیدا ہونے والے بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اس سے نمٹنے کے لیے مزید پُرعزم اقدامات پر زور دیا اور ٹرینیڈاڈ اور ٹوبیگو کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ اس چھوٹے سے جزیرے اور کم بلندی پر واقع دوسرے ساحلی ممالک کی بقا کو خطرہ لاحق ہے۔
انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد تک رکھنے کے لئے اس دہائی میں کاربن کے اخراج میں 45 فیصد تک کمی لانا اور موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات سے خود کو بچانا ہوگا۔ ’ایسا کرنا اب بھی ممکن ہے لیکن اس کے لئے سبھی کو ہر محاذ پر عملی قدم اٹھانا ہو گا۔‘
مجوزہ موسمیاتی یکجہتی کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے تحت سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے والے ممالک اس اخراج میں کمی لانے کے لئے اضافی کوششیں کریں گے اور امیر ممالک ترقی پذیر معیشتوں کی مدد کے لئے مالیاتی اور تکنیکی وسائل جمع کریں گے۔ ’اسی لئے میں ںے ان کوششوں کی رفتار اور تاثیر بڑھانے کا ایجنڈا پیش کیا ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے دی جانے والی مدد کو فوری بڑھانا اور اس سال نقصان اور تباہی کے فنڈ کو عملی صورت دینا بھی شامل ہے۔‘
ہیٹی کی مدد
اپنے دورہ ہیٹی کا ذکر کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ کا وہاں سلامتی کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور انسانی ضروریات بڑھتی جا رہی ہیں۔ ’میں تمام شراکت داروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ مالی وسائل، تربیت اور سازوسامان کی فراہمی کی شکل میں ہیٹی کی قومی پولیس کی مدد میں اضافہ کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہیٹی کے لوگوں کو انتخابات اور مسائل کے سیاسی حل کی جانب راہ نکالنے میں مدد دینے کے لئے اجتماعی طور پر مزید بہت سا کام کرنا ہے، تاہم مضبوط جمہوری اداروں کے بغیر پائیدار سلامتی ممکن نہیں اور سلامتی کی صورتحال میں موثر بہتری لائے بغیر مضبوط جمہوری اداروں کا تصور ممکن نہیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ وہ اسی لئے سلامتی کونسل کی اجازت سے بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی کے لئے کہہ رہے ہیں جو ہیٹی کی قومی پولیس کے ساتھ مل کر ان مسلح جتھوں کا خاتمہ کر سکے جنہوں نے بے تحاشہ تشدد شروع کیا ہوا ہے۔