انسانی کہانیاں عالمی تناظر

گوتیرش کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری کی مذمت

مغربی کنارے میں ایک عارضی کیمپ میں بچے اور ایک شخص ملبے میں چھانٹ رہے ہیں، جس کے پس منظر میں ایک ویل چیئر اور عارضی پناہ گاہ موجود ہے۔
UNRWA/UN photo اسرائیل نے مغربی کنارے کے قریب مشرقی یروشلم میں ایریا ’سی‘ میں آبادکاری کے لیے فلسطینی گھروں کو مسمار کر دیا ہے (فائل فوٹو)

گوتیرش کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری کی مذمت

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں میں 5,500 نئے گھر بنانے کے اسرائیلی منصوبے اور بستی ایلی سے ملحقہ تین چوکیوں کو مستقل کرنے کی مذمت کی۔

بدھ کو سیکرٹری جنرل کے ترجمان کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ آباد کاری بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری جنرل نے حکومت اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع فوری طور پر بند کرے۔

بیان میں مقبوضہ مغربی کنارے کے ایریا ’سی‘ میں اسرائیلی بستیوں میں 5,500 سے زیادہ نئے ہاؤسنگ یونٹ بنانے کے منصوبوں پر پیش رفت کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں اسرائیلی قانون کے تحت بستی ایلی سے ملحقہ تین آبادکار چوکیوں کو مستقل کرنا بھی شامل ہے۔ 

آبادکاری امن میں رکاوٹ

انتونیو گوتیرش نے زور دے کر کہا کہ مشرقی یروشلم سمیت اسرائیل کی بستیوں کی مسلسل توسیع تشدد کو ہوا دینے، غیر قانونی قبضے کو مزید مضبوط کرنے، اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کو مجروع کرنے کا سبب بن رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے متنبہ کیا کہ آبادکاری 1967 سے پہلے کی حد بندی پر مبنی قابل عمل خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو ختم کر رہی ہیں اور مسئلے کے دو ریاستی حل اور ایک منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے حصول میں رکاوٹ ہیں.