انسانی کہانیاں عالمی تناظر

موسمیاتی تبدیلی: مہاجرت پر مجبور افراد کو تحفظ دینے کا مطالبہ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے نوشہرہ میں گزشتہ سال سیلاب کی وجہ افغان مہاجرین کو اپنے کیمپ چھوڑنے پڑے تھے۔
© UNHCR/Usman Ghani
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے نوشہرہ میں گزشتہ سال سیلاب کی وجہ افغان مہاجرین کو اپنے کیمپ چھوڑنے پڑے تھے۔

موسمیاتی تبدیلی: مہاجرت پر مجبور افراد کو تحفظ دینے کا مطالبہ

مہاجرین اور پناہ گزین

اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہونے والے لوگوں کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لئے کہا ہے تاکہ ان کے انسانی حقوق یقینی بنائے جا سکیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار ایان فرے کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں اور بین الاقوامی سرحدوں کے آر پار نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 

انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو اپنی تازہ ترین موضوعاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صرف 2020 میں ہی 30.7 ملین لوگ موسمی شدت کے واقعات کی بنا پر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ان لوگوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

ہر طرح کے حقوق خلاف ورزیاں

 خصوصی اطلاع کار نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہونے والے لوگوں کو اپنے انسانی حقوق کی مختلف النوع پامالیوں کا سامنا ہوتا ہے جن میں خوراک، پانی، نکاسی آب، رہائش، صحت، تعلیم اور بعض لوگوں کے لئے ان کی زندگی کا حق بھی شامل ہے۔ 

ماہر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث خاص طور پر سرحدوں کے آر پار نقل مکانی کے انسانی حقوق سے متعلق اثرت واضح اور واقعتاً پریشان کن ہیں۔ 

انہوں اس حقیقت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا کہ ہر سال سرحدوں کے آر پار نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد زمینی و سمندری سرحدی حدود پر ہلاک یا لاپتہ ہو جاتی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی اتنی ہی خوفناک ہے کہ ان میں نصف سے زیادہ اموات یورپ کی جانب اور اس کے اندر مہاجرت کے راستوں پر ہوتی ہیں جن میں بحیرہ روم کا راستہ بھی شامل ہے۔

پناہ گزینوں سے لدی ربڑ کی کشتی یونانی جزیرے لیزبوز پہنچ رہی ہے۔
© UNICEF/Ashley Gilbertson VII Photo
پناہ گزینوں سے لدی ربڑ کی کشتی یونانی جزیرے لیزبوز پہنچ رہی ہے۔

قدرتی آفات اور نقل مکانی

 خصوصی اطلاع کار کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث نقل مکانی کئی طرح کے حالات کا نتیجہ ہو سکتی ہے جن میں سطح سمندر میں اضافے جیسے سست رو یا خشک سالی جیسے اچانک پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔

ان سے متاثر ہونے والے بیشتر لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔ خواتین اور بچے قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور نقل مکانی کرنے والے لوگوں میں انہی کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

ماہر نے کہا کہ عالمی برادری موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے سبب سرحد پار نقل مکانی پر مجبور ہونے والے لوگوں کو تحفظ دینے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

قانونی تحفظ

ایان فرے نے واضح کیا کہ ایسا نہیں ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو قانونی تحفظ مہیا کرنے کے معاملے میں دنیا نے کچھ بھی نہیں کیا بلکہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر انسانی حقوق سے متعلق متعدد حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔ 

ماہر نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئیے جس میں ادارے پر زور دیا جائے کہ وہ پناہ گزینوں کی صورتحال سے متعلق کنونشن کے تحت ایک اختیاری ضابطہ وضع کرے تاکہ دنیا بھر میں بے گھری کے مسئلے سے نمٹنا اور موسمیاتی تبدیلی کے بحران سے متاثر لوگوں کو قانونی تحفظ دینا ممکن ہو سکے۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت تک وہ تمام ممالک پر زور دیں گے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بین الاقوامی سرحدوں کے آر پار نقل مکانی پر مجبور ہونے والے لوگوں کو عبوری اقدام کے طور پر انسانی بنیادوں پر ویزے فراہم کرنے کے لئے قومی سطح پر قانون سازی کریں۔