امن کی بحالی میں ہیٹی کو بین الاقوامی فورس کی ضرورت: گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ہفتہ کو پورٹ او پرنس پہنچنے پر ہیٹی کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جو ان کے بقول بحرانوں کے ایک ہولناک گھن چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے ہیٹی کے دارالحکومت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں گینگ وار سے نمٹنے میں قومی پولیس کی مدد کے لیے بین الاقوامی فورس کی تعیناتی پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات کے باوجود انہیں ہیٹی میں پہنچنے اور مقامی لوگوں سے ملنے کی خوشی ہے، اور ان کا سیدھا سادھا پیغام یہ ہے کہ اقوام متحدہ ان کے ساتھ ہے۔ ’میں ہیٹی کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں جو سیاسی، انسانی اور سلامتی کے بحرانوں کے ہولناک اور ایک دوسرے کو تقویت دیتے سلسلے کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
اقوام متحدہ کے سربراہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورٹ او پرنس مسلح گروہوں کے گھیرے میں ہے جو شمال اور جنوب میں دفاتر کو جانے والی بڑی سڑکوں کو بند کر رہے ہیں اور پانی، خوراک، طبی نگہداشت اور مزید سہولیاتِ زندگی پر اپنا قبضہ جما رہے ہیں۔ ’مجھے ان لٹیرے جتھوں کی موجودگی میں مقامی لوگوں خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کے غیرمتناسب اثرات پر گہری تشویش ہے۔‘
بڑے پیمانے پر پھیلے جنسی تشدد کی کڑے الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کی سنجیدگی فوری اور پائیدار توجہ کا تقاضا کرتی ہے، جس میں متاثرین اور شہری آبادی کے تحفظ اور ضروریات کو خصوصی اہمیت دینا ہے۔ ’ہمیں ایسے نئے اور مربوط طریقہ ہائے کار کی ضرورت ہے جن کی بدولت ناصرف سلامتی کی صورتحال بلکہ قانونی اور امدادی و ترقیاتی مسائل سے نمٹنے میں بھی مدد ملے۔‘
انہوں نے کہا کہ ہر دن اہم ہے اور اگر آج ہی عملی قدم نہیں اٹھائے جاتے تو عدم استحکام اور تشدد ہیٹی کے لوگوں پر کئی نسلوں تک اثرانداز ہوتا رہے گا۔ ’میں تمام شراکت داروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ مالیات، تربیت یا سازوسامان کی فراہمی کی صورت میں قومی پولیس کی مدد میں اضافہ کریں۔‘
باسکٹ فنڈ
اقوام متحدہ کے سربراہ نے ہیٹی کی پولیس کی مدد کے قومی پروگرام ’باسکٹ فنڈ‘ کے لیے عطیات کا اعلان کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لیکن ملک میں ریاستی اختیار بحال کرنے کے لئے ابھی مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ’جمہوری اداروں کی بحالی کے بغیر پائیدار سلامتی ممکن نہیں اور سلامتی کی صورتحال میں مضبوط بہتری لائے بغیر مسائل کے پائیدار اور مکمل عوامی نمائندگی کے حامل سیاسی حل ڈھونڈںا ناممکن ہو گا۔‘
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر متواتر زور دے رہے ہیں کہ وہ ہیٹی کی قومی پولیس کو جتھوں کے خلاف لڑائی میں مدد دینے کے لئے مضبوط بین الاقوامی فورس کی فوری تعیناتی کی اجازت دے۔
ہیٹی کے صدر موئز کے دو سال قبل ہوئے قتل کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس مکروہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے اور ہیٹی کو جتنا جلد ممکن ہو جمہوری نظم کی طرف واپس آنا چاہیے۔
جمہوریت کی بحالی اہم
پریس کانفرنس سے قبل سیکرٹری جنرل نے پورٹ او پرنس میں ہیٹی کے وزیراعظم، اعلیٰ سطحی عبوری کونسل، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں سے ملک میں جاری بحران کو ختم کرنے کے لئے سیاسی معاہدے کی ضرورت پر بات چیت کی اور انہیں بآور کرایا کہ سب کو مل کر جمہوری اداروں کی بحالی کے لئے سازگار حالات پیدا کرنا ہوں گے۔
ان ملاقاتوں کا حوالے دیتے ہوئے انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ کیریکوم کی نمایاں شخصیات کے گروپ کی سہولت سے ہیٹی کے سیاسی فریقین کےمابین ہونے والی حالیہ بات چیت کو سراہتے ہیں جس کا مقصد قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل اور اعلیٰ سطحی عبوری کونسل کو وسعت دینے کے لئے کسی معاہدے پر پہنچنا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ خواتین اور نوجوانوں کی بھرپور شرکت سے ہونے والی مشمولہ قومی بات چیت ہی عدم تحفظ کے خاتمے اور مسائل کے پائیدار سیاسی حل تلاش کرنے میں مدد دے گی۔
ہیٹی میں اقوام متحدہ کے دفتر (بی آئی این یو ایچ) کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا پورا نظام ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو فروغ دینے اور پُرامن اور مستحکم ماحول کی تخلیق کے لئے کام کرتا رہے گا۔
ناکافی امداد
اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہیٹی کی امدادی ضروریات بڑھ رہی ہیں جبکہ عالمی امداد ان کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ ’ہیٹی میں ہر دوسرا فرد شدید غربت اور بھوک کا شکار ہے اور اس کے پاس پینے کے صاف پانی تک باقاعدہ رسائی نہیں ہے۔ ملک میں تیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کے لئے امدادی وسائل کی فراہمی کے منصوبے کے تحت 720 ملین ڈالر درکار ہیں جبکہ اس سلسلے میں اب تک 23 فیصد مدد ہی مہیا ہو پائی ہے۔‘
انہوں نے عالمی برادری سے ہیٹی کی مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ یکجہتی اور اخلاقی انصاف کا معاملہ ہے۔
مشکل حالات میں کام کرنے والے امدادی کارکنوں کی ہمت اور لگن کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے امدادی کارکنوں پر حملوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ ’میں تمام متعلقہ فریقین سے کہتا ہوں کہ وہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کو مقدم رکھیں اور امداد کی محفوظ اور بلارکاوٹ فراہمی یقینی بنائیں۔‘